سکوت - ازقلم : رہبرتماپوری۔
سکوت -
ازقلم : رہبرتماپوری۔
برسوں بعد وہ اپنے محلے کی اسی پرانی گلی میں کھڑی تھی، جہاں اس کے آبائی مکان کی بوسیدہ دیواریں ماضی کا نوحہ پڑھ رہی تھیں۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے، اس کی نظریں دور سے اسی آشیاں کو ڈھونڈ رہی تھیں جہاں کبھی اس کا بچپن رقص کرتا تھا۔ یہ وہی مانوس آنگن تھا، جہاں وہ کبھی دال کے دانوں سے کھیلتی، محلے کی بزرگ عورتوں کے ساتھ کھلکھلاتی اور معصوم شرارتیں کرتی تھی۔ یہی وہ چہار دیواری تھی، جہاں والد کی شفقت اور والدہ کی دعاؤں نے اسے زندگی بھر کا سکون بخشا تھا۔
مگر وقت کی بے رحم دھار نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ وہ کئی سالوں تک اس چوکھٹ پر نہ آسکی؛ کیونکہ اس کے سگے بھائی نے مادی منفعت اور دولت کی اندھی ہوس میں اس پر گھر کے دروازے بند کر دیے تھے۔ رشتوں کی ہر چمک، ہر مشترکہ خوشی وقت کے ساتھ ایک گہرے اور سنگین سکوت میں دفن ہو گئی تھی۔
آج اس ویران حویلی کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس نے محسوس کیا کہ محبت صرف ظاہری رشتوں کی محتاج نہیں ہوتی؛ یہ تو دل کی مٹی میں پنپتی ہے۔ مادی دوریاں محبت کو ختم نہیں کر سکتیں، بلکہ خیالات کے دریچوں سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔ دولت کی چمک عارضی ہے، مگر جذبوں کی سچائی لافانی ہے۔ یہی وہ کڑوا سچ تھا، جو اس طویل خاموشی کے پردے میں چھپا ہوا تھا۔
حالات بدل چکے تھے، چہرے بدل گئے تھے، مگر دل کی مٹی میں دبے رشتے آج بھی اپنی جگہ قائم تھے۔ اب وہ پورا آنگن اگرچہ بالکل اجاڑ، ویران اور ساکت تھا، لیکن اس کے ہر گوشے سے ماضی کی محبت اور اپنائیت کی گونج صاف سنائی دے رہی تھی۔ یہ ایک ایسا الٰہی سکوت تھا، جو زبان سے بنا کچھ کہے بھی روح کو صدیوں کی داستان سنا رہا تھا۔
Comments
Post a Comment