ادراک فاؤنڈیشن کی مطالعے کی طرف واپسی کی ایک سنجیدہ کوشش -علامہ شبلی کی نایاب کتاب " الفاروق " پر کوئز ایک مثالی و فکری اقدام - ازقلم : سلیمان شاہین۔


ادراک فاؤنڈیشن کی مطالعے کی طرف واپسی کی ایک سنجیدہ کوشش -
علامہ شبلی کی نایاب کتاب " الفاروق " پر کوئز ایک مثالی و فکری اقدام - 
 ازقلم : سلیمان شاہین۔

موجودہ دور جس میں کیا نوجوان کیا بوڑھے سب اسکرین، شارٹ ویڈیوز ریلس سے چمٹے بیٹھے ہیں جن ہاتھوں میں کتاب ہونی چاہیے تھی اب موبائل چھوٹتا نہیں، کتاب سے دوری کی بناء پر ذہن غور و فکر سے خالی ہوتے جا رہے ہیں، معلومات کے انبار موجود ہیں، لیکن شعور کی کمی بڑھتی جا رہی ہے۔ 
کتابوں سے دوری نے ہماری فکری بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ مطالعہ ختم ہوتا ہے تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی مدھم پڑنے لگتی ہے۔ پھر انسان ہر نعرے، ہر جذباتی تقریر، ہر سوشل میڈیا مہم اور ہر مصنوعی ہیرو سے جلد متاثر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جس ذہن کی تربیت کتاب سے نہ ہوئی ہو، وہ وقتی جذبات کا شکار جلد بن جاتا ہے۔ آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے مطالعے کو صرف امتحانات تک محدود کر دیا اکیڈمی کی کتابوں کے علاؤہ نوجوان کوئی کتاب کو ہاتھ نہیں لگاتے اور بڑوں کا تو پوچھنا ہی کیا آخری بار کب کتاب کھول کر پڑھا تھا اکثر کو یاد تک نہیں ہوگا، جبکہ کتاب دراصل انسان کو زندگی سمجھنا سکھاتی ہے۔ کتاب انسان کے شعور کو جگاتی ہے، نظر کو وسعت دیتی ہے اور اسے ہجوم سے الگ سوچنے پر آمادہ کرتی ہے۔ ایسے ہی فکری قحط کے ماحول میں ادراک فاؤنڈیشن کی جانب سے الفاروق پر آل انڈیا کوئز مقابلے کا انعقاد محض ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک فکری تحریک محسوس ہوتا ہے۔
یہ اقدام اس لیے بھی قابلِ ستائش ہے کہ اس نے نوجوانوں کو دوبارہ کتاب کی طرف بلانے کی کوشش کی ہے۔ وہ نوجوان جو گھنٹوں اسکرین پر وقت گزارتے ہیں، اگر ان کے ہاتھ میں ایک علمی و تحقیقی فکتاب آ جائے تو یقیناً ان کے ذہن، ان کی سوچ اور ان کے کردار میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ الفاروق کوئی عام کتاب نہیں۔ یہ صرف حضرت عمر فاروقؓ کی سوانح نہیں بلکہ اسلامی عدل، حکمرانی، قیادت، احتساب، عوامی خدمت، سیاسی بصیرت اور انسانی فلاح کا ایسا عملی نصاب ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ انسان صرف تاریخ نہیں پڑھ رہا بلکہ ایک زندہ نظامِ حیات کو سمجھ رہا ہے۔ ہر باب فکر و آگہی کی ایک نئی کھڑکی کھولتا ہے، ہر واقعہ انسان کو اپنے حال پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے، الفاروق پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ اخلاق و کردار، علم و عمل، فکر و نظر عدل اور قیادت سے بنتی ہیں۔
الفاروق کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ یہ صرف ماضی کو بیان نہیں کرتی بلکہ قاری اس سے حال اور مستقبل کی تعمیر کی راہیں تلاش لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اس کتاب کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں جب ملت فکری انتشار، سیاسی بے وزنی، سماجی کمزوری اور قیادت کے بحران سے گزر رہی ہو، وہاں حضرت عمر فاروقؓ جیسی شخصیت کا مطالعہ محض تاریخ پڑھنا نہیں بلکہ خود احتسابی کا عمل ہے۔ قابلِ مبارک باد ہے ادراک فاؤنڈیشن کی پوری ٹیم، خصوصاً شبیع الزماں صاحب، جنہوں نے اس مقابلے کے ذریعے مطالعے کو ایک تحریک بنانے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ دنوں پونہ میں ان سے ملاقات ہوئی ادراک فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد پر خاصی گفتگو ہوئی یہ لوگ جس طرح زمینی سطح پر خاموشی کے ساتھ جس طرح کام کر رہے ہیں سن کر بڑی خوشی ہوئی، شبیع بھائی نے اس سے پہلے تمیم انصاری کی شہره آفاق کتاب "قافلہ کیوں لٹا" پر کوئز لیا تھا جس میں دو ہزار سے زائد لوگوں نے حصہ لیا تھا اس کی روداد سننے ملی بڑی حیرت ہوئی جان کر کہ ملک کے ایسے شہروں سے لوگوں نے حصہ لیا جہاں اردو جاننے والے خال خال نظر آتے ہیں، کس طرح لوگوں نے کتاب پر محنت کی اسے سمجھا پڑھا یاد کیا جس کے فوائد یقیناً آئندہ دنوں میں مثبت دیکھنے ملیں گے۔ اسی طرح کی اب یہ ان کی دوسری کوشش ہے جس میں ان کے انتخاب کی داد دینا ضروری ہے ایسی کتاب کا انتخاب جسے پڑھ کر قاری سوچنے سمجھنے پر مجبور ہو جائے محض حضرت عمر فاروق کی سوانح سے واقفیت نہ کرے بلکہ مکمل اسلامی نظام کو سمجھے۔ شبیع الزاماں صاحب نے ایک حقیقت بیان کی کہ ہم بڑے بڑے جلسے کرتے ہیں، لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، وقتی طور پر مجمع جمع ہو جاتا ہے، جذبات ابھرتے ہیں، نعرے لگتے ہیں، مگر بحیثیتِ امت ہمیں اس کا مستقل فائدہ کم ہی حاصل ہوتا ہے، اسی لیے ہم نے سوچا کہ اگر اسی سرمایہ کو کتاب، مطالعہ اور شعور سے جوڑ دیا جائے تو شاید نوجوانوں کی سوچ بدل سکے۔
یہ دراصل ایک نہایت دور اندیش فکر ہے۔ کیونکہ قوموں کی تعمیر جلسے جلوس نعرے بازی لمبی لمبی تقریروں سے نہیں بلکہ علم و فکر کی بالادستی سے ہوتی ہے مطالعہ کا شوق عقل کو آنکھیں فراہم کرتی ہیں جو خود دیکھ کر فیصلہ کرسکے۔
لہٰذا ہم نوجوانوں، طلبہ، اہلِ علم اور سنجیدہ فکر رکھنے والے تمام افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ اس موقع کو محض ایک مقابلہ نہ سمجھیں بلکہ اپنے فکری سفر کی شروعات بنائیں۔ کتاب خریدیں، اسے پڑھیں، سمجھیں، نوٹس بنائیں، گفتگو کریں، اور اپنے ذہن کو اس روشنی سے آشنا کریں جس سے قومیں زندہ ہوتی ہیں۔
کیونکہ کتابیں صرف معلومات نہیں دیتیں…
بلکہ انسان کو انسان بناتی ہیں۔
مزید تفصیلات کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر ربط کریں
7350234955

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔