علم و حیا سے آراستہ خواتین ہی ملت کے روشن مستقبل کی ضامن۔۔۔۔۔ مفتی عبد اللہ قاسمی - مدرسہ ام الکرام کریم للبنات، پورنیہ کے روح پرور سالانہ اجلاس میں تعلیمِ نسواں، حفظِ قرآن اور علومِ حدیث کی عظمت پر علماءِ کرام کے ایمان افروز اور بصیرت افروز خطابات۔


پورنیہ: (پریس ریلیز) تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ جب بھی علم کی شمعیں روشن ہوئیں، تہذیبوں نے عروج پایا، معاشرے مہذب ہوئے اور نسلوں کو فکری و روحانی استحکام نصیب ہوا۔ اسلام وہ واحد آفاقی مذہب ہے جس نے سب سے پہلے انسان کو “اقْرَأْ” کا پیغام دے کر علم کو عبادت، شعور کو نعمت اور قلم کو عزت و عظمت عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں مرد و عورت دونوں کی تعلیم کو یکساں اہمیت حاصل ہے، بلکہ خواتین کی دینی و اخلاقی تربیت کو ایک صالح معاشرے کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ایک تعلیم یافتہ، دیندار، باحیا اور باشعور خاتون صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک نسل، ایک خاندان اور ایک معاشرے کی معمار ہوتی ہے۔ اگر مائیں علمِ دین، فکرِ اسلامی اور اخلاقِ نبوی ﷺ سے آراستہ ہوں تو گھروں میں ایمان کی خوشبو، کردار کی پاکیزگی اور محبت و انسانیت کی روشنی خود بخود عام ہوجاتی ہے۔

انہی عظیم دینی، تعلیمی اور اصلاحی مقاصد کے پیشِ نظر مدرسہ ام الکرام کریم للبنات، حضرت گنج لائن بازار، پورنیہ کے زیرِ اہتمام سالانہ عظیم الشان پروگرام “درسِ ختم بخاری، تقسیمِ اسناد اور جلسۂ حفظِ قرآن” نہایت شان و شوکت، روحانیت اور علمی وقار کے ساتھ پاکیزہ میرج ہال میں منعقد ہوا۔ یہ پروگرام صرف ایک تعلیمی تقریب نہیں بلکہ علمِ دین، شعورِ اسلامی اور تربیتِ نسواں کی ایک حسین و جاندار تصویر محسوس ہورہا تھا۔ تقریب میں علماءِ کرام، دانشوران، معززینِ شہر، سرپرستانِ مدارس، والدین، اساتذہ، خواتین اور عوام الناس کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ پورا ماحول نورِ قرآن، محبتِ رسول ﷺ، ذکر و اذکار اور علمی سنجیدگی سے اس قدر معطر تھا کہ ہر دل پر روحانیت کی کیفیت طاری تھی۔

پروگرام کا آغاز قاری ابو حنظلہ کی پرسوز اور روح میں اتر جانے والی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس نے محفل کے ماحول کو نورانیت سے بھر دیا، جبکہ مولانا مشتاق احمد ندوی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں محبت و عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جس سے سامعین کے دل عشقِ نبوی ﷺ سے سرشار ہوگئے۔

اس مبارک اور یادگار موقع پر جامعہ عائشہ نسواں، حیدرآباد کے ممتاز شیخ الحدیث حضرت مفتی عبداللہ قاسمی صاحب نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی۔ انہوں نے طالبات سے مختلف قرآنی آیات کی تلاوت کروا کر ان کی قرأت، تجوید، مخارج اور روانی کا جائزہ لیا، جس نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔ بعد ازاں ایک طالبہ نے بخاری شریف کی آخری حدیث پیش کی، جس پر مفتی عبداللہ قاسمی صاحب نے نہایت دلنشیں، مدلل، عالمانہ اور بصیرت افروز انداز میں خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ جن فکری انتشار، اخلاقی زوال اور روحانی کمزوریوں کا شکار ہے، ان سب کا حقیقی علاج قرآن و حدیث کی تعلیمات میں مضمر ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر خواتین علمِ دین سے آراستہ ہوجائیں تو گھروں میں رحمت، تربیت، حیا، ادب اور سنتِ نبوی ﷺ کی بہاریں لوٹ آئیں، کیونکہ ایک ماں دراصل پوری نسل کی پہلی درسگاہ اور معاشرے کی خاموش معمار ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ دینی مدارسِ نسواں ملتِ اسلامیہ کی عظیم امانت ہیں، جہاں طالبات کو صرف کتابی علوم نہیں بلکہ کردار کی پاکیزگی، فکر کی بالیدگی، اخلاق کی بلندی، حیا کی عظمت اور خدمتِ دین کا شعور عطا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ آج کی طالبات نہایت وقار، اعتماد، فہمِ دین اور علمی ذوق کے ساتھ قرآن و حدیث کے علوم حاصل کررہی ہیں، جو ملت کے روشن اور تابناک مستقبل کی علامت ہے۔

مدرسہ کے بانی و ناظم مولانا محمد عتیق الرحمن ندوی صاحب نے اپنے جامع، مؤثر اور فکر انگیز خطاب میں فرمایا کہ خواتین کی دینی تعلیم دراصل پورے معاشرے کی اصلاح، تہذیب اور بقا کی ضمانت ہے۔ انہوں نے مدرسہ کی تعلیمی، تربیتی، اصلاحی اور دعوتی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس سال سات طالبات نے دورۂ حدیث مکمل کیا جبکہ سات طالبات حفظِ قرآنِ کریم کی عظیم سعادت سے سرفراز ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ کا مقصد ایسی باوقار، باحیا، باکردار اور باصلاحیت خواتین تیار کرنا ہے جو اپنے گھروں کو دینی تربیت کا مرکز اور معاشرے کو خیر و اصلاح کا گہوارہ بناسکیں۔

تقریب میں ڈاکٹر اشتیاق احمد شاکر نے مفتی احمد حسین قاسمی کا علمی و فکری پیغام نہایت خوبصورت اور دلنشیں انداز میں پیش کیا، جس سے سامعین بے حد متاثر ہوئے۔ معروف عالم، ادیب اور انگریزی زبان و ادب کے اسکالر مولانا عاقب صفی قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ موجودہ دور میں دینی طالبات کے لیے عصری زبانوں اور جدید تقاضوں سے واقفیت بھی ضروری ہے، تاکہ وہ علمی، فکری اور دعوتی میدان میں اعتماد کے ساتھ اسلام کا صحیح تعارف پیش کرسکیں۔

مدرسہ کے سرپرست حضرت مولانا حافظ محمد خواجہ نذیرالدین سبیلی صاحب کا خصوصی پیغام بھی سنایا گیا، جس میں انہوں نے مدرسہ کی خدمات کو ملت کے لیے ایک عظیم سرمایہ قرار دیتے ہوئے طالبات، اساتذہ اور منتظمین کے لیے دعاؤں کا اظہار کیا۔

اس موقع پر مولانا کفیل ندوی، قاضی محمد ارشد قاسمی، مولانا محمد منظور نعمانی، مولانا مبارک حسین مفتاحی، مولانا محمد افتخار الزمان قاسمی،مولانا منور حسین ندوی مفتی باب الدین قاسمی۔ مفتی انتخاب ندوی، مولانا شاداب نور ندوی ، مولانا عمیر انور المظاہری، مولانا علاء الدین ندوی اور حکیم عاشق الٰہی سمیت دیگر علماء و دانشوران نے بھی خطاب فرمایا اور طالبات کی علمی و دینی کامیابیوں کو ملت کے لیے خوش آئند قرار دیا۔

جلسہ کی کامیاب نظامت قاری امیر الاسلام نے نہایت شائستگی، وقار اور خوبصورتی کے ساتھ انجام دی، جبکہ مولانا آصف قاسمی (صدر مدرس) نے تمام مہمانوں، علماء، معاونین، سرپرستوں اور شرکائے پروگرام کا شکریہ ادا کیا۔

پروگرام کو کامیاب بنانے میں مدرسہ کے نگراںِ اعلیٰ ماسٹر نور الہدیٰ، مفتی جاوید اشرف, مفتی حبیب الرحمن قاسمی، مولانا مجتہد اعظم ندوی، قاری شائق ۔حافظ ناظم, قاری رہبر ,قاری اسلم, ما سٹر اسلم ,حافظ عبدالرحمن، قاری عبدالماجد،حافظ عابد, محمد ساجد، معلمین، معلمات اور کارکنان کی خدمات نمایاں اور لائقِ تحسین رہیں۔

یہ عظیم الشان اور ایمان افروز سالانہ پروگرام اس حقیقت کا روشن اعلان تھا کہ دینی مدارسِ نسواں محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ ایمان، علم، حیا، تہذیب، کردار اور صالح معاشرے کی تعمیر کے، مضبوط مراکز ہیں، جہاں سے قرآن و سنت کی روشنی نسلوں کے دلوں میں منتقل ہو رہی ہے اور ملتِ اسلامیہ کے مستقبل کو تابناک بنارہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔