قربانی ہر سکنڈ منٹ دینی ہے - ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی، (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)
قربانی ہر سکنڈ منٹ دینی ہے -
ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی،
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)
قربانی ہر سال صرف بکرا اور بیل وغیرہ ذبح کرنے کا نام نہیں ہے اور نہ قربانی ختم ہو جاتی ہے- بلکہ ایک مسلمان کو اپنی زندگی کے ہر سکنڈ منٹ ، دن و رات ، صبح وشام ہر دن ہر ہفتہ ہر مہینہ اور ہر سال اپنی اپنی موت کے آخری لمحہ تک غلط خواھشات اور خلاف اسلام ہر عمل کو چھوڑنے کی قربانی دینی ہے تبھی صحیح اسلام پر عمل ہوگا- عید الاضحی تو ہر سال صرف زندگی بھر اللہ کی اطاعت کرنے کے عہد کی یاد دہانی ہے-
یہ کونسا اسلام ہے کہ عین عید کے دن عید کی نماز جو بعض علماء کے نزدیک سنت مؤکدہ اور بعض کے نزدیک واجب ہے ، وہ تو پڑھی جائے مگر اسی دن کی فجر ظہر عصر مغرب اور عشاء نہ پڑھی جائے - اور پھر اللہ سے وہی غداری جو بے شمار مسلمان مرد و عورت بوڑھے و بچے ، صبح وشام مسلسل کر رہے ہیں - یعنی سال بھر نماز نہ پڑھنا ، ماں باپ کی نافرمانی کرنا جو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے ، حلال حرام کی پروا کئے بغیر کمانا یا فضول خرچی کرنا وغیرہ وغیرہ بد قسمتی سے تقریبا ہر مسلمان نے اپنی اپنی آسانی سے بھرا نیا اسلام بنا لیا ہے- میں نے کئی سو عرب و عجم کے مسلمانوں سے صرف نماز کے بارے میں پوچھا کیا آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہو تو مختلف مسلمانوں نے پوری بے شرمی سے مسکرا کر مختلف جوابات دیے - بعض نے کہا پانچ تو نہیں دو پڑھ لیتا ہوں بعض نے تین یا چار کہا - اور بعض نے پورے اطمینان سے کہا جمعہ کو جمعہ پڑھ لیتا ہوں - میرا سوال یہ ہے کس نے آپ کو یہ حق دیا ہے کہ آپ اپنی مرضی سے نماز کم پڑہیں - آگے بڑھنے سے پہلے آپ بتائیے کہ آپ کس قسم کے مسلمان ہیں؟
کیا اسلام صرف نماز پڑھنے کا نام ہے؟ ھرگز نہیں - انسانی زندگی کی ہر بات قرآن وحدیث کے مطابق کرنے کا نام اسلام ہے - اس اسلام سے دیندار مسلمان بھی محروم ہیں- جو جس دینی جماعت سے تعلق رکھتا ہے وہ اس لائن کے اسلام پر چل رہا ہے اور اسی کو پورا اسلام سمجھ رہا ہے- نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ( الحکمة ضالة المؤمن حیث وجد ہا فھو أحق بھا- ہر عقلمندی کی بات مسلمان کی کھوئی ہوئی دولت ہے وہ جہاں سے مل جائے تو ایک مسلمان اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے-
خود عقلمندی کیا ہے؟
عقلمندی ہر وہ بات ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اور عقلمندی ہر وہ بات ہے جس سے قرآن وحدیث میں منع کیا گیا ہے-
اس کے علاوہ دنیا بھر کے بڑے سے بڑے فلسفی اور مفکر کی بات صرف بیوقوفی اور پاگل پن ہے اگر اس کی وہ بات قرآن وحدیث کے خلاف ہے-کیونکہ اس نے اس دنیا کی کوئی چیز بھی نہیں بنائی ہے صرف اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے لھذا صرف اللہ تعالی ہی بتا سکتا ہے کہ کس چیز کو کس طرح سے استعمال کرنا ہے تاکہ وہ استعمال نقصان نہ پہونچائے-
مختصر یہ کہ ہماری ہر عادت قرآن وحدیث کے حکم کے مطابق ہو جائے اور اس اہم مقصد کے لئے ہم ہر طرح کی قربانی دے دیں- نبی صلی اللہ علیہ و سلم کاارشاد ہے ( لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت به- تم میں سے کسی کا ایمان صحیح نہیں ہے جب تک اس کی ہر خواہش اس دین کے
تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں۔
کیا ہم سب ا س کے لئے تیار ہہں؟
Comments
Post a Comment