فاروق سید صاحب — ایک عہد کا اختتام، ایک فکر کی شروعات - سید فاروق احمد قادری۔


فاروق سید صاحب — ایک عہد کا اختتام، ایک فکر کی شروعات -
سید فاروق احمد قادری۔

جانے والے کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتے 
جانے والوں کی یاد اتی ہے 



19 مئی 2026 کو فاروق سید صاحب کے انتقال کی خبر نے صحافتی، ادبی اور سماجی حلقوں کو غمزدہ کر دیا۔ وہ صرف ایک صحافی یا مدیر نہیں تھے بلکہ ایک ایسی فکر کا نام تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی نئی نسل کی تربیت، شعور اور رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔

فاروق سید صاحب نے اُس وقت “بیل بوٹے” جیسا خوبصورت اور معیاری میگزین شروع کیا، جب نوجوان نسل کو مثبت راستہ دکھانے والے پلیٹ فارم بہت کم تھے۔ انہوں نے صرف رسالہ نہیں نکالا بلکہ بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں ادب، تہذیب، اخلاق اور شعور کے بیج بوئے۔

جس طرح اُن کے میگزین کا نام “بیل بوٹے” تھا اور بیل بوٹے مسلسل پروان چڑھ کر ایک خوبصورت شکل اختیار کرتے ہیں، اُسی طرح فاروق سید صاحب نے نئی نسل کی ذہنی، ادبی اور اخلاقی تربیت کر کے اُنہیں علم و شعور کی روشنی میں پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ تعلیم ہی انسان کو حقیقی پرواز عطا کرتی ہے، اور باشعور نسل ہی قوم کا روشن مستقبل بناتی ہے۔

آج جو کئی نوجوان قلم، تعلیم اور سماجی شعور کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں، اُن میں کہیں نہ کہیں فاروق سید صاحب کی محنت اور رہنمائی شامل ہے۔

انہوں نے صحافت کے میدان میں بھی اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ سماجی یکجہتی، قومی ہم آہنگی، سیاسی بیداری اور معاشی مسائل پر ان کی تحریریں صرف الفاظ نہیں بلکہ قوم کے درد کی ترجمانی ہوتی تھیں۔ وہ ایسے قلمکار تھے جو سیاست کو صرف اقتدار کی نظر سے نہیں بلکہ عوام کی بھلائی اور ملک کی ترقی کے زاویے سے دیکھتے تھے۔

معاشی حالات پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اگر کسی قوم کو مضبوط بنانا ہے تو اس کی نئی نسل کو تعلیم، شعور اور اخلاق سے آراستہ کرنا ہوگا۔ ان کا ماننا تھا کہ غربت صرف پیسوں کی کمی کا نام نہیں بلکہ سوچ، تعلیم اور رہنمائی کی کمی بھی ایک بڑی غربت ہے۔

آج جب سوشل میڈیا اور مادہ پرستی کے دور میں نوجوان نسل مختلف چیلنجز کا شکار ہے، ایسے وقت میں فاروق سید صاحب جیسے لوگوں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ قلم صرف خبر دینے کے لیے نہیں بلکہ نسلیں بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی تحریریں، ان کی سوچ، ان کا میگزین “بیل بوٹے” اور ان کے تیار کیے ہوئے شاگرد ہمیشہ انہیں زندہ رکھیں گے۔ یقیناً یہ اُن کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی فکر آج بھی زندہ ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے امین ثم امین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔