میری امی "میری پہلی استاد"۔ از قلم : رہبر تماپوری۔
میری امی "میری پہلی استاد"
از قلم : رہبر تماپوری۔
بات بہت پرانی ہے، جب میرا شعور ابھی ناپختہ تھا اور میں رنگوں کی تمیز سے ناواقف تھا۔ میری چھوٹی سی کائنات صرف میری ماں کے گرد گھومتی تھی۔ سردیوں کی ایک سنہری دوپہر آج بھی میری یادوں میں تازہ ہے، جب امی نے صحن میں چٹائی بچھائی اور مجھے اپنے پاس بٹھایا۔ ان کے ایک ہاتھ میں لکڑی کی تختی تھی اور دوسرے میں قلم۔ وہ دن میرا پہلا تعلیمی سبق تھا، جہاں میری امی میری پہلی باقاعدہ استاد بن کر میرے سامنے جلوہ گر ہوئیں۔
امی نے تختی پر پہلا حرف "الف" لکھا۔ جب میرے ننھے ہاتھوں نے قلم پکڑنے کی کوشش کی تو وہ لرز رہے تھے۔ امی نے کمالِ شفقت سے میرا ہاتھ پکڑا اور لکڑی پر قلم چلانا سکھایا۔ وہ تختی پر صرف حروف نہیں کرید رہی تھیں، بلکہ میرے اندر اعتماد کی شمع روشن کر رہی تھیں۔ جب کبھی میں غلطی کرتا تو وہ مسکرا کر کہتیں: "بیٹا، ہمت نہ ہارو، کوشش جاری رکھو۔" ان کے اسی حوصلے اور پیار نے مجھے پہلی بار لفظوں کی پہچان اور خود پر اعتماد کرنا سکھایا۔
وقت گزرتا گیا اور یہ سفر تختی سے اسکول کی دہلیز تک جا پہنچا۔ اسکول کا نام سنتے ہی میرے دل میں ایک انجانا سا خوف گھر کر لیتا۔ امی ہر صبح محبت سے مجھے تیار کرتیں، میرا بستہ سنبھال کر دیتیں اور ماتھا چوم کر کہتیں: "بیٹا، آج پورا دن اسکول میں دل لگا کر بیٹھنا۔" مگر میرا دل تو گھر کی پرسکون چھاؤں میں تھا۔ میں ہر روز بہانے تراشتا، کبھی اسکول جاتے ہی بھاگ آتا، تو کبھی کسی کی مدد لے کر دوپہر سے پہلے ہی گھر پہنچ جاتا۔
امی میرا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر غصہ کرنے کے بجائے بڑی شفقت سے کہتیں: "آج تو تم واپس آ گئے ہو، لیکن کل ہم پھر کوشش کریں گے۔" یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہا۔ کبھی میں روتا ہوا واپس آتا تو کبھی کسی کے ذریعے پیغام بھجوا کر تھوڑی دیر بعد ہی گھر کی راہ لیتا۔ اس وقت مجھے لگتا تھا کہ شاید مجھے زبردستی گھر سے دور رکھا جا رہا ہے، لیکن آج جب میں ماضی کے جھروکوں میں جھانکتا ہوں، تو سمجھتا ہوں کہ ماں کی وہ حکمتِ عملی دراصل ایک ابدی سائبان تھی۔ ماں نے کبھی اپنا دل سخت نہیں کیا تھا، بلکہ وہ جانتی تھیں کہ زندگی ایک طویل اور کٹھن سفر ہے، جس کے لیے مجھے تیار کرنا ضروری تھا۔ آج مجھے یہ بات پوری طرح سمجھ آتی ہے کہ ماں کا وہ اعتماد اور تربیت ہی میرا اصل سرمایہ ہے، جو مجھے آج بھی ہر مشکل میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ماں وہ گھنی چھاؤں ہے جو ہر حال میں ہمارا ساتھ دیتی ہے۔ آج جب میں اپنی زندگی کی کامیابیوں کو دیکھتا ہوں، تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ ماں کی پہلی دعا اور پہلا سبق ہی میرے ہر قدم کا اصل سہارا بنا۔
Comments
Post a Comment