ایک شام شعرائے ریختہ کے نام"- بیجاپور میں عظیم الشان اور یادگار مشاعرہ منعقد۔


وجئےپور : (راست) ادارۂ ادب اسلامی ہند، شاخ بیجاپور گزشتہ کئی برسوں سے شہر میں شعری، ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے اور ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ ادبی نشستوں اور شعری محفلوں کا انعقاد کرتا آرہا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر بروز ہفتہ ، 9 مئی 2026، شام 7:30 بجے ادارہ ھٰذاکے زیر اہتمام ایک عظیم الشان مشاعرہ بعنوان “ایک شام شعرائے ریختہ کے نام” منعقد ہوا۔مشاعرہ کی صدارت معروف شاعر جناب مومنؔ بیجاپوری نے فرمائی، جبکہ ضلع سول ہاسپٹل کے چیئرمین جناب الیاس صدیقی اور جناب معین الدین کندگل مہمانانِ خصوصی کے طور پر شریک رہے۔ نظامت کے فرائض جناب سیف اوٹی نے نہایت عمدگی کے ساتھ انجام دیے۔ ادارۂ ادب اسلامی ہند کے سیکریٹری جناب آصف بالسنگ نے نےصدر، شعرا اور سامعین کا استقبال کے ساتھ افتتاحی کلمات پیش کئے۔ انہوں نے افتتاحی کلمات میں ادارہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادارہ شعر و ادب کے ذریعے عوام میں ایسی فکر پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو انسان کو انسانیت سے جوڑے، بھائی چارہ کو فروغ دے اور اسلامی اقدار کو تعمیری ادب کے ذریعے متعارف کرائے۔ اسی مقصد کے تحت ہر ماہ ادبی و شعری نشستوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔انہوں نے بین الاقوامی شہرت یافتہ اردو ویب سائٹ “ریختہ” پر بیجاپور کے شعراء کا کلام شامل ہونے پر خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے تمام شعراء کو مبارکباد پیش کی ۔مشاعرہ میں بیجاپور کے اُن شعراء کو خصوصی تہنیت پیش کی گئی جن کا کلام بین الاقوامی شہرت یافتہ ادبی ویب سائٹ “ریختہ” پر شائع ہوا ہے۔ ان شعراء میں جناب آصفؔ اقبال، جناب مجیب احمد مجیبؔ اور محترمہ مہرو النساء مہروؔ شامل ہیں، جن کے اعزاز میں یہ خصوصی شعری نشست منعقد کی گئی۔ مہمانِ خصوصی جناب معین الدین کندگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ بیجاپور کی سرزمین ہمیشہ شعر و ادب کے لیے سازگار رہی ہے اور عادل شاہی عہد سے لے کر آج تک یہ ادبی روایت مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے عادل شاہی دور کے شعراء نصرتی، ہاشمی اور علی عادل شاہ ثانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج آصفؔ اقبال، محترمہ مہرو النساء مہروؔ اور مجیب احمد مجیبؔ جیسے شعراء کو دیکھ کر بیجاپور کی ادبی و شعری روایت پر رشک محسوس ہوتا ہے۔صدرِ مشاعرہ جناب مومنؔ بیجاپوری نے اپنے صدارتی خطاب میں تمام شعراء کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریختہ جیسے عالمی ادبی پلیٹ فارم پر کسی شاعر کا کلام شائع ہونا نہایت فخر کی بات ہے اور یہ اعزاز بیجاپور کے شعراء کو حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریختہ اردو شعر و ادب کا ایک عظیم ذخیرہ ہے جہاں قدیم و جدید تمام مستند شعراء و ادباء کی تصانیف دستیاب ہیں، جن سے اہلِ ذوق بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مشاعرہ کو بے حد کامیاب قرار دیا۔
مشاعرہ میں شہر کے ممتاز شعراء نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو خوب محظوظ فرمایا۔ جن میں آصفؔ اقبال، محمود انعامدار محمودؔ، مومنؔ بیجاپوری، اقبال خادمؔ، مجیب احمد مجیبؔ، مہرو النساء مہروؔ، بشرؔ بیجاپور، اقبال احمد، صاحب لال نداف، جاوید احمد جایدؔ، عبداللہ راشد ذبیحؔ، سید ابراہیم حسین حسینؔ اور مطہر شاہ حسنؔ شامل تھے، جنہوں نے اپنے بہترین، فکر انگیز اور دلنشیں کلام سے محفل کو یادگار بنا دیا۔محفل میں ادب نواز حضرات اور سامعین کی بڑی تعداد شریک رہی، جنہوں نے شعراء کے کلام کو خوب سراہا اور داد و تحسین سے نوازا۔آخر میں ڈاکٹر عبدالستار عاجز نے تشکرانہ کلمات پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں، شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔