ظہیرآباد تا شیخاپور، ملچلمہ اور تانڈور روڈ کی زبوں حالی: عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز، پانچ سالہ احتجاج کے باوجود حکومت و حکام بے حس۔
ظہیرآباد 19/مئی ( نمائندہ) اہلیان شیخاپور ، ملچلمہ ،رام نگر کالونی ،ہوتی تانڈا، وجملہ مسافران تانڈور کی اطلاع کے بموجب ،ڈرائیور کالونی، رام نگر، ہوتی ٹانڈا، ڈبل بیڈ روم مکانات، شیخاپور اور ملچلمہ کے ہزاروں رہائشی شدید عذاب میں چل رہے ہیں حادثات روز کا معمول بن چلا ہے۔ مریضوں اور اسکولی بچوں کی زندگی داؤ پر ہے۔
تانڈور جانے والے مسافر متبادل راستوں پر زائد ایندھن اور اخراجات کا بوجھ اٹھانے پر مجبور، ناواقف راستوں کے باعث حادثات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔
اس ضمن میں ایم ایل اے کے۔ مانک راؤ، ایم پی سریش کمار شیٹکار اور حکومتِ وقت سے عوام کا دلپذیر مطالبہ ہے کہ "اب وعدے نہیں، سڑک چاہیے!"
تفصیلات کے بموجب ظہیرآباد سے شیخاپور (8 کلومیٹر) اور وہاں سے آگے ملچلمہ تک (4 کلومیٹر) کا مجموعی طور پر 12 کلومیٹر کا طویل ترین اہم ترین راستہ اس وقت سڑک نہیں بلکہ "موت کا جال" بن چکا ہے۔ واضح رہے کہ یہ سڑک صرف مقامی دیہاتوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ظہیرآباد سے تانڈور جانے والی ایک اہم اور مرکزی شاہراہ (Main Road) ہے۔ سال 2012ء میں تعمیر کی گئی یہ سڑک ابتدائی آٹھ سال تو کسی حد تک بہتر رہی، لیکن گزشتہ پانچ سے چھ سالوں سے یہ پورا راستہ انتہائی خستہ حالی اور زبوں حالی کا شکار ہے۔ سڑک پر اب ڈامر (تارکول) کا نام و نشان نہیں بچا، بلکہ ہر طرف گہرے اور خطرناک گڑھے نظر آتے ہیں جو آئے دن معصوم جانوں کے لیے حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔
تانڈور کے مسافروں پر معاشی بوجھ اور حادثات کا خطرہ:
یہ روڈ ظہیرآباد سے تانڈور کو جوڑنے والا سب سے اہم اور قریبی راستہ ہے۔ سڑک کی بدترین حالت کی وجہ سے تانڈور جانے اور وہاں سے آنے والی گاڑیاں اور مسافر اب اس تباہ حال روڈ کو چھوڑ کر دوسرے متبادل اور طویل راستوں سے سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے نتیجے میں:
1. ایندھن اور اخراجات کا نقصان: طویل راستوں کے انتخاب کی وجہ سے گاڑیوں کا ڈیزل اور پیٹرول دگنا ضائع ہو رہا ہے، جس سے غریب ڈرائیوروں اور مالکان پر بھاری معاشی بوجھ (اضافی لاگت) پڑ رہا ہے۔
2. ناواقف راستوں پر حادثات: دوسرے راستوں سے جانے والے مسافر اکثر ان روٹس سے ناواقف ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان انجان راستوں پر بھی روزانہ خوفناک حادثات پیش آ رہے ہیں اور قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
ہزاروں کی مقامی آبادی شدید ترین مشکلات کا شکار:
اس 12 کلومیٹر کے دائرے میں آنے والے اہم ترین علاقے جیسے ڈرائیور کالونی، رام نگر، ہوتی ٹانڈا، ڈبل بیڈ روم مکانات کی بستی، موضع شیخاپور اور ملچلمہ کے ہزاروں عوام روزانہ اسی راستے سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ سڑک کی اس ابتر حالت کی وجہ سے:
1. خوفناک حادثات: گڑھوں کو بچانے کی کوشش میں روزانہ دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیاں حادثات کا شکار ہو رہی ہیں، کئی لوگ اب تک شدید زخمی ہو چکے ہیں۔
2. مریضوں اور حاملہ خواتین کے لیے عذاب: ایمرجنسی کی صورت میں کسی مریض کو ہاسپٹل لے جانا ایک بھیانک خواب بن چکا ہے۔ ایمبولینس وقت پر پہنچ نہیں پاتی، اور گہرے گڑھوں کے ہچکولوں کے باعث مریضوں کی حالت راستے میں ہی مزید بگڑ جاتی ہے۔
3. معصوم بچوں کا مستقبل داؤ پر: اسکول اور کالج جانے والے طلبہ و طالبات گرد و غبار اور کیچڑ سے گزر کر جانے پر مجبور ہیں۔ گاڑیوں کے خراب ہونے سے بچے اکثر اسکول وقت پر نہیں پہنچ پاتے۔
4. کاروبار مکمل ٹھپ: ٹرانسپورٹیشن اور آمد و رفت شدید متاثر ہونے کی وجہ سے مقامی تاجروں کا کاروبار بالکل ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، جس سے معاشی بحران پیدا ہو رہا ہے۔
پانچ سال سے صرف دلاسے اور ناامیدی:
مقامی عوام اور تانڈور کے مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ چار سے پانچ سالوں سے متواتر حکام کو درخواستیں (Representations) دے رہے ہیں، لیکن سوائے کھوکھلے دلاسوں کے عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ انتظامیہ اور حکومت کی یہ سرد مہرئی اور بے حسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ عوام کا یہ سوال ہے کہ آخر کب تک انہیں ٹیکس ادا کرنے کے باوجود بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے گا؟
عوامی نمائندوں اور حکومت سے دردمندانہ اپیل:
شیخاپور، ملچلمہ، تانڈور جانے والے مسافروں اور ملحقہ کالونیوں کے تمام غیور عوام، بزرگوں اور نوجوانوں کی جانب سے حلقہ اسمبلی ظہیرآباد کے مقبول ایم ایل اے جناب کے۔ مانک راؤ صاحب، اور ظہیرآباد لوک سبھا حلقہ کے معزز ایم پی جناب سوریش کمار شیٹکار صاحب سمیت حکومتِ وقت اور محکمۂ سڑک و تعمیرات (R&B) سے پرزور اور دردمندانہ اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس سنگین عوامی مسئلے پر سیاست سے بالاتر ہو کر فوری توجہ دیں۔
عوام اور مسافر اب مزید انتظار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اگر اس اہم خستہ حال روڈ کی **جدید طرز پر فوری تعمیرِ نو** کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع نہیں کیا گیا، تو عوام اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر شدید احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔۔۔
Comments
Post a Comment