گپتا رِضا صد سالہ سیمنار کی کچھ باتیں۔


گپتا رِضا صد سالہ سیمنار کی کچھ باتیں۔ 

کالی داس گپتا رِضا کو بیسویں صدی کے اواخیر میں اُردو زبان و ادب کے ایک معتبر حوالے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جنہوں نے جہاں مرزا اسد اللہ خان غالب پر بیس کتابیں لکھ کر غالبیاتی ادب کو فروغ دیا، وہیں علمی، ادبی، فکری، تنقیدی اور تحقیقی میدانوں میں گراں قدر تصانیف تحریر کرکے دنیا کو ادب کے نئے گوشوں اور زاویوں سے بھی روشناس کرایا۔

عروس البلاد ممبئی کے دادر علاقے میں واقع ساہتیہ اکادمی کے آڈیٹوریم میں گپتا رِضا پر ایک عظیم الشان سیمنار کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں پہلے سیشن کی صدارت اُردو کے معروف ادیب و نقاد، روز نامہ انقلاب کے کالم نگار شمیم طارق صاحب نے کی جب کہ دوسرے سیشن کی صدارت مشہور شاعر و ادیب سو سے زائد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب نے انجام دی.
اس کے علاوہ سلیم محی الدین، ایم مبین، دانش غنی، خلیق نصرت، راقم السطور اور واصف یار اِن تمام صاحبان نے گپتا رِضا کی شخصیت اور فکر و فن پر تحقیقی مقالات پیش کیے۔ 
اِس موقع پر راقم السطور نے "گپتا رِضا کی پونے سے علمی و ادبی وابستگی" کے ایک اہم عنوان سے جو مقالہ پڑھا، اس کی چند اہم باتیں سرِدست یہاں پیش ہیں :
پونے کی علمی و ادبی فضا :
اِس پر قاضی مشتاق احمد کی کتاب "پونے ہے جس کا نام" پروفیسر عبد الستار دلوی کی "پونے کے مسلمان" اور ڈاکٹر عبد الرحیم نشتر کی "پونے میں اُردو تعلیم" کے مستند حوالوں کے ساتھ پونے کی علمی، ادبی، ثقافتی، تہذیبی اور تعلیمی فضا کا جائزہ پیش کیا گیا۔
پونے میں گپتا رِضا کا قیام :
اِس میں ڈاکٹر عبد الرحیم نشتر کی کتاب "پونے میں اُردو تعلیم"، نذیر فتح پوری کی "جہانِ گپتا رِضا"، ادھو مہاجن بسمل کی "رِضا بنام نذیر"
اِن معتبر کتب کی روشنی میں گپتا رِضا کے پونے میں قیام کے واقعات و حالات کو قلم بند کیا. گیا۔
گپتا رِضا کی پچہتر سالہ زندگی کے چند ابتدائی سال اُن کے آبائی وطن جالندھر میں گزرے، جس کے بعد انہوں نے افریقہ میں مہاجرت کی زندگی گزاری۔ تقریباً بیس سالوں کے بعد ملکِ عزیز ہندوستان واپس آئے اور ممبئی میں سکونت اختیار کی۔ اخیر کے تیس سال انہوں نے ممبئی اور پونے میں گزارا، جہاں رہ کر وہ علمی، ادبی، تحقیقی اور تنقیدی سرگرمیوں میں مصروفِ عمل رہے۔
اہلِ پونہ سے علمی و ادبی روابط :
اِس ضمنی عنوان کے تحت سہ ماہی اسباق کے گپتا رِضا نمبر اور مرزا حمید بیگ تحمل قادری کی کتاب "تاریخِ اُردو ادب پونہ : ایک تحقیق" کے حوالوں کی روشنی میں گپتا رِضا کے علمی و ادبی تعلقات کو واضح کیا گیا، نیز پونے کے مصنفین کی کتابوں پر اُن کے وقیع تاثرات، مقدمات اور بیش قیمتی تحریرات کو پیش کرکے اہلِ علم و ادب سے اُن کے باہمی تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔
سہ ماہی اسباق، پونے سے وابستگی :
نذیر فتح پوری کی کامیاب ادارت میں نکلنے ہونے والا ادبی مجلہ سہ ماہی اسباق، جو مسلسل تینتالیس سالوں تک اپنی آب و تاب کے ساتھ اُفقِ ادب پر علمی و ادبی موتی بکھیرتا رہا۔
اِس مجلہ کو گپتا رِضا کی سرپرستی حاصل رہی، جن کے قیمتی مشوروں اور تحقیقی کاوشوں کے طفیل روز افزوں یہ شاہ راہِ ترقی پر گامزن رہا۔
اِس ضمنی عنوان کے تحت گپتا رِضا کی اسباق سے وابستگی کو ذکر کیا گیا۔
پونہ کی شعری و ادبی نشستوں میں شرکت :
اخبار و رسائل اور اُن کے معاصرین کی یادداشتوں کی مدد سے پونے میں اُن کی علمی و ادبی نشستوں کا خاکہ پیش کیا گیا، جن میں انہوں نے مختلف کردار نبھایا۔
مزید بر آں مقالے میں گپتا رضا اور پونے کے حوالے سے کئی ایسے حالات، واقعات اور شواہد بھی ضبطِ تحریر میں لائے گئے ہیں، جو اب تک منظرِ عام سے غائب تھے۔
مکمل مقالہ ساہتیہ اکادمی، ممبئی اور دہلی سےشائع ہوکر جلد ہی قارئین کے خوانِ مطالعہ پر پیش ہوگا۔

محسن رضا ضیائی، پونے
24 مئی 2026ء بروز اتوار

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔