سکوت کا شور (مکالمہ)۔ از قلم: رہبر تماپوری۔


 سکوت کا شور (مکالمہ)
از قلم: رہبر تماپوری۔

(منظر: رات کا آخری پہر ہے۔ فضا میں ایک گہرا، مہیب اور پراسرار سناٹا چھایا ہوا ہے۔ برسوں کے طویل بچھڑنے اور زمانوں کی دوریوں کے بعد، وہ اپنے محلے کی اسی پرانی گلی میں کھڑی ہے، جہاں اس کے آبائی مکان کی اکھڑی ہوئی اینٹیں اور بوسیدہ دیواریں ماضی کا کوئی بھولا ہوا نوحہ پڑھتی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ دھیمے اور لرزتے ہوئے قدموں سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کی پیاسی اور اداس نظریں دور سے اسی آشیاں کو ڈھونڈ رہی ہیں جہاں کبھی اس کا معصوم بچپن رقص کرتا تھا۔ جیسے ہی وہ اس شکستہ حویلی کی چوکھٹ پر قدم رکھتی ہے، اندھیرے کے کسی گوشے سے ایک شناسا, کانپتی اور بوڑھی ہوتی ہوئی آواز ابھرتی ہے۔)
بھائی: (حیرت، خوف، اور شدید پشیمانی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اندھیرے سے نکلتا ہے) تم…؟ اتنے سالوں کے طویل اور تکلیف دہ بچھڑنے کے بعد… آج اس وقت… یہاں کیوں آئی ہو؟
بہن: (ویران، بنجر اور اجاڑ آنگن پر اپنی حسرت بھری نظریں جماتے ہوئے) میں یہاں کسی مادی غرض، مطالبے یا حق کے لیے نہیں آئی بھائی! میں تو بس اسی مانوس آنگن کی یاد میں کھچی چلی آئی ہوں، جہاں ہمارے بچپن کی معصوم خوشبو آج بھی ان پرانی دیواروں میں سانس لے رہی ہے۔
بھائی: (ایک سرد اور گہری آہ بھرتے ہوئے چہرہ جھکا لیتا ہے) مگر اب یہاں بچا ہی کیا ہے؟ وقت کی بے رحم اور تیز دھار نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ جس گھر کو تم ڈھونڈ رہی ہو، وہ اب محض ویرانی کا ملبہ ہے۔ اب یہ گھر وہ مکان نہیں رہا۔
بہن: (تلخی سے مسکرا کر بھائی کی طرف دیکھتی ہے) وقت نے کچھ نہیں بدلا بھائی، انسان بدل گئے۔ وقت تو اپنی مقررہ رفتار سے چلتا رہا، مگر مادی منفعت اور دولت کی اندھی ہوس نے انسانوں کی جبلت اور رشتوں کے پاکیزہ معنی بدل دیے۔
بھائی: (ندامت کے بوجھ سے کانپتی آواز میں) میں جانتا ہوں کہ میں تمہارے سوالوں کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میں گنہگار ہوں تمہارا۔ مگر سچ بتاؤ، اس اجاڑ ویرانے اور کالی رات میں تمہیں کیا ملا جو تم سب کچھ بھول کر واپس آ گئیں؟
بہن: مجھے واپس آنا ہی پڑا بھائی، کیونکہ اس ویران حویلی کا یہ گہرا اور سنگین سکوت مجھے اندر سے کھینچ رہا تھا۔ یہ خاموشی دور دراز شہر میں بھی میرے کانوں میں گونجتی تھی اور مجھے پکارتی تھی۔
(وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے، آنگن کے وسط میں پہنچ کر زمین کی مٹی کو ہاتھ میں لیتی ہے)
بہن: یاد ہے بھائی؟ یہ وہی مانوس آنگن ہے، جہاں میں کبھی دال کے دانوں سے گھر گھر کھیلا کرتی تھی۔ محلے کی بزرگ عورتیں یہاں دوپہر کو بیٹھتیں، جن کے ساتھ میں کھلکھلاتی تھی اور معصوم شرارتیں کرتی تھی۔ یہی وہ چہار دیواری تھی، جہاں والد کی بے پناہ شفقت اور والدہ کی لوریوں اور دعاؤں نے مجھے زندگی بھر کا حقیقی سکون بخشا تھا۔
بھائی: (آنکھوں میں آنسو لیے، آواز بھر آتی ہے) ہاں، مجھے سب یاد ہے۔ ایک ایک پیارا پل یاد ہے میری بہن۔ مگر مادی فائدے اور جائداد کے غرور نے میری عقل پر پردہ ڈال دیا تھا۔ میں کتنا اندھا ہو گیا تھا کہ میں نے اسی چوکھٹ پر تمہارے لیے گھر کے دروازے بند کر دیے تھے۔ میں برسوں تڑپا ہوں، تم کئی سالوں تک اس چوکھٹ پر نہ آسکی، صرف میری اس مادی ہوس کی وجہ سے۔
بہن: ہاں بھائی! تم نے صرف گھر کے دروازے بند نہیں کیے تھے، بلکہ رشتوں کی ہر چمک، ہر مشترکہ خوشی اور خون کے ہر تعلق کو وقت کے ساتھ ایک گہرے اور سنگین سکوت میں دفن کر دیا تھا۔ تم نے مجھے اپنے ہی آبائی گھر سے محروم کر دیا تھا۔
بھائی: (پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے، بہن کے سامنے ہاتھ جوڑ دیتا ہے) خدا کے لیے مجھے مزید شرمندہ نہ کرو! میں نے دولت کی خاطر دروازے تو بند کر دیے تھے، مگر میں ان دیواروں میں قید یادوں اور ضمیر کی ملامت کو نہیں روک سکا۔ آج اس ویران حویلی کے سامنے کھڑے ہو کر کیا تم مجھے کبھی معاف کر سکوگی؟
بہن: (ایک گہرا سانس لیتی ہے اور بھائی کے سر پر ہاتھ رکھتی ہے) معافی لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی بھائی، یہ تو دل کے احساس سے ملتی ہے۔ میں نے آج یہاں کھڑے ہو کر محسوس کیا ہے کہ محبت صرف ظاہری رشتوں اور ملاقاتوں کی محتاج نہیں ہوتی؛ یہ تو دل کی مٹی میں پنپتی ہے۔ مادی دوریاں اور جائداد کے یہ عارضی جھگڑے سچی محبت کو کبھی ختم نہیں کر سکتے، بلکہ یہ تو خیالات کے دریچوں سے ہمیشہ اپنا اظہار کرتی رہتی ہے۔ دولت کی چمک عارضی ہے، مگر جذبوں کی سچائی لافانی ہے۔
بھائی: (چاروں طرف دیکھتے ہوئے، مایوسی سے) دیکھو اس حویلی کو، اب یہاں کتنا مہیب اندھیرا، چمگادڑوں کا ڈیرہ اور سناٹا ہے۔ یہ پورا آنگن اگرچہ اب بالکل اجاڑ، ویران، بنجر اور ساکت ہو چکا ہے۔ یہاں اب کچھ نہیں بچا، صرف موت جیسی خاموشی ہے۔
بہن: (نفی میں سر ہلا کر، فضا میں ہاتھ لہراتی ہے) نہیں بھائی! تم اب بھی غلط دیکھ رہے ہو۔ یہ گھر خاموش نہیں ہے۔ ظاہری طور پر یہ آنگن اگرچہ بالکل اجاڑ اور ساکت ہے، لیکن ذرا دل کے کانوں سے اور روح کی گہرائی سے غور سے سنو… اس کے ہر گوشے سے ماضی کی محبت، قہقہوں، لوریوں اور اپنائیت کی گونج صاف سنائی دے رہی ہے۔ یہ سکوت بھی ایک شور ہے، ایک ایسا شور جو سوئے ہوئے انسان کو جھنجھوڑ دیتا ہے! یہی وہ کڑوا سچ تھا، جو اس طویل خاموشی کے پردے میں چھپا ہوا تھا کہ مکان ویران ہو سکتے ہیں، پر محبت اب بھی زندہ ہے۔
بھائی: (حیرت اور استعجاب سے بہن کے چہرے کو تکتا ہے) سکوت کا شور…؟ حالات بدل چکے ہیں، چہرے بدل گئے ہیں، مگر کیا تم واقعی اس اندھیرے اور اجاڑ میں کوئی پرانی گونج سن پا رہی ہو؟ کیا اس اجاڑے میں اب بھی امید کی کوئی کرن باقی ہے؟
بہن: ہاں، میں سن سکتی ہوں اور محسوس کر سکتی ہوں۔ حالات بدل چکے، چہرے بدل گئے، مگر دل کی مٹی میں دبے رشتے آج بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔ یہ ایک ایسا الٰہی سکوت ہے، جو زبان سے بنا کچھ کہے بھی روح کو صدیوں کی داستان سنا رہا ہے۔ یہ ہمیں سکھا رہا ہے کہ سچے رشتے کبھی فنا نہیں ہوتے۔ اندھیرا کتنا ہی گہرا ہو، صبح کی روشنی اسے مٹا ہی دیتی ہے۔
بھائی: (شدید جذباتی ہو کر، بہن کا ہاتھ تھام لیتا ہے) مائدہ! تم نے میری اندھی آنکھوں کو روشنی دے دی ہے۔ آج اس خاموشی کے طوفان نے میرے اندر کے جھوٹے غبار اور انا کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیا ہے۔ رشتوں کا خون کر کے انسان کبھی پرسکون نہیں رہ سکتا۔ میں آج عہد کرتا ہوں کہ میں یہ جائداد، یہ دولت سب کچھ تیاگ دوں گا، بس مجھے میرا بھائی چارہ اور تمہاری محبت واپس چاہیے۔
بہن: (مسکرا کر، بھائی کے آنسو پونچھتی ہے) مجھے دولت نہیں چاہیے بھائی، مجھے بس تمہارا یہ پچھتاوا اور محبت کا احساس چاہیے تھا۔ دیکھو، جیسے ہی تمہارے دل سے نفرت کا غبار صاف ہوا، اس ویران آنگن پر چاند کی چاندنی بکھر گئی۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ ہماری محبت کی مٹی اب بھی زرخیز ہے۔ مادی دیواریں اور مٹی کے مکان گر سکتے ہیں، لیکن روح کے رشتے ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔
بھائی: (ایک گہرا اور پرسکون سانس لیتے ہوئے، آسمان کی طرف دیکھتا ہے) تم سچ کہتی ہو۔ آج برسوں بعد میرے دل کا بوجھ ہلکا ہوا ہے۔ اب اس حویلی کا سکوت مجھے ڈرا نہیں رہا، بلکہ ایک نئی زندگی کی امید دے رہا ہے۔ چلو، اس نئے آغاز کے ساتھ اب ہم اپنی نئی صبح کی طرف بڑھتے ہیں۔
بہن: (مثبت سوچ اور پرعزم لہجے میں) ہاں بھائی! چلو اب ماضی کا گلہ مٹا کر ایک ساتھ قدم آگے بڑھائیں۔ اب اس سکوت کے شور کو اپنے اندر جذب کرو اور اپنی روح کو پاک کرو۔ یہی ہماری اصل کائنات ہے اور یہی ہماری سچی فتح ہے۔
(دونوں بھائی بہن خاموشی سے اس ویران آنگن میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے مسکراتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ جاتے ہیں، جہاں اب کوئی گلہ نہیں، کوئی اندھیرا نہیں، بلکہ ماضی کی پاکیزہ یادوں اور مستقبل کی خوبصورت امیدوں کا ایک حسین، لافانی اور الٰہی شور فضا میں گونج رہا ہے۔)
-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔