لفظوں کا آخری چراغ۔ - ڈاکٹر بشیر بدر — ایک عہد کی خاموش رخصتی. ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔


لفظوں کا آخری چراغ۔ - 
ڈاکٹر بشیر بدر — ایک عہد کی خاموش رخصتی.
ازقلم : جمیل احمد ملنسار۔
9845498354

ڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت صرف ایک شاعر کی موت نہیں، اردو تہذیب کے ایک نرم، روشن اور مہذب عہد کا اختتام ہے۔ وہ شاعر جس نے غزل کو کتابوں کی الماریوں سے نکال کر عام انسان کے دل تک پہنچایا، آج خاموش ہوگیا، مگر اس کی آواز اب بھی لاکھوں دلوں میں گونج رہی ہے۔ بشیر بدر نے مشکل لفظوں، فلسفیانہ الجھنوں اور مصنوعی دانشوری کے بغیر محبت، جدائی، تنہائی اور انسانی رشتوں کے درد کو اس سادگی سے بیان کیا کہ ہر شخص کو اپنے دل کی بات محسوس ہوئی۔

وہ صرف شاعر نہیں تھے، ایک احساس تھے۔ ان کے اشعار میں شہر کی اداسی بھی تھی، ٹوٹتے رشتوں کی چیخ بھی، اور امید کی مدھم مگر زندہ روشنی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری مشاعروں سے نکل کر گھروں، گلیوں، دیواروں اور لوگوں کی روزمرہ گفتگو تک جا پہنچی۔ بشیر بدر نے اردو غزل کو نئی نسل سے جوڑا، اسے زندہ رکھا، اور یہ کام وہی شخص کرسکتا تھا جو زندگی کو قریب سے جیتا ہو۔

زندگی نے ان پر بے رحم وار بھی کیے۔ فسادات میں ان کا قیمتی کتب خانہ جل گیا، یادداشت کمزور ہوگئی، جسم بیماریوں سے لڑتا رہا، مگر لفظوں کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔ یہی بڑے لوگوں کی پہچان ہوتی ہے، وہ حالات سے نہیں، اپنے حوصلے سے پہچانے جاتے ہیں۔

آج جب ہم ان کی جدائی پر افسردہ ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ بشیر بدر کہیں گئے نہیں۔ وہ اپنے اشعار میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ کچھ لوگ مر کر ختم ہوجاتے ہیں، مگر کچھ لوگ لفظ بن کر زمانوں تک سانس لیتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر انہی لوگوں میں سے تھے۔

ڈاکٹر بشیر بدر مرحوم کے چند منتخب و مقبول اشعار

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

گفتگو اُن سے روز ہوتی ہے
مدتوں سامنا نہیں ہوتا

رات کا انتظار کون کرے
آج کل دن میں کیا نہیں ہوتا

اسی شہر میں کئی سال سے میرے کچھ قریبی عزیز ہیں
انہیں میری کوئی خبر نہیں، مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔