چاندِ ذی الحجہ اور اصلاحِ باطن کی پکار - " ناخنوں بالوں کے ساتھ اپنی انا بھی کاٹ پھینکیے" - عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔


چاندِ ذی الحجہ اور اصلاحِ باطن کی پکار - 
" ناخنوں بالوں کے ساتھ اپنی انا بھی کاٹ پھینکیے"  - 
عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔

الحمدللہ ثم الحمدللہ!
حرمت و عظمت والے مہینوں میں شمار ہونے والا مقدس ماہِ ذی الحجہ اپنی رحمتوں، برکتوں اور روحانی فضاؤں کے ساتھ جلوہ فگن ہونے کو ہے۔ اہلِ ایمان کے دل اس مبارک مہینے کے چاند کے منتظر ہیں۔ ہر سمت ایک عجیب سی عقیدت، وارفتگی اور دینی بیداری کی فضا قائم ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر خوبصورت ڈیزائن، دلنشیں تحریریں اور یاد دہانیاں بار بار گردش کر رہی ہیں کہ قربانی کرنے والے حضرات چاند نظر آنے سے قبل اپنے ناخن اور زائد بال صاف کرلیں، کیونکہ پھر سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے احترام میں انہیں قربانی تک باقی رکھا جائے گا۔
یہ منظر یقیناً خوش آئند ہے۔
یہ ہمارے ایمان کی حرارت، سنتِ نبوی ﷺ سے محبت اور دین سے وابستگی کی خوبصورت علامت ہے کہ ایک سنت کی ادائیگی کے لیے پوری امت اس قدر حساس اور متوجہ دکھائی دے رہی ہے۔ اسلام کی ہر سنت، چاہے بظاہر چھوٹی معلوم ہو یا بڑی، مومن کے لیے باعثِ سعادت اور ایمان کی پختگی کا ذریعہ ہے۔
مگر اسی لمحے دل کے کسی گوشے سے ایک درد بھرا سوال بھی ابھرتا ہے…
کاش! کوئی ایسی چاند رات بھی آئے، جس میں ہم اپنے ہاتھوں سے صرف بال  ناخن ہی نہ کاٹیں بلکہ اپنی انا، تکبر، حسد، بغض، کینہ، نفرت، برتری کی خواہش اور دلوں کی سیاہی کو بھی ہمیشہ کے لیے کاٹ کر پھینک دیں۔ کاش! جس طرح بار بار یہ پیغامات ہمیں ظاہری صفائی کی یاد دلاتے ہیں، اسی طرح ہماری روحوں کی صفائی، دلوں کی پاکیزگی اور اخلاق کی خوشبو کی یاد دہانی بھی عام ہو جائے۔
یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ کو صرف جانور کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بلکہ دلوں کا تقویٰ، نیت کی پاکیزگی اور بندے کی عاجزی بارگاہِ الٰہی میں قبولیت پاتی ہے۔
اگر دل حسد سے بھرے ہوں، زبانیں نفرت اگلتی ہوں، رشتے انا کی دیواروں میں قید ہوں اور چہروں پر عبادت کے باوجود دل کینوں سے آلودہ ہوں، تو پھر ظاہری اعمال کی خوبصورتی بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔
آئیے! اس ذی الحجہ ہم ایک عہد کریں کہ: ہم دلوں کو جوڑیں گے، توڑیں گے نہیں۔
معاف کرنا سیکھیں گے، بدلہ نہیں۔عاجزی اپنائیں گے، غرور نہیں۔ محبت بانٹیں گے، نفرت نہیں۔ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو بندے کو اللہ کا دوست محبوب بناتا ہے، اور یہی قربانی کی اصل روح بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری عبادات کے ساتھ باطنی اصلاح کی بھی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے دلوں کو اخلاص، محبت اور تقویٰ کا گہوارہ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔