لڑکوں میں تعلیمی گراوٹ اور لڑکیوں میں اخلاقی - ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک، (پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج بیلگام)
لڑکوں میں تعلیمی گراوٹ اور لڑکیوں میں اخلاقی -
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک،
(پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج بیلگام)
M A M Ed
8904317986
لڑکوں میں تعلیمی گراوٹ اور لڑکیوں میں اخلاقی کمزوری
آخر ہماری نئی نسل کس سمت جا رہی ہے؟
آج کا دور ترقی، سہولت اور جدیدیت کا دور کہلاتا ہے۔
شہر جگمگا رہے ہیں،
تعلیمی ادارے بڑھ رہے ہیں،
ٹیکنالوجی آسمان کو چھو رہی ہے…
مگر افسوس!
انسان کے دل، اخلاق اور سوچ اندھیروں میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔
ایک طرف نوجوان لڑکوں میں
تعلیم سے بے رغبتی، سستی، بے مقصدی اور وقت کی ناقدری بڑھتی جا رہی ہے…
اور دوسری طرف بعض لڑکیوں میں
حیا، سادگی، اخلاق اور خاندانی اقدار کی کمزوری دکھائی دے رہی ہے۔
یہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں…
یہ پوری قوم، پورے معاشرے اور آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے۔
کیونکہ جب نسلیں کمزور ہو جائیں
تو صرف گھر نہیں بکھرتے،
قوموں کی بنیادیں بھی ہل جاتی ہیں۔
لڑکوں میں تعلیمی گراوٹ — ایک خاموش زوال
آج بہت سے نوجوانوں کے ہاتھوں میں
کتابوں کے بجائے موبائل نظر آتے ہیں۔
راتیں کھیل، ویڈیوز اور فضول مصروفیات میں گزر جاتی ہیں،
اور صبح خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔
محنت مشکل لگتی ہے،
لیکن کامیابی آسان چاہیے۔
ڈگری تو چاہیے،
مگر علم حاصل کرنے کی تڑپ کم ہوتی جا رہی ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ
قوموں کی عزت دولت سے نہیں،
بلکہ علم، کردار اور محنت سے بنتی ہے۔
یاد رکھئے…
جس قوم کے نوجوان تعلیم سے دور ہو جائیں،
وہ قوم دوسروں کی محتاج بن جاتی ہے۔
لڑکیوں میں اخلاقی کمزوری — ایک خطرناک المیہ
لڑکی کسی گھر کی صرف “بیٹی” نہیں ہوتی…
بلکہ ایک خاندان کی عزت،
ایک نسل کی تربیت
اور ایک معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔
اس کی حیا، اس کی سوچ، اس کا کردار
پورے خاندان پر اثر ڈالتا ہے۔
مگر آج سوشل میڈیا کی چکاچوند،
فیشن کی اندھی دوڑ،
اور دکھاوے کی زندگی نے
بہت سی بچیوں کو اصل خوبصورتی سے دور کر دیا ہے۔
یاد رکھیں…
عورت کی اصل زینت
اس کا کردار، حیا اور وقار ہے،
نہ کہ صرف لباس، میک اپ یا نمائش۔
اس گراوٹ کی اصل وجوہات
گھروں میں دینی اور اخلاقی تربیت کی کمی
والدین کی بے حد مصروف زندگی
موبائل اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال
اچھی صحبت اور اچھے ماحول کی کمی
تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود کر دینا
دین اور دنیا کے درمیان توازن ختم ہو جانا
نوجوانوں کے سامنے اچھے کرداروں کی کمی
اب کیا کیا جائے؟
1. گھر کو حقیقی تربیت گاہ بنایا جائے
اولاد صرف کھانے، کپڑوں اور فیس سے نہیں سنورتی…
بلکہ وقت، محبت، نگرانی، دعا اور بہترین اخلاق سے سنورتی ہے۔
اگر گھر میں نماز، ادب، سچائی اور احترام ہوگا
تو یہی صفات بچوں کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گی۔
2. موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال لایا جائے
ٹیکنالوجی دشمن نہیں…
لیکن اس کا غلط استعمال تباہی ضرور بن جاتا ہے۔
والدین کو چاہیے کہ
وہ اولاد کے ہاتھ میں صرف موبائل نہ دیں،
بلکہ شعور، مقصد اور حدود بھی دیں۔
3. تعلیم کے ساتھ اخلاق اور دین بھی سکھایا جائے
صرف اعلیٰ ڈگری کافی نہیں…
اعلیٰ کردار بھی ضروری ہے۔
ایسی تعلیم جس میں
اللہ کا خوف،
رسول ﷺ کی محبت،
والدین کا ادب
اور انسانیت کا احترام نہ ہو،
وہ معاشرے کو مکمل انسان نہیں دے سکتی۔
4. نوجوانوں کو مقصدِ زندگی دیا جائے
جس نوجوان کے پاس مقصد نہ ہو
وہ خواہشات کے طوفان میں بہہ جاتا ہے۔
لڑکوں کو محنت، ذمہ داری اور علم کی اہمیت سکھائی جائے…
اور لڑکیوں کو حیا، وقار، خودداری اور کردار کی طاقت سمجھائی جائے۔
5. والدین اور اساتذہ مل کر کردار سازی کریں
اگر استاد صرف کتاب پڑھائے
اور والدین صرف فیس بھر دیں،
تو نسلیں کبھی سنور نہیں سکتیں۔
تربیت صرف اسکول کی ذمہ داری نہیں…
بلکہ گھر، معاشرہ اور ہر باشعور فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ایک اہم حقیقت
ہر لڑکا بے راہ نہیں…
اور ہر لڑکی اخلاق سے گری ہوئی نہیں۔
آج بھی بے شمار نوجوان ایسے ہیں
جو علم، ادب، حیا، دین اور بہترین کردار کی خوبصورت مثال ہیں۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ
ہم نئی نسل کو طعنے نہ دیں…
بلکہ ان کا ہاتھ پکڑیں۔
نفرت نہ دیں…
محبت دیں۔
مایوسی نہ پھیلائیں…
بلکہ امید، تربیت اور رہنمائی دیں۔
اختتامیہ
اگر ہمیں اپنی آنے والی نسل کو بچانا ہے
تو صرف تعلیمی ادارے کافی نہیں ہوں گے…
گھروں کو بدلنا ہوگا،
سوچ کو بدلنا ہوگا،
اور اپنی اولاد کو
صرف کامیاب نہیں…
بلکہ باکردار انسان بنانا ہوگا۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ:
تعلیم کے بغیر قومیں کمزور ہو جاتی ہیں،
اور اخلاق کے بغیر قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
Comments
Post a Comment