ایک کہکشاں ذمیں پر۔ ازقلم : مسرورتمنا۔
ایک کہکشاں ذمیں پر۔
ازقلم : مسرورتمنا۔
رعنا تبریز تم ان سب چکر میں پڑ کر ھمارے وجود کو بھول رہی ہو ھارون نے اسے عجیب
نظروں سے دیکھا. تم
ایک لکھاری ہو کیا یہ کافی
نہیں کے میں نے..
......................
کامیابی ملے گی.مجھے. ھارون میں انہیں تلاش کر رہی ہوں جو گمنامی اور حالات کے اندھیرے میں کھو گیے ہیں
تم اپنی ذندگی کا مقصد پیشہ کمانا نام گھر اور فیملی بنانا
سمجھتے ہو میں تم سے الگ ہوں ایک درد لے کر جی رہی ایک مقصد ہے شادی کی جلدی نہیں مجھے وہ اپنی گاڑی لے کر آگے بڑھ گی انکار کرنا
چاہو تو دور ہوجاو
ارے نہیں ھارون اسکے برابر
آکر بیٹھ گیا. ...
بہت تلاش کے بعد ایک عظیم شخصیت کا پتہ ملا تھا جسے لوگ دوست شاید ذمانہ سب بھول چکے تھے
جو صرف اپنے کتابوں میں ذندہ تھے پرویز مہتاب جنکے معیاری افسانے برسوں پہلے اردو کے معیاری رسایل اور اخبارات کی زینت تھے
انکے فین انہیں خطوط لکھ کر جواب کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے اور جواب وہ کسی رسالے کے ذریع دیتے
اور وہ شخصیت جو گم ہو چکی تھی رعنا تبریز ان سے ملنے کی امید لیے نکل پڑی
پرویز مہتاب
کافی پرانا مکان تھا ایک عورت معمولی سی ساڑی پہنے اسے گھور رہی تھی
مجھے پرویز مہتاب سے ملنا ہے
رعنا نے اسکی آنکھوں میں غور سے دیکھا کون پرویز ادھر کوی نہیں رہتا ھم رھتے ھیں
جاو یہاں سے . ... ...
تبھی تیز تیز سانس کے ساتھ کھانسی کی آواز سناٹے میں گونجنے لگی
رعنا اندر کی طرف دوڑی
زمین پر بوسیدہ کپڑوں میں
معمولی دری پر پڑا وجود
ایک معروف قلمکار جس کی تصانیف ملک اور بیرون ملک میں دھوم مچاتے تھے
رعنا انکے پاس بیٹھ گی
آپ سے ملنے آی ہوں آج کی
دنیا میں .. کتابوں . میں
آپکو تلاش کیا ہے ... مخلص انسان جو صرف لوگوں محبت
پھول گلاب اور خوشبو بانٹتا تھا ... آپکی شخصیت سراپا
محبت ہے پرویز مہتاب.. ...
پرویز مہتاب کچھ کہیں نا
کے اب بھی چمن میں آپ
بہار بنکر. .. ..
وہ ایک درد بھری مسکراھٹ کے ساتھ بول پڑے
پیاری لڑکی...
میں ذندہ ہوں بیوی بچوں نے مجھے چھوڑ دیا سب لندن امریکہ سفٹ ہوگے
انکی نظر میں اردو کی کوئ
اھمیت نہیں.......
میری سانس باقی ہے اور قلم ہاتھ سے چھین لیا.
.. کاغذ پر
کچھ تحریر کرنے کے قابل نہ رہا ......آہ میری تصانیف
........................
پرویز مہتاب رعنا نے پکارا تو وہ رو پڑے. بچی میں معذور ہوں....
میرا وجود نا قابل برداشت ہے
رددی کے ٹکڑوں سے بدتر
میں اپنا ناکارہ وجود دنیا کے سامنے کیسے لاوں میرا وجود تو... ... ...مٹ گیا ہے..
پرویز مہتاب انسان کا وجود مٹ جاتا ہے نام باقی رہ جاتا ہے۔
آپ مٹ نہیں سکتے
آپ جانتے بھی نہیں کے
آپ کیا ہو. ... ..
وہ مسکرایے چند کاغذات پر ابھی کچھ لکھنا باقی تھا
ذندگی کےان لمحوں کو یاد کرتا ہوں جب میں شہرت کا بے تاج بادشاہ تھا. ...
علینہ کو میری شہرت اور دولت سے پیار تھا مگر اب نہیں .......
وہ کہتی ہے میں دنیا کا سب سے برا انسان. ہوں. مجھے تل تل کر مرنے چھوڑ دیا اور مشہور کردیا کے میں ذندہ نہیں وہ آج آنے والی ہے ...
اس نے مجھے سزا دی جیسے میں نے کوی گناہ کیا ہو
رعنا نے پانی مانگا. ...
اس عورت نے انہیں پانی پلایا
تبھی ایک مغرور عورت اندر آی مہتاب یہ مکان بک گیا
اور تم ہو کے دنیا چھوڑتے ہی نہیں رعنا نے پرویز مہتاب کی طرف دیکھا. وہ مسکراتے ھوے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے .. .....
اس نے انکا شانہ ہلایا تو وہ ایک طرف لڑھک گیے
ایک وجود جس نے سماج میں دنیا میں اپنا الگ مقام بنایا تھا
آج ھنستے ہوے مٹ گیا
پرویز سر آپکی عظمت کوسلام
رعنا نے دیکھا
کے بند پلکوں سے انسو
بہہ رہے تھے
کچھ شخصیت اسی طرح
مٹ جاتے ہیں
مگر وہ ذندہ رھتے ہیں
انکی روح کو انتظار رہتا ہیے
اور رعنا نے انکی شخصیت کو
ذندگی دی آج اخباروں میں
چینل پر صرف پرویز مہتاب
کا چرچا تھا.
آپکا کیا خیال ہے
ایک ادیب گمشدہ کے لیے
مسرورتمنا
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment