مردم شماری یا دلوں کی گنتی؟


مردم شماری یا دلوں کی گنتی؟

وہ سخت گرمی کا دن آج بھی میرے دل میں ویسے ہی زندہ ہے… تپتا ہوا آسمان… کھیتوں سے گزرنے والی ہلکی سی ہوا…

تحصیل سلّوڑ کے گاؤں پلسی میں مردم شماری کا کام جاری تھا۔ میں اور میرے ساتھ گورے سر، صبح ہی گاؤں میں داخل ہوئے اور ایک ایک گھر جا کر معلومات لینا شروع کیں۔

گاؤں بہت سادہ تھا… مگر وہاں کے لوگ سونے جیسے تھے۔ کہیں چائے کی ضد، کہیں ٹھنڈا شربت، تو کہیں محبت سے کہا جاتا، “آئیے صاحب… پہلے تھوڑی دیر بیٹھئے۔”

مردم شماری کرتے وقت ہم صرف گھروں اور لوگوں کی تعداد نہیں لکھ رہے تھے؛ انجانے میں ہم ہر انسان کے دل کا حساب بھی جان رہے تھے۔

کئی جگہ تو ایسا ہوتا کہ ہم اپنا تعارف بھی نہ کرواتے اور لوگ فوراً کہہ دیتے، “آئیے صاحب… مردم شماری کا کام ہے نا؟ پہلے چائے پی لیجئے۔”

ہم ان کی معلومات لکھ رہے تھے، مگر بدلے میں وہ ہمیں اپنی زندگی کی کہانیاں سنا رہے تھے۔ کسی کا بیٹا پونے میں ملازمت کرتا تھا، کسی نے کھیتی سے اپنا گھر بنایا تھا، تو کسی نے بچوں کو پڑھا لکھا کر بڑا کیا تھا۔

سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہو رہی تھی کہ — اتنے سادہ لوگ… مگر ہر گھر میں اطمینان اور خودداری بھری ہوئی تھی۔

پورا دن گھومنے کے باوجود گاؤں والوں کی محبت کی وجہ سے تھکن محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ ہر چہرے پر سکون تھا۔ صرف پیاز کی آمدنی سے بنے بڑے بڑے مکانات بنگلے دیکھ کر لمحہ بھر کو لگا جیسے کسی استادوں کی کالونی میں آگئے ہوں۔

دوپہر ڈھل رہی تھی اور گرمی بڑھتی جا رہی تھی۔ ہماری فہرست میں اب صرف ایک گھر باقی تھا — گاؤں سے کافی دور، کھیتوں کے درمیان۔

کچے راستے سے چلتے ہوئے دور ایک چھوٹی سی ٹین کی جھونپڑی نظر آئی۔ وہاں پہنچے تو ایک بوڑھا جوڑا سخت دھوپ میں بھنڈی کے بیج بو رہا تھا۔

جسم پسینے سے تر… چہرے پر جھریاں… مگر آنکھوں میں عجیب سا سکون اور اطمینان۔

بوڑھے کے سر پر سفید کپڑا بندھا ہوا تھا اور جسم پر پرانی بنیان۔ دادی اماں کے چہرے پر دھوپ کی لکیریں تھیں، مگر دونوں کے چہروں پر ایک عجیب سی پُرسکون مسکراہٹ تھی۔

ہمیں دیکھتے ہی بزرگ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ “آئیے صاحب… اتنی دھوپ میں آئے ہیں، ذرا سائے میں بیٹھئے۔”

ہم ان کی جھونپڑی کے سامنے مٹی پر ہی بیٹھ گئے۔ دادی اماں فوراً پانی کا لوٹا لے آئیں۔ اس پانی میں بھی محبت کی مٹھاس تھی۔

باتیں شروع ہوئیں۔

“کتنے سال ہوگئے یہاں؟” گورے سر نے پوچھا۔

بزرگ ہلکا سا مسکرائے۔ “اب کیا صاحب… پوری زندگی گزر گئی۔ ستائیس سال دوسرے ضلع میں مزدوری کی۔ اینٹ بھٹہ، تعمیرات… جو کام ملا وہ کیا۔ بچوں کو پالا پوسا۔ اب بڑھاپے میں لگا اپنا گاؤں ہی اچھا ہے، اس لئے واپس آگئے۔”

وہ بول رہے تھے اور ہم خاموشی سے سن رہے تھے۔

دادی اماں بیچ میں بولیں، “صاحب، بہت محنت کی… مگر اللہ نے کبھی دو وقت کی روٹی کم نہیں ہونے دی۔”

ان کے الفاظ میں شکایت نہیں تھی، بلکہ شکر تھا۔

میں نے پوچھا، “اب تو آرام کرتے ہوں گے نا؟”

بزرگ مسکرائے۔ “آرام کیسا صاحب؟ جب تک ہاتھ پاؤں چلتے ہیں، کام کرتے رہنا چاہیے۔ کام سے دل کو سکون ملتا ہے۔”

کچھ لمحے خاموشی چھا گئی۔

پھر وہ بولے، “اور صاحب… کوئی برا بولے یا جھگڑا کرے تو میں خاموش رہتا ہوں۔ زندگی بھر ایک ہی بات سیکھی — غصہ دل میں رکھو تو دل جلتا ہے، چھوڑ دو تو انسان خوش رہتا ہے۔”

ان کی بات سن کر بے اختیار آنکھیں نم ہوگئیں۔

اتنی سخت زندگی گزارنے کے باوجود ان کے دل میں کوئی تلخی نہیں تھی۔ آج لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اور یہ انسان دو جملوں میں زندگی کا اتنا بڑا فلسفہ سکھا گیا تھا۔

مردم شماری کا کام مکمل ہوا اور ہم واپس جانے لگے۔

اتنے میں دادی اماں جلدی سے اندر گئیں اور بڑی بڑی دھنیا کی گٹھڑیاں لے آئیں۔

“یہ لیجئے صاحب… ہمارے کھیت کی ہے۔”

میں اور گورے سر دونوں نے بہت انکار کیا۔ “نہیں دادی… ہم کیوں لیں؟”

مگر بزرگ مسکرا کر بولے، “صاحب، ہم غریب ضرور ہیں… مگر محبت دینے کے معاملے میں بہت امیر ہیں۔”

اس ایک جملے نے دل بھر دیا۔

انہوں نے زبردستی ہمارے ہاتھوں میں دھنیا رکھ دیا۔ آج بھی اس دھنیا کی خوشبو یاد ہے… کیونکہ اس میں صرف مٹی کی خوشبو نہیں تھی، بلکہ انسانیت کی خوشبو بھی شامل تھی۔

واپسی میں ہاتھ میں دھنیا تھا… مگر دل میں انسانیت کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔

ہم چلنے لگے تو دادی اماں نے پھر کہا، “صاحب، کم از کم چائے پی کر تو جائیے…”

ہم نے وقت کا بہانہ بنا کر ادب سے انکار کیا، مگر ان کے چہروں پر ذرہ برابر ناراضی نہیں تھی۔ بلکہ صرف اتنا کہا، “پھر کبھی آئیں تو ہمارے یہاں ضرور آئیے گا…”

ان لفظوں میں رشتے کی نمی تھی۔

ہم چلتے رہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو دونوں وہیں کھڑے تھے۔ دھوپ سے سیاہ پڑے چہرے… مگر آنکھوں میں محبت کی روشنی۔

ایک لمحے کو دل میں خیال آیا — کیا یہ لوگ واقعی غریب ہیں؟

جن کے پاس دینے کیلئے پیسہ کم ہو، مگر محبت بے حساب ہو… وہ لوگ غریب کیسے ہوسکتے ہیں؟

راستے میں گورے سر خاموشی سے بولے، “معین سر، اگر زندگی سیکھنی ہو نا… تو ایسے لوگوں سے سیکھنی چاہیے۔”

میں نے صرف سر ہلا دیا، کیونکہ اُس لمحے الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے۔

گاؤں کی طرف واپس جاتے ہوئے بڑے بڑے بنگلے دوبارہ نظر آرہے تھے۔ خوبصورت گھر، گاڑیاں، جدید سہولیات…

مگر دل تو اسی چھوٹی سی جھونپڑی میں اٹکا ہوا تھا۔

کیونکہ بڑائی دیواروں میں نہیں ہوتی… انسان کے دل میں ہوتی ہے۔

اُس بزرگ کا ایک جملہ مسلسل کانوں میں گونج رہا تھا — “غصہ دل میں رکھو تو دل جلتا ہے… چھوڑ دو تو انسان خوش رہتا ہے۔”

کتنا بڑا فلسفہ تھا یہ!

جس انسان نے پوری زندگی مزدوری کی، دھوپ اور مشقت میں عمر گزار دی… وہ ہمیں جینے کا اصل مطلب سکھا گیا تھا۔

سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔ راستے پر چلتے ہوئے میں اور گورے سر کچھ دیر خاموش رہے۔

ہاتھ میں دھنیا تھا… مگر دل میں خیالات کا سمندر بہہ رہا تھا۔

ہم نے مردم شماری میں صرف دو انسانوں کی گنتی نہیں کی تھی… بلکہ زندگی بھر یاد رہنے والے “دل کے امیر” انسانوں سے ملاقات کی تھی۔

اور واقعی… پیسے سے غریب لوگ اکثر دل سے دنیا کے سب سے امیر لوگ ہوتے ہیں۔

اس دن مردم شماری کی رجسٹر میں تو ہم نے صرف دو لوگوں کا اندراج کیا تھا… مگر زندگی کی کتاب میں “دل کے امیر انسان” کے نام سے ایک انمول یاد ہمیشہ کیلئے لکھ آئے تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔