طنزومزاح - بطرح ”جو بھی تقدیر میں لکھا ہے وہ پورا ہوگا"۔ ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )
(طنزومزاح) بطرح”جو بھی تقدیر میں لکھا ہے وہ پورا ہوگا”
ازقلم : فریدسحر،حیدرآباد دکن ( انڈیا )
میں نے سوچا بھی نہیں تھا کبھی ایسا ہوگا
اپنے بیٹوں کا مُجھے قرض چُکانا ہوگا
گھر میں دو بیویاں اک ساتھ جو رکھتا ہوگا
سُورما اس سے بڑا کوئ نہ دادا ہوگا
اپنے اعمال ہی بس کام وہاں آئیں گے
روز محشر کوئ سالا نہ ہی سُسرا ہوگا
سُن کے تقریر مرے پوتےنےلیڈر کی کہا
دیش میں اس سے بڑا کوئ نہ جُھوٹا ہوگا
مُجھکومحفل سے ذرا جلد ہی جانے دومیاں
ورنہ آنگن میں مُجھے آج بھی سونا ہوگا
اُونٹ پر بیٹھیں بھی گر کاٹے گا کُتا یارو
“جو بھی تقدیر میں لکھا ہے وہ پُورا ہوگا”
جب بُلایاہے مُجھے آپ نے پڑھنے کو یہاں
بے بحر شعر مرے آپ کو سُننا ہوگا
میرا سالا جو بناتا ہے بہت اونچے پلان
شیخ چلی کا یقینا” وہ خلیفہ ہوگا
اپنے بارے میں فقط اتنا ہی کہناہے سحر
میرے جیسا نہ شہر میں کوئ ہولا ہوگا
Comments
Post a Comment