ماں تیرے نام ہے میری زندگی۔ - سعدیہ فاطمہ عبدالخالق - ناندیڑ مہاراشٹر۔


ماں تیرے نام ہے میری زندگی۔ -  
سعدیہ فاطمہ عبدالخالق - ناندیڑ مہاراشٹر۔ 
8485884176


تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، ماں کے قدموں تلے جنت ہے ، اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے سے ، ستر ماؤں کی محبت رکھتا ہے ، اللّٰہ کی محبت کو ماں کی محبت سے جوڑا گیا ہے ، ماں کی محبت قدرت الہی کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک ہے ، ماں ایسی عظیم نعمت ہے جس کا بدل دنیا میں کوئی نہیں ماں محبت ، شفقت ، قربانی اور ایثار کا پیکر ہوتی ہے انسان جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے جس ہستی کی آغوش اسے سکون دیتی ہے وہ ماں ہی ہے ، ماں اپنی اولاد کی خوشیوں کے لئے ہر دکھ اور تکلیف برداشت کرتی ہے وہ راتوں کو جاگتی ہے خود بھوکی رہ کر بچوں کو کھلاتی ہے اور اپنی خواہشات قربان کر کے ان کی کامیابی کے خواب دیکھتی ہے ، اسی لئے دنیا کی ہر تہذیب اور ہر مذہب میں ماں کا مقام کو بہت بلند رکھا گیا ہے ، اسلام نے بھی ماں کے رتبے کو بہت عظمت عطاء کی ہے ، قران کریم اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ماں کے ساتھ حسن سلوک اور ادب و احترام کی بڑی تاکید کی گئی ہے ماں کی محبت بے غرض ، خالص اور دائمی ہوتی ہے انسان دنیا کے ہر رشتے میں کسی نہ کسی غرض کو محسوس کر سکتا ہے مگر ماں کی محبت ہر مطلب اور لالچ سے پاک ہوتی ہے ماں کی محبت کی حقیقت ، ماں کی محبت ، فطری اور قدرتی جذبہ ہے یہ محبت انسان کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے ، ماں نو مہینے تک بچے کو اپنے وجود میں رکھتی ہے اور اس دوران بے شمار جسمانی اور ذہنی تکالیف برداشت کرتی ہے لیکن جب بچہ دنیا میں آتا ہے تو ماں اپنی تمام تکلیفیں بھول جاتی ہے ، اس کے چہرے کی ایک مسکراہٹ ماں کے لئے دنیا کی سب سے بڑی خوشی بن جاتی ہے ، ماں کی محبت سمندر سے زیادہ گہری اور آسمان سے زیادہ وسیع ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کی ہر ضرورت کا خیال رکھتی ہے اگر بچہ بیمار ہو جائے تو ماں خود بے چین ہو جاتی ہے وہ دن رات اس کی خدمت کرتی ہے اور اس کی صحت یابی کے لئے دعائیں مانگتی ہیں ، بچے کی ذرا سی تکلیف ماں کے دل کو بے قرار کر دیتی ہے ، ماں کی محبت میں نہ کوئی لالچ ہوتا ہے اور نہ کوئی صلح طلبی ، وہ صرف اپنی اولاد کی کامیابی اور خوشی چاہتی ہیں اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے سچی محبت ماں کی محبت ہے ، اسلام نے ماں کے حقوق کو بڑی اہمیت دی ہے ، قران مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے اس ماں نے اسے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر پیٹ میں رکھا ، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کی قربانیوں کو اللہ تعالی نے خاص طور پر بیان فرمایا ہے اسی طرح ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ماں اس شخص نے دوبارہ پوچھا پھر کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا تمہاری ماں تیسری بار بھی یہی جواب دیا اور چوتھی بار فرمایا تمہارا باپ ، اس حدیث سے ماں کی عظیم مقام کا اندازہ ہوتا ہے ، اسلام نے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ماں کی خدمت اور فرمانبرداری انسان کو جنت کا مستحق بناتی ہے ، ماں اپنی اولاد کے لئے بے شمار قربانیاں دیتی ہیں وہ اپنی نیند آرام خواہشات اور خوشیوں کو بچوں پر قربان کر دیتی ہے جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو ماں ہر وقت اس کی دیکھ بھال کرتی ہے وہ راتوں کو جاگ جاگ کر بچے کو سنبھالتی ہے اس کے خوراک تعلیم اور تربیت کا خیال رکھتی ہے جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو ماں ان کی تعلیم اور مستقبل کے لئے فکر مند رہتی ہے اور چاہتی ہے کہ اس کے بچے معاشرے میں کامیاب اور باعزت بنے اگر بچے کسی مشکل میں مبتلا ہو جائیں تو سب سے پہلے ان کی مدد کے لئے ماں آگے بڑھتی ہے ، تاریخ میں بے شمار ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں ماؤں نے اپنی اولاد کی کامیابی کے لئے عظیم قربانیاں دی حضرت امام شافعی ، حضرت امام بخاری اور دیگر عظیم شخصیات کی کامیابیوں کے پیچھے ان کی ماؤں کی محنت اور دعائیں شامل تھیں ، ماں کی تربیت کا کردار ایک اچھی ماں نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے بلکہ ان کی بہترین تربیت بھی کرتی ہے بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے ، بچہ سب سے پہلے بولنا چلنا اخلاق تہذیب اور آداب اپنی ماں سے سیکھتا ہے اگر ماں نیک دیندار اور با اخلاق ہو تو اس کی اولاد بھی اچھی صفات کی حامل بنتی ہے ماں اپنے بچے کو سچائی ایمانداری ادب اور انسانیت کا درس دیتی ہے معاشرے کی اصلاح میں بھی ماں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ ایک اچھی ماں ایک اچھا انسان تیار کرتی ہے مشہور قول ہے اگر تم مجھے اچھی مائیں دو تو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا ، یہ قول اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قوموں کی ترقی اور خوشحالی میں ماؤں کا بنیادی کردار ہوتا ہے ، ماں کی دعاؤں کی اہمیت تو الگ ہی ہے ، ماں کی دعا میں بہت تاثیر ہوتی ہے ماں دل سے اپنی اولاد کی کامیابی اور خوشحالی کی دعا کرتی ہے دنیا میں بے شمار لوگ اپنی کامیابی کا راز اپنی ماں کی دعاؤں کو قرار دیتے ہیں ماں کی دعا انسان کے لئے رحمت اور برکت کا سبب بنتی ہے اسی طرح ماں کی ناراضگی انسان کی زندگی میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے اسی لئے ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی ماں کو خوش رکھے اور اس کی خدمت کرے موجودہ دور میں ماں کی قدر کے معنی بدل گئے ہیں ، آج کے مصروف دور میں بہت سے لوگ اپنی دنیاوی مصروفیات میں اتنے گم ہو جاتے ہیں کہ اپنی ماں کی محبت اور قربانیوں کو بھول جاتے ہیں بعض لوگ بڑھاپے میں اپنی ماؤں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں یا ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں جو نہایت افسوسناک بات ہے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی ماں کے ساتھ محبت احترام اور نرمی کا برتاؤ کریں ان کی خدمت کریں ان کی بات سنیں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں خاص طور پر بڑھاپے میں ماں کو محبت اور توجہ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ماں صرف ایک دن کے احترام کی مستحق نہیں بلکہ پوری زندگی عزت اور محبت کی حقدار ہے مدر ڈے منانا اچھی بات ہو سکتی ہے لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم ہر دن اپنی ماں کی قدر کریں ، ماں کا کوئی دن نہیں بلکہ ماں سے ہر دن ہے ، 
   اردو ادب میں بھی ماں کی محبت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے شعراء اور ادباء نے ماں کی عظمت کو اپنے الفاظ میں سراہا ہے علامہ اقبال نے ماں کی محبت اور دعا کو انسان کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا بہت سے شعراء نے ماں کی جدائی شفقت اور قربانی کو موضوع بنایا ہے ، منور رانا نے بھی ماں کی محبت میں بہت کچھ لکھا ہے ، 
ایک مشہور شعر ہے ماں کے قدموں تلے جنت ہے یہ حقیقت ہر ایک انسان کے لئے نعمت ہے ، اسی طرح ایک اور شعر میں نے جنت تو نہیں دیکھی ، لیکن ماں دیکھی ہے ، یہ اشعار ماں کی عظمت اور محبت کو خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں اللہ تعالی کی سب سے بڑی نعمت اور رحمت ہے اس کی محبت بے مثال ، بے غرض اور لازوال ہوتی ہے ، ماں اپنی اولاد کی خوشیوں کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار رہتی ہے اسلام نے ماں کے مقام کو بہت بلند رکھا ہے اور اس کی خدمت کو جنت کا ذریعہ قرار دیا ہے ، ہم سب پر لازم ہے کہ اپنی ماؤں کی عزت کریں ان سے محبت کرے اور ان کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں ہمیں کبھی ان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے ، دنیا میں اگر کوئی رشتہ سب سے زیادہ خالص سچا اور مقدس ہے تو وہ ماں کا رشتہ ہے اللہ تعالی ہم سب کو ماؤں کی قدر کرنے ان کی خدمت کرنے اور ان کی دعائیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔