فکری فاصلے ، سماجی تناظر میں۔ از قلم : محمود علی لیکچرر۔
فکری فاصلے ، سماجی تناظر میں۔
از قلم : محمود علی لیکچرر۔
انسانی رشتے صرف خون زبان یا قربت سے قائم نہیں رہتے بلکہ اصل تعلق خیالات احساسات اور باہمی سمجھ بوجھ سے پیدا ہوتا ہے جب دو افراد یا دو نسلیں ایک دوسرے کے نظریات عقائد
اقدار اور طرزِ فکر کو سمجھنے سے قاصر رہیں تو وہاں “فکری فاصلے” جنم لیتے ہیں۔ یہ فاصلے بظاہر نظر نہیں آتے، مگر خاموشی غلط فہمی، بے اعتمادی اور تنہائی کی صورت میں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرتے ہیں۔
موجودہ دور میں فکری فاصلے ایک اہم سماجی مسئلہ بن چکے ہیں۔ پہلے زمانے میں خاندان مشترکہ اقدار کے تحت زندگی گزارتے تھے۔ بزرگوں کے تجربات اور نوجوانوں کے جذبات ایک ہی دائرے میں پروان چڑھتے تھے۔ مگر جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، بدلتے ہوئے تعلیمی رجحانات اور تیز رفتار زندگی نے انسان کے اندازِ فکر کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ آج ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد الگ الگ ذہنی دنیاؤں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
فکری فاصلے صرف نسلوں کے درمیان نہیں بلکہ دوستوں میاں بیوی استاد اور شاگرد، حتیٰ کہ ایک ہی نظریے سے وابستہ لوگوں میں بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ عدم برداشت ہے۔ آج ہر شخص اپنی رائے کو حتمی سچ سمجھتا ہے اور دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ مکالمے کی جگہ بحث نے لے لی ہے، اور دلیل کی جگہ جذباتی ردِعمل نے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ انسان اب حقیقی تعلقات سے زیادہ ڈیجیٹل دنیا میں زندہ ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے بات کم اور اسکرینوں سے زیادہ گفتگو کرتے ہیں۔ نتیجتاً تعلقات کی گرمی کم اور ذہنی دوریاں زیادہ ہوگئی ہیں۔ معلومات کی کثرت نے شعور تو دیا، مگر برداشت اور گہرائی کو کمزور کردیا۔
فکری فاصلے کا ایک پہلو تعلیمی اور معاشی تفاوت بھی ہے۔ مختلف طبقوں کے افراد ایک دوسرے کی زندگی اور مسائل کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں احساسِ محرومی، نفرت اور تقسیم بڑھتی جارہی ہے۔ جب انسان دوسرے کے حالات اور نظریات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا تو فاصلے مزید گہرے ہوجاتے ہیں۔
تاہم اختلافِ رائے خود کوئی برائی نہیں۔ ہر انسان کا تجربہ مختلف ہوتا ہے، اس لیے سوچ کا مختلف ہونا فطری امر ہے۔ اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ اس اختلاف کو برداشت نہ کرنا ہے۔ اگر معاشرے میں مکالمہ، احترام اور برداشت کی فضا پیدا ہوجائے تو بہت سے فکری فاصلے ختم ہوسکتے ہیں۔
ادب، تعلیم اور تہذیب اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کتابیں انسان کو دوسرے ذہنوں سے روشناس کراتی ہیں، جبکہ مکالمہ انسان کو دوسروں کے احساسات سمجھنے کا شعور دیتا ہے۔ ہمیں نئی نسل کو صرف معلومات نہیں بلکہ برداشت، رواداری اور سننے کا ہنر بھی سکھانا ہوگا۔
مختصراً، فکری فاصلے جدید معاشرے کا ایک خاموش المیہ ہیں۔ یہ فاصلے انسانوں کو جسمانی طور پر قریب مگر روحانی اور ذہنی طور پر دور کردیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی نہ سمجھیں بلکہ اسے انسانی تنوع کا حسن مانیں۔ کیونکہ معاشرہ نظریات کے فرق سے نہیں، دلوں کے فاصلے بڑھ جانے سے ٹوٹتا ہے۔
Comments
Post a Comment