احساسِ کمتری۔(احساسِ محرومی، عدمِ اعتماد اور خود کو کمتر سمجھنے کی نفسیاتی کیفیت)۔ ازقلم : محمد مسلم کبیر ، لاتور۔



احساسِ کمتری۔
(احساسِ محرومی، عدمِ اعتماد اور خود کو کمتر سمجھنے کی نفسیاتی کیفیت)
ازقلم : محمد مسلم کبیر ، لاتور۔

انسانی زندگی میں اعتماد، خود شناسی اور مثبت سوچ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر، ناکام یا بے وقعت سمجھنے لگتا ہے تو اس کیفیت کو “احساسِ کمتری” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی اور سماجی بیماری ہے جو انسان کی شخصیت، کردار، تعلقات اور کامیابیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
احساسِ کمتری انسان کو ظاہری طور پر خاموش، خوفزدہ، غصہ کرنے والا یا حد سے زیادہ خود نمائی کرنے والا بنا دیتی ہے۔ بعض لوگ اپنی کمزوری چھپانے کے لیے غرور، تکبر یا دوسروں کی تحقیر کا راستہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ مایوسی، تنہائی اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
احساسِ کمتری کی وجوہات
احساسِ کمتری کے کئی اسباب ہوتے ہیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں:
1۔ بچپن کی تربیت : اگر بچپن میں بچوں کو بار بار ڈانٹا جائے، دوسروں سے موازنہ کیا جائے یا ان کی صلاحیتوں کو کمتر سمجھا جائے تو ان کے دل میں خود اعتمادی ختم ہونے لگتی ہے۔
2۔ غربت یا معاشی مسائل :معاشرے میں دولت، لباس اور ظاہری شان و شوکت کو معیار بنایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کم وسائل رکھنے والے افراد خود کو کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔
3۔ تعلیمی یا جسمانی کمزوریاں:تعلیم میں کمزوری، جسمانی معذوری، رنگ، قد یا شکل و صورت کی وجہ سے بھی انسان احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
4۔ معاشرتی رویّے: ذات پات، زبان، مذہب، قومیت یا طبقاتی فرق بھی انسان میں محرومی اور کمتری پیدا کرتے ہیں۔
5۔ مسلسل ناکامیاں:بار بار ناکامی ملنے سے انسان اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتا ہے اور خود اعتمادی کھو بیٹھتا ہے۔
احساسِ کمتری کی علامات::
ہر وقت خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنا،لوگوں کے سامنے بات کرنے سے گھبرانا،تنہائی پسند بن جانا،دوسروں کی کامیابی سے حسد کرنا،
معمولی تنقید پر شدید دلبرداشتہ ہونا،منفی سوچ اور مایوسی،اپنی صلاحیتوں کا احساس اور اس پر اعتماد نہ ہونا،
احساسِ کمتری کے نقصانات::
احساسِ کمتری انسان کی شخصیت کو کمزور کر دیتا ہے۔ ایسا شخص زندگی کے اہم فیصلے کرنے سے گھبراتا ہے، اپنی صلاحیتیں استعمال نہیں کر پاتا اور اکثر ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہ کیفیت معاشرے میں نفرت، حسد اور انتقام کے جذبات کو بھی جنم دیتی ہے۔ بعض لوگ اپنی محرومی کو چھپانے کے لیے دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ مکمل مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اسلام کی نظر میں احساسِ کمتری::
اسلام انسان کو عزت، وقار اور اعتماد کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اور ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔"اسلام میں کسی انسان کی برتری رنگ، نسل، زبان یا دولت سے نہیں بلکہ تقویٰ، اخلاق اور کردار سے ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کے ذریعے۔"یہ تعلیمات انسان کو احساسِ کمتری سے نکال کر عزتِ نفس اور مساوات کا درس دیتی ہیں۔
احساسِ کمتری سے نجات کے طریقے::
1۔ خود اعتمادی پیدا کریں:اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کو پہچانیں۔ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور ہوتی ہے۔
2۔ دوسروں سے موازنہ ترک کریں: ہر انسان کا سفر، حالات اور صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ مسلسل موازنہ انسان کو مایوسی میں مبتلا کرتا ہے۔
3۔ مثبت سوچ اپنائیں:ناکامی کو انجام نہیں بلکہ سیکھنے کا ذریعہ سمجھیں۔
4۔ علم اور مہارت حاصل کریں:تعلیم، مطالعہ اور نئی مہارتیں انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔
5۔ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں:مثبت اور حوصلہ افزا ماحول انسان کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔
6۔ اللہ پر بھروسہ:دعا، عبادت اور روحانی تعلق انسان کے دل کو سکون اور اعتماد عطا کرتا ہے۔
احساسِ کمتری ایک خاموش بیماری ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔ اگر انسان خود کو پہچان لے، اپنی خوبیوں پر یقین کرے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو وہ اس کیفیت سے باہر نکل سکتا ہے۔
ہر انسان اللہ کی تخلیق ہے اور ہر فرد کسی نہ کسی صلاحیت کا مالک ہے۔ زندگی کا اصل حسن دوسروں جیسا بننے میں نہیں بلکہ اپنی اصل پہچان اور صلاحیت کو نکھارنے میں ہے۔

      محمد مسلم کبیر، لاتور
                                         8208435414

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔