جامعہ البنات حیدرآباد میں گرمائی اسلامی کلاسز کے اختتام کے موقع پر جلسۂ تقسیم انعامات.
جامعہ البنات حیدرآباد میں گرمائی اسلامی کلاسز کے اختتام کے موقع پر جلسۂ تقسیم انعامات.
حیدرآباد (راست) جامعة البنات حیدرآباد ميں 25 روزہ گرمائی اسلامک کلاسز کے اختتام پر طلباء وطالبات کے شاندار تعلیمی مظاہرے پر مشتمل جلسہ منعقد ہوا ۔
جسمیں 7سالہ ننھے بچوں سے لیکر انٹر لیول کی طالبات نے مختصر مدت میں سیکھے ہوۓ علم کا بہترین عملی مظاہرہ کیا۔
طالبہ سحر احمد کی قرأت سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ طالبہ یمنی نے حمد پیش کی ۔ ننھے طلباء وطالبات نے قرآنی سورتیں،40احادیث مع ترجمہ، عقیدۂ توحید پر مکالمہ، اسلامی مہینوں کے نام ، قرآنی دعائیں، مسنون دعائیں اور اذکار نماز زبانی پیش کیں ۔اسکے علاوہ ننھے طلباء نے ایکشن ترانہ "ہم نیکی کے جانباز سپاہی" اور ننھی طالبات نے علم دین کی اہمیت پر "فرشتے پر بچھاتے ہیں" ایکشن ترانہ پیش کیا۔
ہاجرہ زہرہ اور شیما نے اسماء الحسنی، عفیفہ نے نعت
خدیجہ، حفصہ، صفیہ اور ام ہانی نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکالمہ کی شکل میں پیش کیا۔ عشرۂ مبشرہ اور ازواج مطھرات کے نام سارہ اور آمنہ نے پیش کئے۔
فاطمہ مرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر جامع تقریر پیش کی۔
یمنی نے اسوۂ ابراھیم علیہ السلام کے عنوان پر تقریر پیش کرتے ہوۓ ابراھیم علیہ السلام اور انکے خاندان جیسا جذبۂ ایمانی پیدا کرنے پر زور دیا۔
طالبہ عسلا نے اسلام میں پردے کی اہمیت پر تقریر کرتے ہوۓ بتایا کہ حجاب عورت کا شعار اور عورت کے تحفظ کا ضامن ہے۔ ساتھ ہی بتایا کہ ہمارے ملک میں آۓ دن حجابی مسلم خواتین کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔حجاب ہماری ترقی کی راہ میں ہرگز رکاوٹ نہیں۔ ہم شرعی پردے میں رہ کر دین و دنیا ہر میدان میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔
حمیراء نے نماز کی اہمیت پر اور منال فاطمہ نے قرآن مجید ہمارے لئے راہ ہدایت کے عنوان پر انگریزی تقاریر پیش کیں۔
طالبہ عفیفہ نے اسلام میں عورت کا مقام عنوان پر تقریر پیش کرتے ہوے بتایا کہ اسلام نے عمل کے اعتبار سے عورت اور مرد دونوں کو مساوی قرار دیا ۔عورت کو اسلام نے ماں بہن بیٹی اور بیوی کے روپ میں عزت واحترام سے نوازا ہے اور دنیا کی مثالی ماوں بی بی مریم و آسیہ علیھما السلام بی بی خدیجہ اور فاطمہ رضی اللہ عنھا کے کردار کو اپنانے کی تلقین کی۔سحر احمد نے "اسلام کی راہ میں صحابہ وصحابیات کی قربانیاں"کے عنوان پر تقریر پیش کرتے ہوے انھیں اپنا آئیڈیل بنانے کی نصیحت کی ۔
مسجد اقصی اور اہل فلسطین سے اپنے ایمانی تعلق کو ظاہر کرتے ہوۓ"یا اخوتنا لبیک القدس لنا لبیک" ترانہ پیش کرکے طالبات نے ایمانی حرارت کا ثبوت دیا ۔
کیمپ کی ذمہ دار محترمہ قیصر صاحبہ نے "تربیت اولاد میں ماوں کا کردار" کے موضوع پر جامع اظہار خیال کیا۔ آپ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں بتایا کہ اللہ کی بےشمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت اولاد ہے۔والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہیکہ وہ اپنی اولاد کو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ اچھے اخلاق کی تعلیم دیں۔انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ وصحابیات رضی اللہ عنھم کی سیرت سے واقف کروائیں۔انھیں حلال وحرام کی تمیز سکھائیں ۔انھیں اپنے عمل سے صلہ رحمی اور ایثار و قربانی کی تعلیم دیں۔انکی دنیا سنوارنے کے ساتھ انکی آخرت کی فکر کریں۔
اپنے بچوں کو بری صحبت ،فحش چیزوں اور غلط ماحول سے بچائیں۔فتنوں کے دور میں اپنے اور اپنی نسل کے دین کی حفاظت کے لئے علم دین سے تعلق بڑھائیں۔سوشل میڈیا اور موبائیل کے غلط استعمال سے خود بھی بچیں اور انھیں بچائیں۔
بچوں کی تربیت کے سلسلے میں حضرت ابراھیم حضرت ہاجرہ کی تربیت اور لقمان علیھم السلام کی نصیحتوں کو یاد رکھیں۔
آپ نے مولانا مودودی رح کے قول کا حوالہ دیتے ہوے کہا کہ نیک اولاد کے لئے دعا کرنا بھی انکی تربیت میں شامل ہے۔
آپ نے بتایا کہ اگر باپ حضرت علی اور ماں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھما جیسی ہو تو بچے حسن و حسین رضی اللہ عنھما جیسے ہوں گے ۔
مہمان خصوصی محترمہ عطیہ ربی صالحاتی صاحبہ ڈائرکٹر قرآن اکیڈمی نے اپنے جامع خطاب کے آغاز میں سورت الشمس کی آیات ونفس وما سوّٰھا ۔۔۔۔۔کے حوالے سے بتایا کہ خیر و شر کو پہچاننے کی صلاحیت اللہ تعالی نے ہر انسان میں ودیعت فرمائ ہے۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کو جانچنے کے دو معیار بتاۓ
ہیں۔
1جو چیز دل میں کھٹکے وہ گناہ ہے۔
2 ہم سے کوئ غلط کام سرزد ہو اور ہم لوگوں سے اسکو چھپانا چاہیں تو یہ بھی گناہ ہے۔
آپ نے بتایا کہ تربیت یافتہ ہونے کی تین نشانیاں ہیں۔
1سچ پر قائم رہنا
2نماز کی پابندی
3خدمت خلق
اور کہا
تعلیم یافتہ ہونے کی بھی تین نشانیاں ہیں
confidence ایمان
Creativityتخلیقی صلاحیت
Character کردار
آپ نے ایمان و اخلاق کی اصلاح کے ساتھ صحت بخش غذاؤں کے استعمال پر توجہ دلائی ،کیونکہ یہ صحت کو متاثر کرنے کے ساتھ اسراف میں بھی داخل ہے ۔
اس موقع پر آپ نے طالبات کے ساتھ والدات کو بھی مبارکباد پیش کی کہ اتنی مختصر مدت میں آپ نے بہت کچھ سیکھا۔
اس سمر کیمپ میں بچوں کو عقیدہ ،سیرت النبی ،فقہی مسائل، قصص الانبیاء ،اسکرین ویڈیوز کے ذریعہ اسلامی فاتحین کی تاریخ قرآنی سورتیں ،دعائیں، احادیث اسماء الحسنی مع ترجمہ اور مختلف لکچرز کے ذریعہ اہم دینی معلومات فراہم کی گئیں ۔
اسکے علاوہ مختلف فزیکل ایکٹیوٹز آرٹ اینڈ کرافٹ وغیرہ کے ذریعہ انکی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کی گئی ۔آخری دن بچوں کے لئے pot luck party کا اہتمام کرکے انھیں مسنون طریقے سے کھانے کے آداب سکھاے گئے ۔
سمر کیمپ کے اختتام پر بچوں کا باقاعدہ امتحان لیا گیا ۔اسلامک چارٹ مقابلہ،habit tracker کے ذریعہ نماز واخلاقیات کی پابندی کا مقابلہ، گیمس، نشانہ بازی وغیرہ مختلف مقابلہ جات منعقد کئے گئے ۔ جن میں اول دوم سوم مقام حاصل کر نے والے طلباء کوخصوصی انعامات سے نوازا گیا۔
پابندی سے حاضر ہونے والے طلباء کو حاضری کا خصوصی انعام دیا گیا.
اور بقیہ تمام طلباء کو ترغیبی انعامات سے نوازا گیا۔ انعامات کی تقسیم صدر معلمہ و مہمان خصوصی کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔
سمر کیمپ کی معلمہ حبیبہ فاطمہ نے نظامت کے فرائض انجام دیے ۔
جلسہ کی صدارت صدر معلمہ جامعہ البنات حیدرآباد محترمہ آنسہ سمیہ نے کی ۔ اس جلسہ میں اولیاء طالبات (خواتین) کی کثیر تعداد شریک رہی ۔انھوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوے بتایا کہ اس کیمپ سے ہمارے بچوں کے برتاؤ و اخلاق میں نمایاں تبدیلی محسوس ہوئ اور خصوصا بچے نماز کے پابند بن گئے۔ الحمد للہ
جلسے کے انتظامات سکریٹری جامعہ ڈاکٹر سید معراج صاحب نے کیے۔ موسم گرما کی مناسبت سے تمام شرکاء وطلباء کو بہترین مشروب اور اسنیکس پیش کرتے ہوۓ جلسہ کا اختتام عمل میں لایا گیا ۔
جاری کردہ: انتظامیہ جامعۃ البنات
Comments
Post a Comment