پینتیس سال بعد - از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔
پینتیس سال بعد -
از قلم : عارف محمد خان، جلگاؤں۔
مئی کی ایک خوشگوار شام تھی۔ شہر کے قدیم اسکول کی عمارت آج غیر معمولی طور پر جگمگا رہی تھی۔ دروازے پر رنگین قمقمے آویزاں تھے، اسٹیج پر سبز اور سفید پھولوں کی سجاوٹ تھی، اور بڑے حروف میں لکھا تھا۔
*“دہم جماعت 1988 کی بیچ: پینتیس سال بعد ایک یادگار ملاقات”*
وقت نے سب کے چہروں پر اپنی لکیریں ضرور کھینچ دی تھیں، مگر دلوں میں بچپن کی شوخیاں آج بھی زندہ تھیں۔
اس پروگرام کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ دسویں جماعت کو پڑھانے والے تمام اساتذہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ کوئی لاٹھی کے سہارے چل رہا تھا، کوئی کمزور بینائی کے باوجود اپنے شاگردوں کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ہر استاد کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔
پروگرام کی صدارت اسکول کے مشہور ریاضی کے استاد، شیخ سلیم کر رہے تھے۔
وہی شیخ سلیم سر… جن کے سخت مزاج اور پیچیدہ سوالات سے کبھی پوری جماعت کانپ جایا کرتی تھی۔ آج ان کے سفید بال اور دھیمی آواز وقت کے گزرنے کی گواہی دے رہے تھے۔
جب وہ اسٹیج پر آئے تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
“سر! وہ الجبرا ابھی تک یاد ہے!”
کسی نے پیچھے سے آواز لگائی تو پورا ہال قہقہوں سے بھر گیا۔
شیخ سلیم سر بھی مسکرا دیے۔
“تم لوگوں کو الجبرا کم، شرارتیں زیادہ یاد ہیں!”
یہ سنتے ہی ماحول مزید خوشگوار ہوگیا۔
ایک ایک کر کے تمام طلبہ و طالبات ہال میں داخل ہو رہے تھے۔ کوئی ڈاکٹر بن چکا تھا، کوئی انجینئر، کوئی استاد، کوئی پولیس افسر،تو کوئی کاروباری شخصیت۔ مگر آج سب اپنی کامیابیوں سے زیادہ اپنی یادوں کے ساتھ آئے تھے۔
سب سے خوبصورت منظر یہ تھا کہ تقریب میں آنے والی تقریباً تمام طالبات نے باوقار حجاب اوڑھ رکھا تھا۔
سادگی، وقار اور متانت ان کے چہروں سے جھلک رہی تھی۔ کئی اساتذہ یہ منظر دیکھ کر خوشی سے بھر گئے۔
اردو کے استاد نے دھیرے سے کہا:
“وقت بدل گیا… مگر ہماری بچیاں اپنی تہذیب نہیں بھولیں۔”
اسی دوران ہال کے دروازے پر ایک خاموشی سی چھا گئی۔
سب کی نظریں ایک خاتون پر جا ٹھہریں۔
وہ آہستہ آہستہ اندر داخل ہو رہی تھی۔ قیمتی لباس، بلند ایڑھی کی سینڈل، کھلے بال، چہرے پر گہرا میک اپ… اور سب سے نمایاں بات یہ کہ اس نے حجاب نہیں پہنا تھا۔
کچھ لمحوں کے لیے ہال میں عجیب سا سکوت پھیل گیا۔
وہ تھی۔ رابعہ۔
وہی رابعہ جو دسویں جماعت میں خود کو سب سے زیادہ شریف، مہذب اور ذہین سمجھتی تھی۔
اسے اپنی ذہانت پر بے حد غرور تھا۔ وہ اکثر دوسری طالبات کو کم تر سمجھتی، ان کے لباس اور انداز پر تنقید کرتی، اور خود کو مثالی طالبہ قرار دیتی۔
اس زمانے میں وہ ہمیشہ نصیحتیں کیا کرتی تھی۔
“لڑکی کی اصل خوبصورتی اس کی سادگی میں ہوتی ہے۔”
آج وہی رابعہ سب سے مختلف دکھائی دے رہی تھی۔
طالبات ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگیں۔
“یہ رابعہ ہے؟”
“یقین نہیں آتا…”
سرگوشیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
شیخ سلیم سر نے اپنی عینک درست کی اور چند لمحے خاموشی سے رابعہ کو دیکھتے رہے۔
ان کے چہرے پر حیرت سے زیادہ افسوس تھا۔
رابعہ سب سے ملی، مگر اس کے چہرے پر عجیب سی بے چینی تھی۔ شاید وہ خود بھی محسوس کر رہی تھی کہ وہ اس محفل میں اجنبی بن چکی ہے۔
جب تمام طالبات ایک ساتھ تصویر بنوانے اسٹیج پر جمع ہوئیں تو حجاب میں ملبوس خواتین کے درمیان رابعہ بہت الگ نظر آ رہی تھی۔
اسی لمحے اردو کے استاد نے دھیمی آواز میں کہا:
“زندگی صرف ڈگریوں اور کامیابیوں کا نام نہیں… انسان اپنے کردار اور اقدار سے پہچانا جاتا ہے۔”
یہ جملہ قریب بیٹھی چند طالبات نے بھی سن لیا۔
رابعہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
پروگرام اپنے عروج پر تھا۔ کوئی پرانی یادیں دہرا رہا تھا، کوئی اپنے اساتذہ کے ہاتھ چوم رہا تھا، کوئی پرانے دوستوں کو گلے لگا کر رو پڑتا تھا۔
پھر آخر میں شیخ سلیم سر خطاب کے لیے کھڑے ہوئے۔
ہال خاموش ہوگیا۔
انہوں نے دھیمی مگر پُراثر آواز میں کہا۔
“پینتیس سال پہلے تم سب میرے سامنے طالب علم تھے۔ آج تم زندگی کے مختلف میدانوں میں کامیاب انسان ہو۔ مگر یاد رکھو… اصل کامیابی وہ نہیں جو دنیا کو نظر آئے، بلکہ وہ ہے جو انسان کے کردار، حیا اور اخلاق میں دکھائی دے۔”
ان کی نظریں چند لمحوں کے لیے رابعہ پر ٹھہر گئیں۔
“وقت انسان کو بہت کچھ دیتا ہے… مگر اگر انسان اپنی اصل کھو دے تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اندر سے خالی رہ جاتا ہے۔”
ہال پر خاموشی طاری ہوگئی۔
رابعہ کی نگاہیں جھک گئیں۔
شاید پینتیس سال بعد پہلی مرتبہ اسے اپنی ڈگریوں، دولت اور ظاہری چمک سے زیادہ کسی اور چیز کی کمی محسوس ہوئی تھی۔
پروگرام ختم ہوا تو سب لوگ ایک دوسرے سے بچھڑتے وقت اشک بار تھے۔
مگر اس شام اسکول کی پرانی دیواروں نے ایک عجیب سبق بھی دیکھا تھا:
وقت انسان کے چہرے بدل دیتا ہے،
مگر کردار ہی انسان کی اصل پہچان بن کر رہ جاتا ہے۔
Comments
Post a Comment