زندگی کی آزمائشیں — مایوسی نہیں، بیداری کا پیغام۔ ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
زندگی کی آزمائشیں — مایوسی نہیں، بیداری کا پیغام۔
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
آج کا انسان بظاہر بہت ترقی کر چکا ہے۔ آسائشیں بڑھ گئی ہیں، سہولتیں عام ہو گئی ہیں، دنیا کی ہر چیز ہاتھوں میں سمٹ آئی ہے، مگر اس سب کے باوجود دل کا سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ معمولی سی پریشانی آ جائے تو انسان ٹوٹ جاتا ہے، ذرا سا نقصان ہو جائے تو شکوہ شروع ہو جاتا ہے، حالات خلاف ہو جائیں تو دل میں یہ سوال اٹھنے لگتا ہے: “آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟” “کیا دنیا بھر کی پریشانیاں میرے ہی لیے ہیں؟” “میں ہی کیوں ہر وقت آزمائشوں میں گھرا رہتا ہوں؟”
یہ سوچ آہستہ آہستہ انسان کو مایوسی کی طرف لے جاتی ہے، اور مایوسی وہ اندھیرا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔ حالانکہ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر یقین رکھتا ہے۔ خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، تکلیف آئے تو صبر کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیا ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔
یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، آرام گاہ نہیں۔ یہاں کبھی خوشی ہوگی، کبھی غم ہوگا؛ کبھی کامیابی ہوگی، کبھی ناکامی ہوگی؛ کبھی سکون ہوگا، کبھی آزمائش ہوگی۔ یہی زندگی کا حسن بھی ہے اور حقیقت بھی۔
اگر انسان کی پوری زندگی بغیر کسی پریشانی کے گزرنے لگے، ہر خواہش فوراً پوری ہو جائے، ہر راستہ آسان ہو جائے، تو انسان آہستہ آہستہ غفلت میں ڈوب جاتا ہے۔ اسے اپنے رب کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، وہ اپنے آپ کو مضبوط سمجھنے لگتا ہے، اپنی غلطیوں کو بھول جاتا ہے، اور یہی غفلت انسان کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔
ذرا ایک گاڑی چلانے والے شخص کے بارے میں سوچئے۔ اگر سڑک ہر جگہ بالکل سیدھی، ہموار اور خالی ہو، کہیں کوئی موڑ نہ ہو، کوئی رکاوٹ نہ ہو، کوئی اسپیڈ بریکر نہ ہو، تو ڈرائیور بے خوف ہو کر گاڑی کی رفتار بڑھا دیتا ہے۔ ابتدا میں اسے یہ رفتار بہت اچھی لگتی ہے، مگر یہی بے احتیاطی ایک بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے سڑکوں پر اسپیڈ بریکر لگائے جاتے ہیں تاکہ انسان اپنی رفتار کو قابو میں رکھے، سنبھل کر چلے، اور اپنی حفاظت کر سکے۔
بالکل اسی طرح زندگی کی مشکلات بھی انسان کے لیے روحانی اسپیڈ بریکر ہیں۔ یہ مشکلات ہمیں روک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ یہ ہمیں ہماری حقیقت یاد دلاتی ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کمزور ہیں اور ہمارا اصل سہارا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
بعض اوقات انسان دولت میں اللہ کو بھول جاتا ہے، صحت میں غفلت کا شکار ہو جاتا ہے، جوانی میں نافرمانی کرنے لگتا ہے، مگر جب بیماری آتی ہے، رزق تنگ ہوتا ہے، یا دل کسی تکلیف سے گزرتا ہے، تب وہی انسان راتوں کو جاگ کر اپنے رب کو پکارتا ہے۔ یہی آزمائش کا اصل مقصد ہے کہ بندہ اپنے رب کی طرف لوٹے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾
“بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے، یقیناً ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔” — سورۃ الشرح
یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ کوئی تکلیف ہمیشہ نہیں رہتی۔ ہر اندھیری رات کے بعد روشنی آتی ہے، ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے، اور ہر آزمائش کے بعد راحت بھی آتی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ انسان صبر اور ایمان کا دامن نہ چھوڑے۔
آج انسان کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ صرف اپنی پریشانیوں کو دیکھتا ہے، اللہ کی نعمتوں کو نہیں دیکھتا۔ اگر ایک تکلیف ہے تو اس کے ساتھ سینکڑوں نعمتیں بھی ہیں۔ انسان ایک بیماری پر روتا ہے مگر یہ نہیں سوچتا کہ جسم کے کتنے اعضا صحیح سلامت کام کر رہے ہیں۔ ایک نقصان پر پریشان ہوتا ہے مگر یہ نہیں دیکھتا کہ اللہ نے کتنی بار اسے بڑے نقصان سے بچایا ہے۔
اصل ایمان یہ ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ کی حکمت پر یقین رکھے۔ بعض اوقات جو چیز ہمیں تکلیف لگتی ہے، حقیقت میں وہی ہمارے حق میں بہتر ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات جس چیز کو ہم اپنی خوشی سمجھتے ہیں، وہی آگے چل کر ہمارے لیے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ﴾
“ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہی تمہارے لیے بہتر ہو۔” — سورۃ البقرہ
ایک مومن کبھی حالات سے نہیں ٹوٹتا، کیونکہ اس کا تعلق لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ سے ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر ساری دنیا ساتھ چھوڑ دے تب بھی اللہ کافی ہے۔ اسی لیے وہ مشکلات میں بھی امید رکھتا ہے، آنسوؤں میں بھی دعا کرتا ہے، اور اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے سب سے بڑی مثال ہے۔ آپ ﷺ پر کتنی آزمائشیں آئیں: طائف کی تکلیف، اپنوں کی مخالفت، غربت، بھوک، جنگیں، صحابہؓ کی شہادتیں، مگر اس کے باوجود آپ ﷺ نے کبھی مایوسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیا۔ آپ ﷺ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھتے تھے۔
آج ہمیں بھی یہی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی کی تکلیفوں کو صرف سزا نہ سمجھیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھیں۔ جب کوئی پریشانی آئے تو صرف یہ نہ کہیں: “یا اللہ! یہ میرے ساتھ کیوں؟” بلکہ یہ سوچیں: “یا اللہ! شاید تو مجھے اپنے قریب بلانا چاہتا ہے۔”
دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے، کیونکہ یہاں ہر خواہش پوری نہیں ہوتی۔ انسان بہت کچھ چاہتا ہے مگر ہر چیز نہیں ملتی۔ کبھی حالات روک دیتے ہیں، کبھی آزمائشیں آ جاتی ہیں، لیکن ایک سچا مومن جانتا ہے کہ اصل زندگی آخرت کی ہے۔ اگر دنیا میں صبر کر لیا، اللہ کی رضا پر راضی رہے، اپنے ایمان کو بچا لیا، تو آخرت کی ہمیشہ رہنے والی کامیابی اس کا انتظار کر رہی ہے۔
اسی لیے ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ مشکلات کو نفرت کی نظر سے نہیں بلکہ حکمت کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ تکلیفوں کو صرف غم نہ سمجھیں بلکہ اللہ کی طرف سے بیداری کا پیغام سمجھیں۔ مایوسی کو دل سے نکال دیں کیونکہ مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے، جبکہ امید مومن کی طاقت ہے۔
یاد رکھیں: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کبھی بے سہارا نہیں چھوڑتا۔ جو آنسو رات کی تنہائی میں اللہ کے سامنے بہتے ہیں، وہ کبھی ضائع نہیں جاتے۔ جو دل آزمائش میں بھی اللہ کو پکڑے رکھتا ہے، اللہ اسے ضرور سنبھال لیتا ہے۔
لہٰذا زندگی میں چاہے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں، اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھیں، نماز کو تھامے رکھیں، دعا کو نہ چھوڑیں، صبر کا دامن پکڑے رکھیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ کی رحمت ہر پریشانی سے بڑی ہے۔
کیونکہ زندگی کی آزمائشیں انسان کو ختم کرنے نہیں، بلکہ اسے مضبوط، بیدار اور اللہ کے قریب کرنے آتی ہیں۔
Comments
Post a Comment