ماں باپ — صرف “ڈے” نہیں، پوری زندگی کی دعا - سید فاروق احمد قادری۔
ماں باپ — صرف “ڈے” نہیں، پوری زندگی کی دعا -
سید فاروق احمد قادری۔
آج ہم “مدر ڈے” بڑی شان و شوکت سے منا رہے ہیں۔ تصویریں، اسٹیٹس، تحفے اور لمبی لمبی پوسٹیں لکھی جا رہی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک دن “ماں” کے نام کر دینے سے ماں کے حقوق ادا ہو جاتے ہیں؟
اسلام نے تو ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے۔ ماں صرف ایک رشتہ نہیں، وہ محبت، قربانی، دعا اور ایثار کا دوسرا نام ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج کی نئی، پڑھی لکھی، امیر اور مصروف نسل “مدر ڈے” تو مناتی ہے، مگر بہت سی مائیں اولڈ ایج ہوم اور ہاسٹلوں میں تنہا زندگی گزار رہی ہیں۔
ہماری عمر اب 79 برس ہے۔ ہم نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب گھر میں بزرگوں کی عزت ہوا کرتی تھی۔ ماں کے پیر دبائے جاتے تھے، باپ کی خدمت کی جاتی تھی۔ ماں کی بات کو رحمت سمجھا جاتا تھا اور باپ کے حکم کو ذمہ داری۔ اس وقت رشتے موبائل کے اسٹیٹس سے نہیں، خدمت اور ادب سے زندہ رہتے تھے۔
یہ سچ ہے کہ ماں کا درجہ سب سے بلند ہے، لیکن باپ کی قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ باپ جو دن بھر دھوپ میں، فیکٹری میں، دکان میں یا مزدوری میں اپنی جوانی کھپا دیتا ہے تاکہ اس کے بچوں کا مستقبل روشن ہو سکے۔ وہ اپنی خواہشات قربان کر دیتا ہے تاکہ اولاد کی خواہشیں پوری ہو جائیں۔
آج معاشرے کو صرف “مدر ڈے” یا “فادر ڈے” نہیں، بلکہ “احساس” کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی ماں باپ سے محبت ہے تو ان کے بڑھاپے کو تنہا مت ہونے دیجئے۔ ان کے ساتھ وقت گزارئے، ان کی دعائیں لیجئے، ان کی خدمت کیجئے۔ کیونکہ تصویریں چند لمحوں کے لیے ہوتی ہیں، مگر والدین کی دعا پوری زندگی سنوار دیتی ہے۔
Comments
Post a Comment