نموِ محبت۔ - (افسانچہ) از قلم : محمود علی لیکچرر۔


نموِ محبت۔ - 
(افسانچہ) 
از قلم : محمود علی لیکچرر۔
8055402819

سردیوں کی ایک شام تھی۔
جمبیلی کے پھولوں کی مہک چھوٹے چھوٹے درختوں کے گرد یوں ٹھہری ہوئی تھی جیسے ہوا بھی کسی خاموش خواب میں ڈوب گئی ہو۔ چاندنی صحن میں اتر کر سفید سایوں کی چادر بچھا رہی تھی۔ دور کہیں کسی برتن کے ہلکے سے بجنے کی آواز آتی اور پھر خاموشی سب کچھ اپنے اندر سمیٹ لیتی۔
وہ ایک ہلکی سی نیند لے چکی تھی۔ شادی کو ابھی دو مہینے ہی ہوئے تھے۔ نئی زندگی کی مانوس اجنبیت اب بھی اس کے دل کے آس پاس دھیرے دھیرے چلتی رہتی تھی۔ جب اس نے کھڑکی کے پردے کو ذرا سا ہٹایا تو باہر رات انگڑائی لے رہی تھی۔ نیم سرد ہوا نے اس کے چہرے کو چھوا تو اسے یوں لگا جیسے کسی نے بہت آہستگی سے اس کا نام پکارا ہو۔
درختوں کے پتّے چاندنی میں بھیگے ہوئے تھے، اور جمبیلی کے پھولوں کی خوشبو میں ایک عجیب سی اداسی گھلی تھی۔ وہ چند لمحے خاموش کھڑی رہی۔ پھر اچانک اسے احساس ہوا کہ اب وہ اپنے میکے کی نہیں رہی، مگر ابھی مکمل طور پر اس گھر کی بھی نہیں بنی۔ محبت قربت ذمہ داری اور انجانے خواب سب اس کے اندر ایک ساتھ سانس لے رہے تھے۔
اتنے میں پیچھے سے آہستہ قدموں کی آہٹ آئی۔
“جاگ گئی تم؟”
اس نے پلٹ کر دیکھا۔ اس کے شوہر کے ہاتھ میں دو کپ چائے تھے جن سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ وہ مسکرایا تو سرد رات میں جیسے ایک نرم سی حرارت پھیل گئی اس نے چائے کا کپ لیا اور کھڑکی کے پاس بیٹھ گئی باہر چاندنی تھی، اندر نئی محبت کی دھیمی روشنی… اور ان دونوں کے درمیان خاموشی کی وہ خوبصورت زبان جسے صرف دل سمجھتے ہیںالأرواحُ إذا تآلفتْ بالمودَّةِ، جمعَ اللهُ بينَ القلوب."
“جب روحیں محبت سے مانوس ہو جائیں تو اللہ دلوں کو جوڑ دیتا ہے۔اچانک اسکے دادا کی یاد اگئی وہ اکثر یہ ایات پڑھا کرتے اور اُس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔