کردار کشی کرنا اسلام میں گناہ کبیرہ ہے! تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی.


کردار کشی کرنا اسلام میں گناہ کبیرہ ہے!
 تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی.
 9881836729 

 کسی کو غلط الفاظ سے پکارنا،اوراسکی عیب جوئ کرنا گناہ کے مترادف ہے۔ اور کسی کے تعلق سے بدگمانی رکھنا یہ بھی گناہ کے برابر ہے۔ حدیث میں ہے۔ ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں،اگرچہ کہ اس میں وہ برائ موجود کیوں نہ ہو۔غیبت کرنا ایسا ہے جیسے وہ اپنے سگے                        
مرے ہوے بھائ کا گوشت کھارہا ہو۔ اور خداے برتر کا فرمان ہے، غیبت کرنا قتل سے بڑھکر ہے۔ چناں چہ اللہ کا ارشاد ،اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے اجتناب کرو،اور بے شک گمان گناہ کا باعث بن جاتا ہے۔اور کسی کے پوشیدہ باتوں کی جستجو،اور اسکی ٹوہ میں نہ رہو۔ اور یہ کہ کسی کی غیبت ،چغلی نہ کریں۔ کیا تم میں سے کوئ یہ پسند کریگا کہ اپنے مرے ہوے بھائ کا گوشت کھاے ۔ہرگز نہیں، لہذا اللہ سے ڈرو اللہ توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ اگر آپ واقعی میں کوئ برائ دیکھیں تو اسکو حکمت اور مودت کے ساتھ دور کریں۔ اور اپنے رب کی طرف اچھی حکمت اور اچھی تدبیر سے اور بہترین پند ونصائح سےاور ان سے گفت و شنید بھی ایسے طریقہ سے کریں ،جو سب سے بہتر،سب سے اچھا اور نفیس ترین ہو۔ مومن بھائ کی عزت کعبہ سے بھی زیادہ حرمت والی اور محبوب ہے۔ کسی پر بہتان لگانا، کسی کو بے جا تکلیف دینا،اور بے جا اعتراضات کرنا یہ خدا کے قہر کو دعوت دینے کے مترادف اور خدا کے عذاب کو واقع کرنے والی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کے شر سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے، کیونکہ اکثر گناہ اور نہ اتفاقیاں زبان کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اور اس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کی وجہ سے معاشرہ میں بگاڑ اور نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اگر کہیں برائ دیکھیں تو حکمت عملی اور دانشمندی سے ازالہ کریں۔اور اسلام میں یہ خوبصورت اصول اور دستور ہے کہ کسی کی اصلاح کرنا مقصود ہوتو تو اسکو انفرادی طور پر نصیحت کریں، نہ کہ سوشل میڈیا پر نشر کرکے اور اجتماعیت میں بدنام کرنے کی مذموم کوشش کریں، یہ تو سراسر اسلامی اصولوں کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ اور عین دستور اور اسلام کے خلاف ہے۔ اور کسی کی تذلیل اور کھلی کردار کشی ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔ وہ خداے برتر جس کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ جس نے کائنات اور انسان کو بنایا۔ وہ خداے برتر جو اپنے بندوں کا راز چھپاتا ہے۔ جو ستار ہے، اور ہم اپنے ہی مومن بھائیوں کو برے القاب،اور ان کی عزت کو سرعام نقصان پہونچارہے ہیں ۔ اس عمل سے تو مدارس جو آج وقت کی اہم ضرورت یے۔ جہاں علماء ،ائماء علم کی روشنی کو آشکارہ کر رہے ہیں ،اور قال اللہ ،و قال الرسول کی صدا کو عام کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے ایسے بیجا اعتراضات سے مدارس کی ساکھ کو نقصان لاحق ہوگا۔ جو لوگ اس طرح کے عمل کے مرتکب ہورہے ہیں۔ انہیں اللہ کے حضور توبہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ شیطان کا سب سے پہلے حملہ علم اور اچھے کام کو روکنے کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئ برائ دید کو ملے تو آپ انہیں قرآن اور حدیث کی روشنی میں حکمت سے سمجھائیں، نہ کہ جاحیت اور مغلظات بول کر ۔ جو ذرہ برابر بھی خیر کا معاملہ کریگا،وہ بروز قیامت پاے گا۔ اور جو ذرہ برابر شر کریگا وہ بھی اس کا انجام پاےگا۔ آپ کسی کا تعارف برائ سے کروارہے ہیں تواللہ ہدایت عطا فرما۔اور اگر وہ ویسا نہیں ہے تو معترض اور الزام تراشیاں کرنے والے کو اللہ کے حضور معافی کا طلبگار ہونا چاہیے۔ جو چیز خالص نیت سے متعلق ہوتی ہے، اس میں دخل اندازی بڑا جرم ہے۔ اور یہ وہی شخص کرسکتا ہے، جو نادان ہو

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔