اصل خوبصورتی یا مصنوعی چمک؟۔ - سید فاروق احمد قادری۔


اصل خوبصورتی یا مصنوعی چمک؟۔ -  
سید فاروق احمد قادری۔

"چہرے پر میک اپ کی چمک ہو سکتی ہے،
مگر دل کی سچائی ہی اصل خوبصورتی ہوتی ہے۔"
پرانے زمانے میں نہ اتنے بیوٹی پارلر تھے، نہ مہنگے میک اپ برانڈ، نہ چہرے کو بدل دینے والی کریمیں۔ اس دور میں سادگی، حیا اور فطری خوبصورتی ہوا کرتی تھی۔ وقت بدلا، سائنس نے ترقی کی، بازار بڑھا، اشتہاروں نے انسان کے ذہن پر قبضہ کیا، اور آہستہ آہستہ خوبصورتی کو “مصنوعی رنگوں” میں قید کر دیا گیا۔
آج کی عورت ہو یا مرد، دونوں ظاہری چمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا میک اپ واقعی خوبصورتی ہے؟
وہ خوبصورتی جو پانی سے دھل جائے، پسینے سے مٹ جائے، یا رات کے اختتام پر اتر جائے — کیا وہ حقیقی حسن کہلا سکتی ہے؟
اصل خوبصورتی کردار کی ہوتی ہے
اصل خوبصورتی تو کردار، اخلاق، سادگی اور سچائی کی ہوتی ہے۔
مرد کی محنت، اس کی غیرت، اس کی ایمانداری، اور عورت کی حیا، عزت اور خلوص — یہی وہ حسن ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا اور مصنوعی حسن
معاشرتی طور پر دیکھا جائے تو آج سوشل میڈیا نے خوبصورتی کا معیار بدل دیا ہے۔ لوگ چہرہ دیکھتے ہیں، کردار نہیں۔ فالوورز گنے جاتے ہیں، انسانیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل احساسِ کمتری کا شکار ہو رہی ہے۔ ہر شخص خود کو “فلٹر” کے بغیر ادھورا سمجھنے لگا ہے۔
میک اپ — ایک مہنگی دوڑ
معاشی اعتبار سے میک اپ ایک بڑی صنعت بن چکا ہے۔ اربوں روپے صرف اس لیے خرچ کیے جا رہے ہیں کہ انسان وقتی طور پر دوسروں کو متاثر کر سکے۔ غریب طبقہ بھی اس دوڑ میں شامل ہونے پر مجبور ہے، چاہے گھر کے ضروری خرچے ہی کیوں نہ متاثر ہوں۔
سیاسی اور سماجی چہروں پر بھی میک اپ
سیاسی اور سماجی سطح پر بھی یہی حال ہے۔ آج چہرے سجائے جا رہے ہیں، حقیقتیں نہیں۔ وعدوں پر میک اپ ہے، تقریروں پر میک اپ ہے، حتیٰ کہ سچائی بھی مصنوعی لفظوں کے پردے میں چھپتی جا رہی ہے۔
یاد رکھیے!
قدرتی خوبصورتی وقت کے ساتھ نکھرتی ہے،
جبکہ مصنوعی خوبصورتی وقت کے ساتھ اتر جاتی ہے۔
چہرہ وقتی طور پر خوبصورت بنایا جا سکتا ہے، مگر دل کی خوبصورتی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو آئینے سے زیادہ کردار کی اہمیت سکھائیں۔ کیونکہ اصل حسن وہ ہے جو انسان کے اخلاق، رویّے اور سچائی سے جھلکے — نہ کہ صرف لپ اسٹک اور پاؤڈر سے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔