زبانِ اردو اور عدالتِ عظمٰی - ازقلم - منظور ندیم، ( سابق سیشن جج اکولہ )


 زبانِ اردو اور عدالتِ عظمٰی -  
ازقلم - منظور ندیم، ( سابق سیشن جج اکولہ )
رابطہ 9372501237


جلتے بجھتے ہوئے جگنو کی طرح زندہ ہیں 
ہم بھی اس ملک میں اردو کی طرح زندہ ہیں۔

اسد بدایونی مرحوم کا یہ شعر مجھے اسلٸے بھی اکثر یاد آتا ہیکہ ہر سہا برس سے ہمارے ملک میں زبانِ اردو کبھی جلتے کبھی بجھتے جگنو کی طرح دکھائی دیتی ہے ۔ تقسیمِ ہند سے قبل داغ دہلوی نے کہا تھا۔

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ  
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے۔

 پھر جب 1969 میں سرکاری سطح پر مرزا غالب کی صد سالہ برسی کی تقریبات مناٸ گئیں تو ساحر لدھیانوی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ۔

جس عہدِ سیاست نے یہ زندہ زباں کُچلی 
 اس عہدِ سیاست کومرحوموں کاغم کیوں ہے 
غالب جسے کہتے ہیں، اردو ہی کا شاعر تھا 
اردو پہ ستم ڈھا کے غالب پہ کرم کیوں ہے؟

در اصل زبانِ اردو جسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے صرف زبان ہی نہیں ایک ایسی چلتی پھرتی تہذیب بھی ہے جسکی سانسوں میں گنگا جمنی فضا کی مہک بسی ہوئی ہے ۔ اس زبان نے نہ صرف دلوں کو جوڑا ہے بلکہ یہ عرصٸہ دراز سے مختلف مذاہب، قوموں اور ثقافتوں کو ایک چادر میں لپیٹتی بھی آئی ہے۔ لیکن میں اِ سے ایک لسانی المیہ ہی کہوں گا کہ اس زبان کو ہمارے یہاں ایک مخصوص مذہب یا فرقے سے جوڑ کر محدود کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

گویا یہ مذموم کوشش کرنے والے بالواسطہ اس حقیقت سے انکار کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو ،سکھ، عیسائی، جین اور دوسرے مذاہب کے افراد نے بھی اس زبان کے پودے کو یہاں اپنے خونِ دل سے سینچا ہے ۔ اس سانحے کے باعث اکیسویں صدی میں بھی مجھ ایسے کمترینِ ادب کو یوں شکوہ سنج ہونا پڑا ہے۔

" سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں " تو بولے
جھیلے مگر رقابت اردو زباں ہماری !!
 قومی ترانے اس نے گاٸے سدا، مگر کیوں
تیرا ہدف سیاست، اردو زباں ہماری ؟

بہر حال اردو کے تعلق سے کھینچا تانی کے اس ماحول میں آنریبل جسٹس سدھانشو دھولیہ اور آنریبل جسٹس ونود چندرن پر مشتعمل ہماری عدالتِ عظمٰی کی دو رکنی بینچ نے پندرہ اپریل ۲۰۲۵، کو سول اپیل نمبر 5187/2025 میں جو فیصلہ صادر فرمایا ہے وہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ اتفاق سے اس فیصلے کا تعلق ریاستِ مہاراشٹر میں راقم الحروف کے ہوم ڈسٹرکٹ اکولہ میں واقع ایک تحصیلی مقام پاتور کی میونسپل کونسل سے ہے۔ کوئی سات آٹھ سال قبل یہاں کی میونسپل کونسل کی نئی تعمیر شدہ عمارت پر مراٹھی میں بورڈ آویزاں کرتے ہوئے نگر پالیکا پاتور کے نیچے اردو رسم الخط میں دفترِ بلدیہ پاتور بھی تحریر کیا گیا۔ کو نسل کی ایک رکن محترمہ ورشاتاٸ باگڑے نے حکومت مہاراشٹر کے ایک سرکیولر کی بنیاد پر اردو میں درج تحریر پر اپنا اعتراض درج کروایا جسے میونسپل کونسل نے دیگر ممبران کی اکثریت رائے سے ایک ریزولیشن لیکر مسترد کر دیا ۔ محترمہ نے جب اس ریزولیشن کو ضلع کلکٹر اکولہ کی عدالت میں چیلنج کیا تو کلکٹر موصوف نے
مہاراشٹر میونسپل کونسل ایکٹ 1965 کی دفعہ نمبر 308 کا حوالہ دیکر میونسپل کونسل کا مذکورہ ریزولیشن رد کر دیا ۔ میونسپل کونسل نے اس آرڈر کو ڈویژنل کمشنر امراوتی کی عدالت میں چیلنج کیا ،جہاں تیس اپریل 2021 کو ضلع کلکٹر اکولہ کا مذکورہ بالا حکم منسوخ کر دیا گیا ۔ ان حالات میں محترمہ ورشا تائی باگڑے نے بمبئی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ ہائی کورٹ نے معاملے کی سماعت کے بعد مورخہ تیس جون ۲۱ کو درخواست گزار کی درخواست یہ کہتے ہوئے خارج کردی کہ آئینِ ہند کے آٹھویں شیڈول میں اُردو سیریل نمبر ۲۲ پر درج ہے۔ جس پر گورنمنٹ کے مذکورہ سرکیولر کو فوقیت نہیں دی جا سکتی ۔ (واضح ہو کہ آٹھویں شیڈول میں ان زبانوں کا اندراج ہے جن کی ہندوستان میں حسب ضرورت نشوو نما اور ترقی کی ضمانت دی گئی ہے اور اردو اس شیڈول میں 26جنوری 1950 سے شامل ہے ) . ہائی کورٹ نے اگرچیکہ میونسپل کونسل پاتور کے دیگر اراکین کے اس ابتدائی اعتراض کا نوٹس بھی لیا کہ مہاراشٹر میونسپل کونسل ایکٹ 1965 کے سیکشن 308 میں سن 2018 میں ہوئی ترمیم کے مطابق مذکورہ اعتراض صرف میونسپل کونسل کے چیف آفیسر کی جانب ہی سے اٹھایا جا سکتا ہے, کسی رکن بلدیہ یا عام شہری کی جانب سے نہیں ۔ تاہم اس بنیادی اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے بھی بطور خاص زبان اردو کی آئینِ ہند کے آٹھویں شیڈول میں شمولیت کی بنیاد پر اپیل خارج کردی گئی۔ 

تیس جون 2021 کے ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلے کو محترمہ ورشا باگڑے نے ایس ایل پی ( سوِل) نمبر 13820/2021 کے ذریعہ عدالت عظمی میں چیلنج کیا۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران محترمہ کی جانب سے یہ دلیل بھی دی گئی کہ مہاراشٹر لوکل اتھارٹیز ( آفیشیل لینگویجیز ) ایکٹ 2022 کے نفاذ کے بعد مہاراشٹر میں میونسپل کونسل کے سائن بورڈ پر اردو تحریر نہیں کی جا سکتی ۔ چونکہ یہ نیا ایکٹ سن 2021 میں ہائی کورٹ کے پیش نظر نہیں تھا, عدالت عظمی کے پہلے فیصلے کے مطابق اس معاملے کی بمبٸ ہائی کورٹ میں پھر سے سماعت ہوئی۔ ہائی کورٹ نے سن ۲۰۲۲ ء کے ایکٹ کی روشنی میں یہ مشاہدہ کیا کہ اس سے ایسا کہیں ظاہر نہیں ہوتا کہ میونسپل کونسل کے ساٸن بورڈ پر مراٹھی کے علاوہ کسی اضافی زبان میں. میونسپل کونسل کا نام نہ لکھا جائے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ جب مذکورہ ایکٹ کا سیکشن 3 (2) مراٹھی کے ساتھ ساتھ بصورت ضرورت انگریزی کے استعمال کی اجازت بھی دے رہا ہے تو اردو کو کس طرح روکا جا سکتا ہے ؟ جبکہ اردو تو آئین ہند کے آٹھویں شیڈول میں مراٹھی کے ساتھ ساتھ کھڑی ہے اور انگریزی آٹھویں شیڈول میں شامل تک نہیں۔

مورخہ دس اپریل 2024 کے بمبئی ہائی کورٹ کے درج بالا اہم فیصلے کو محترمہ ورشا تاٸ باگڑے نے پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ۔ بعد از سماعت سپریم کورٹ نے مورخہ 15 اپریل 2025 کو زبان اردو کے حق میں ایک تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلے کو برقرار رکھا اور اپیل خارج کردی۔ سپریم کورٹ کا سول اپیل نمبر 5187/2025 میں دیا گیا یہ فیصلہ اردو کے حق میں بلا مبالغہ ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس فیصلے کی مزید باریکیوں میں نہ جاتے ہوئے زبان اردو کے تعلق سے عدالت عظمی نے اپنے جو تاثرات خود فیصلے میں قلمبند کئے ہیں، ان کا ذکر یہاں کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔

 (1) نہ تو زبان کا کوئی مذہب ہوتا ہے, نہ زبان کسی مذہب کی نمائندگی کرتی ہے۔ 
(2) زبان کا تعلق کسی مخصوص علاقے اور وہاں کے عوام سے ہوتا ہے مذہب سے نہیں۔ 
(3) زبان ایک تہذیب کا نام ہے، یہ ایک ایسا پیمانہ بھی ہے جس سے کسی علاقے کی تہذیبی رفتار کی پیمائش کی جاتی ہے ۔

(4 ) یہی معاملہ اردو کے ساتھ بھی ہے، جو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال ہے ۔

(5) سن 2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں مادری زبانوں کی تعداد
270 ہے اور ان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں اردو چھٹے نمبر پر ہے۔
جو چند شمال مشرقی ریاستوں کو چھوڑ کر یہاں کی ہر ریاست یا اس کے کچھ حصوں کے عوام میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔

(6) ہندوستان کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں درج زبانوں میں اردو شامل ہے جبکہ ہندوستانی زبان نہ ہونے کے باعث انگریزی تک اس شیڈول میں شامل نہیں ہے۔

 عدالت عظمی نے اپنے مذکورہ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا ہیکہ عملی ضرورتوں کے پیش نظر ہندوستان کی کئی ریاستوں نے اپنی علاقائی دفتری زبان کے علاوہ دیگر زبانوں کو بھی دفتری زبان کی حیثیت دے رکھی ہے یا اُن کے استعمال کو کچھ مخصوص دفتری مقاصد کیلئے روا رکھا ہے۔ فیصلے کے پیرا گراف نمبر 26 میں دیئے گئے چارٹ کے مطابق جموں کشمیر میں دفتری زبان ہونے کے علاوہ آندھرا پر دیش، بہار، دلّی، تلنگانہ اور مغربی بنگال وہ ریاستیں ہیں جہاں اُن کی دفتری زبان کے ساتھ ساتھ اردو کے استعمال کو بھی بطور اضافی زبان اپنے اپنے دفتری مقاصد کیلئے روا رکھا گیا ہے ۔ عدالت عظمی کے اسی انکشاف اور فیصلے سے جِلا پاکر نیز ریاست مہاراشٹر میں اردو کی موجودہ سمت و رفتار کے پیش نظر گذشتہ 26 جنوری کو راقم الحروف نے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے گیٹ وے آف انڈیا بمبئی کے دہانے پر منعقدہ جشنِ ہندوستان کے کل ہند مشاعرے میں اپنے دل کی بات یوں رکھی تھی۔

حکّام تیری زلف کے برسوں سے ہیں اسیر
اردو، پہ طے ہوا ہے سفر تیرا کیوں نہیں ؟
خوشبو سے تیری، ہے یہ ریاست بھی فیض یاب
سرکاری دفتروں میں گزر تیرا کیوں نہیں ؟

فیصلے کے پیراگراف 27 میں عدالتِ عظمیٰ نے کھلے الفاظ میں کہا ہیکہ ہمارے یہاں اردو کے ساتھ تعصّب اس غلط فہی کی دین ہے کہ یہ زبان ہندوستان میں کسی اجنبی حیثیت کی حامل ہے یا کہیں باہر سے لاکر ہم پر لاد دی گئی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہیکہ ہندی اور مراٹھی کی طرح اردو بھی انڈو آرین زبان ہے اور اس کی پیدائش بھی بندوستان ہی میں ہوئی ہے۔ اور جو یہیں کے مختلف فرقوں اور علاقوں کے سماجی و ادبی ماحول میں لسانی ضرورتوں کے پیش نظر پلی اور پروان چڑھی ہے۔ اسی باعث صدیوں سے یہاں کے مقبول اور معروف شعراء کی زبان بھی اردو رہی ہے۔

علاوہ ازیں اپنے اس فیصلے میں مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو جیسے عظیم راہنماؤں کے اردو کے حق میں اقوال قلمبند کرتے ہوئے عدالت عظمی نے لکھا ہیکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج بھی روز مرہ کی بول چال میں بندی کے ساتھ ساتھ اردو کے کئی الفاظ بولے جاتے ہیں اور خود اردو میں کئی الفاظ دیگر ہندوستانی زبانوں (بشمول سنسکرت) سے مستعار ہیں ۔ بقول عدالت عظمی (پیرِگراف نمبر 38) مزے کی بات یہ ہیکہ اردو کے کئی الفاظ مسلسل ہمارے یہاں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹٓس کی کاروائیوں میں استعمال ہوتے چلے آرہے ہیں جبکہ آئین ہند کے آرٹیکل 348 کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی دفتری زبان انگریزی ہے ۔ بطور مثال وکالت نامہ، دستی وغیرہ۔ یہی معاملہ ذیلی عدالتوں کے ساتھ بھی ہے۔ عرض کرتا چلوں کہ ذیلی عدالتوں میں استعمال ہونے والے الفاظ میں تو اردو الفاظ کی بھرمار ہے۔جیسے ضامن،ضمانت، ضمانت دار،عرضی،عرض نویس،محرّر، منصف،وکیل،سپرد نامہ، بخشش نامہ،چالان،دلیل، دستاویز،مجرم،ملزم،بنام،جرح،پروانہ،نظربند،عدالت،مال گزاری، قرارداد،داخلِ دفتر،عمرقید،مختارنامہ، رسید،پیشی، یکطرفہ،روزنامہ وغیرہ وغیرہ۔
 ۔ آئین ہند کے آرٹیکل120 کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت عظمی نے تحریر فرمایا ہیکہ اگر چیکہ ہماری پارلیمنٹ میں بطور دفتری زبان عام طور پر انگریزی اور ہندی کو روا رکھا گیا ہے لیکن ہر رکن کو اپنی مادری زبان میں اپنی بات رکھنے کی گنجائش بھی موجودہے ،اگر وہ رکن انگریزی یا ہندی نہیں جانتا ۔ علاوہ ازیں آج بھی یہاں کے عام آدمیوں کی زبان پر اردو کے الفاظ چڑھے ہوئے ہیں باوجود اسکے کہ ان کے معانی سے انہیں واقفیت نہیں۔ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ روز مرہ کی ہندی بول چال میں اردو کے یا اس سے اخذ کئے ہوئے الفاظ کا استعمال یہاں عام بات ہے ۔

معروف اردو اسکالر گیان چند جین، مولوی عبد الحق، بندی اسکالر رام ولاس شرما اور سابق چیف جسٹس آف انڈیا مسٹر ایم ۔ این۔ وینکٹ چلیا کے خیالات اپنے فیصلے میں شامل کرتے ہوئے عدالت عظمی نے لکھا ہیکہ اردو اور بندی کے درمیان گہرے روابط کے پیش نظر ہندی کو ہندوٶں کی زبان اور اردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھنا صحیح نہیں ہے ۔حقاٸق سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ جو ہماری توانائی ہے وہ ہماری کمزوری کبھی نہیں ہو سکتی۔

میں مبارکباد دیتا ہوں ملک کے معروف شاعر جناب اقبال اشہر کو کہ اردو کے تعلق سے درج بالا تاثرات قلمبند کرکے اپنے فیصلے کے آخری حصے میں عدالت عظمی نے ان کی مشہورِ زمانہ نظم "اردو" کے نہ صرف درج ذیل چھ مصرع کوٹ کئے ہیں بلکہ ان کا انگریزی ترجمہ بھی یہ کہکر تحریر فرمایا ہے کہ اردو اگر اپنے تعلق سے خود بولنے لگ جائے تو یوں بول پڑیگی۔

اردو ہے مرا نام میں خسرو کی پہیلی
کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ ؟
میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا
دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی
اردو ہے مرا نام، میں خسرو کی پہیلی۔

بہر حال بمبٸ ہائی کورٹ اور بطور خاص سپریم کورٹ آف انڈیا کے مذکورہ تاریخی فیصلوں کے پیش نظر ہمارے ملکہ اور ریاست میں وہ تمام دروازے کھول دینے کی ضرورت ہے جو زبانِ اردو کیلئے تادمِ تحریر بند پڑے ہیں۔

تھی مدّعی کی یہ عرضی کہ قید ہو "خوشبو". 
بکھرنے کا پہ اسے اختیار بخشا ہے۔۔۔!!
نہ جانے کون سے دن اور دیکھتی " اردو"
عدالتوں نے اسے اعتبار بخشا ہے۔۔۔۔۔!!
( منظور ندیم )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خٓتم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔