سترہ سو مرتبہ ڈائلیسس کروا کر موت سے لڑنے والے مراٹھی کے شاعر مادھو پوار نہیں رہے۔ تجھ سا نہ کوئی ہے نہ ہوگا کبھی...! ازقلم - ایوب احمد نلّامندو۔ (سیکریٹری، آل انڈیا مسلم مراٹھی ادبی پریشد، سولاپور۔)


سترہ سو مرتبہ ڈائلیسس کروا کر موت سے لڑنے والے مراٹھی کے شاعر مادھو پوار نہیں رہے۔  
تجھ سا نہ کوئی ہے  نہ ہوگا کبھی...! 
ازقلم - ایوب احمد نلّامندو۔   
(سیکریٹری، آل انڈیا مسلم مراٹھی ادبی پریشد، سولاپور۔)
9766819981

سولاپور - اردو، ہندی زبان کے شیدائی  مشہور مراٹھی غزل گو شاعر جنہیں مراٹھی زبان میں "کوی مادھو پوار" کے نام سے جانا جاتا تھا اب نہیں رہے۔
جوانی سے مرتے دم تک مراٹھی ادب کی خدمت کرنے والے اس شاعر کو گردے کی بیماری نے ایسا جکڑا کہ ایک سو، دو سو نہیں بلکہ 1700 مرتبہ انہیں ڈائلیسس کا سہارا لینا پڑا۔
اس بیماری کے دوران انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری، ہر پروگرام میں شریک رہتے، اپنا کلام جوش و خروش سے سناتے، نو مولود شاعروں کی رہنمائی کرتے، ان کے کلام کو سنتے، اصلاح کرتے۔ اسی دوران ان کے کئی شاگردوں کے مراٹھی کے مجموعہ کلام کا اجرا بھی آپ کی خصوصی موجودگی میں ہوا کرتا تھا۔
7 فروری 1955 کو بزرگ شاعر را. نا. پوار کے گھر پیدا ہونے والے شاعر مادھو پوار 11ویں پاس تھے۔ کالج کے دور میں مِمِکری کرتے رہے، مراٹھی مشاعرے لوٹتے رہے۔ اور اپنے والد سے وراثت ملی شاعری کو تا دم حیات زندہ رکھنے کی کوشش کی۔
مگر اچانک 11 نومبر 2015 کو انہیں گردے کی بیماری نے ایسا جکڑا کہ شاعری کو زندہ رکھنے کے لیے مرتے دم تک 1700 مرتبہ ڈائلیسس کا سہارا لینا پڑا۔
کچھ دن آپ نے بینک میں ملازمت کی، بعدازاں ڈاکٹر ویشمپائن میڈیکل کالج میں ملازمت کرتے ہوئے 2013 میں وظیفہ یاب ہوئے۔
مہاراشٹر کی ہر ریاست میں مراٹھی کے مشاعرے لوٹنے والے اس شاعر کا صرف ایک ہی شعری مجموعہ "ہے شبھ شَکُوناںچے پکشی" شائع ہوا اور اسی ایک کتاب کو تقریباً 17 ایوارڈ حاصل ہوئے...!
سادہ زندگی گزارنے والا یہ شاعر نئے شاعروں کی محفل میں زیادہ وقت گزارنا پسند کرتا تھا، اور نئے شاعروں کا حوصلہ بڑھاتا تھا!
سائنس کی دنیا میں اس بات پر ہمیشہ یہ بحث ہوتی رہی کہ سترہ سو مرتبہ ڈائلیسس کرتے ہوئے موت کو ہمیشہ مات دینے والا یہ شخص کبھی اپنی بیماری کی شکایت نہیں کرتا۔ کہا جا رہا ہے کہ 1700 مرتبہ ڈائلیسس یہ اپنے آپ میں ایک عجیب ریکارڈ ہے۔
ہمیں حیرت زدہ ہیں کہ ہم ایک انجکشن کے درد کو برداشت نہیں کر پاتے اور مادھو جی پوار صاحب نے سترہ سو مرتبہ سوئیوں کے درد کو کیسے برداشت کیا ہوگا۔ اِیشور نے انہیں کتنی ہمت دی ہوگی۔
اس تعلق سے شاعر مادھو پوار نے میڈیا کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں اپنی "وفاشعار جیون ساتھی" کی وجہ سے یہ سب کچھ برداشت کر پایا۔ "میری بیوی اور میرے عزیز بچے میرا ساتھ نہ دیتے، ہمت نہ دیتے، تو میں کب کا مر چکا ہوتا۔"
 چھ ماہ قبل سولاپور کی تیلگو لائبریری میں منعقد ایک کثیر لسانی مشاعرے میں میں بھی آپ شریک کی تھی۔ یہ مشاعرہ شاعر مادھو پوار کی صدارت میں ہی ہونا طے تھا۔ یہ مشاعرہ تقریباً 2 گھنٹے چلا، 'ڈائلیسس کروا کے وہ سیدھے اس مشاعرے میں آے تھے۔ 2 گھنٹے تک وہ سر جھکائے اپنی کمزوری کو چھپاتے ہوئے اسٹیج پر سب شاعروں کے کلام کو سنتے سنتے بالکل دھیمی آواز میں داد دیتے رہے۔ اور تعجب کی بات یہ تھی کہ اپنی صدارتی تقریر میں ہر شاعر کے اشعار پر اپنی رائے پیش کی اور مجھ ناچیز کے کلام کی دل کھول کر تعریف کی اور آدھے گھنٹے تک شاعری پر بحث کرتے رہے۔
مگر اپنے درد کو چھپاتے ہوئے شاعری کی دنیا میں گم تھے۔
جب آخری وقت میں اسپتال میں داخل ہوئے، موت سے پہلے آپ نے اپنا آخری شعر کہا -

ہی گرُڈ بھراری ماجھی  
کونی روکھو نَکا ہو آتا...  
می ویج ہوؤنی جائین  
دُنیَیتُون جاتا جاتا...!

اور دنیا کو الوداع کہا!

شاعر مادھو پوار مراٹھی ادب کی ایک قدآور شخصیت تھے اور ان کو اردو سے کافی لگاؤ تھا۔ کئی مراٹھی مشاعروں میں اردو کے اشعار کو ریفرنس کے طور پر استعمال کرتے اور کہتے "اردو شاعری کی بات ہی کچھ اور ہے!"
شاعر مادھو پوار کے والد بھی مراٹھی فلموں کے نغمہ نگار، مشہور غزل گو تھے جنہیں مراٹھی ادب میں "کوی را. نا. پوار" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
شاعر مادھو پوار جب شعر کہنے  لگے تو لوگ انہیں طنزیہ طور پر کہتے - تمہاری شاعری تو تمہارے والد جیسی ہی لگتی ہے!
تو شاعر مادھو جی اپنی حاضر جوابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے - اسے "بلڈ ریلیشن شاعری ہے" 
حال ہی میں تیلگو لائبریری میں شاعر مادھو پوار کے لیے ایک تعزیتی نشست کا انعقاد شاعر نریندر گُنڈیلی سر نے کیا تھا جس میں ان کے چاہنے والوں نے اپنی یادوں کا خزانہ کھولا تو آپ کے تعلق سے کئی ان دیکھے، ان سنے قصے سننے کو ملے جس سے شاعر مادھو پوار کی شخصیت کے الگ الگ پہلو کو جاننے کا موقع ملا۔
اسی تعزیتی محفل میں، میں نے بھی اپنا کلام پڑھا جسے کافی سراہا گیا۔
شاعر مادھو پوار دو زبانوں کو اور دو زبانوں کے جاننے والوں کو جوڑنے کا کام ہمیشہ کرتے رہے۔ ان کے شاعری کے اس جذبے کو سلام!

میرا کلام پیشِ خدمت ہے...

شبِ تاریک میں کہاں ڈھونڈوں تجھے اے دوست
ستاروں کی دنیا میں گھر کر گیا تو اپنا 

تو تو تھا، 
تجھ سا نہ کوئی ہے  
نہ ہوگا کبھی۔  

مراٹھی ادب کی شان تھا تو 
نئے شاعروں کا مان تھا تو 
تھا تو تو بڑا شاعر مگر  
گھمنڈ سے کافی دور تھا تو  

نوواردوں کو اپنایا تو نے 
اپنا الگ جہاں بسایا تو نے
ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے اب تجھے
کتابوں میں زندہ ہے، ہمیشہ زندہ رہے گا اپنی کویتاؤں میں تو۔

'ایوب' کی دُعا ہے تیرے لیے 
تو اُس دنیا میں بھی شاداب رہے

- ایوب احمد نلّامندو 
- سولاپور
- 9766819981

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔