جمعیت علماء گریٹر حیدرآباد کے زیرِ اہتمام نوفارغ علماء کا تہنیتی اجلاس منعقد، حضرت مولانا عبداللہ معروفی صاحب دامت برکاتہم اور شہر حیدرآباد کے اکابر علماء کی شرکت۔
حیدرآباد 3/ مئی( نمائندہ)جمعیت علماء گریٹر حیدرآباد کے زیر اہتمام نوفارغ علماء کرام کا تہنیتی اجلاس بمقام مسجد حسینی وجئے نگر کالونی میں منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد مصدق القاسمی صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔
حضرت مولانا سید نذیر احمد یونس صاحب قاسمی مدظلہ نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
حافظ و قاری محمد یونس علی خان صاحب کی قرأت سے اجلاس کا آغاز ہوا۔
مولانا محمد احمد عبدالرافع فرحان صاحب نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔
حسام الدین ثانی حضرت مولانا جعفر پاشاہ صاحب دامت برکاتہم کا خطاب ہوا، آپ نے اپنے خطاب میں فضلاء کرام کی چند اہم نکات کی جانب توجہ دلائی
1) درس نظامی پر اکتفاء نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہاں مطالعے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور موجودہ دور میں اپنے مطالعے کو اتنا وسیع کیا جائے کہ نئے نئے اعتراضات، شکوک و شبہات اور چیلنجز کا مسکت جواب دے سکے۔
2) دوران خدمت مسجد اور مدرسہ کی کمیٹی وغیرہ سے تلخ لہجے میں گفتگو کرنے یا ایسی بات بولنے جس سے کمیٹی میں انتشار ہو بچنا چاہیے ۔
3) اپنے وعظ اور خطاب میں الفاظ انتہائی نپے تلے استعمال کریں کیونکہ برسراقتدار حکومت بالخصوص خطباء اور واعظین اور ان کی تقریروں کو لے کر بہت ہی زیادہ نا مناسب رویہ اختیار کیے ہوئے اسی لیے احتیاط بہتر ہے۔
4) آپ امت کے رہبر اور نمونہ ہیں اس لیے آپ کو ایسا عمل پیش کرنا ہوگا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر آپ کو فالو کرنے پر مجبور ہوجائیں۔
حضرت مولانا غیاث احمد رشادی صاحب مدظلہ کا خطاب ہوا، آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ آپ فارغ کے لفظ سے دھوکا نہ کھائیں اس لیے کہ آپ فارغ نہیں ہوئے ہیں بلکہ آپ اب مصروف ہوئے ہیں، نیز آپ کا میدان بہت زیادہ وسیع ہونا چاہیے محدود سونچ علماء کی شان کے خلاف ہے، بالخصوص فتنوں کے بعد رونے کی بجائے خود اس طرح تیار ہوں کہ فتنوں کو پنپنے ہی نہ دیں۔
کتابی تقریریں کرنے کی بجائے ہفتہ بھر حالات کا جائزہ لیں اس کے بعد آپ خود ایسی تقریر کریں گے جو معاشرے کے لیے مفید اور موثر ہوگی، نیز انداز بیان مثبت اختیار کریں منفی انداز بیان میں استعمال نہ کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ بیان سے ایسا محسوس ہو کہ صرف آپ ہی مسلمان ہیں اور آپ کے سارے کے سارے سامعین گنہگار ہیں۔
آپ امام ہیں امام آگے اور بیچ میں ہوتا ہے اسی لیے آپ معاشرے کے بیچ میں اور آگے رہیں معاشرے سے کٹ کر الگ تھلگ رہ کر زندگی گزارنا یہ امام کی شان نہیں ہے۔
حضرت مولانا سرفراز صاحب قاسمی دامت برکاتہم کا خطاب ہوا، آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ آپ وارثین انبیاء ہیں اور یہ وراثت مال یا منصب یا عہدے کی نہیں ہے یہ علم اور اخلاق کی وراثت ہے اور وراثت پہنچانے کی دو طریقے ہیں 1) پیشہ ورانہ خطابت یا تدریس
2) واقعی محنت و کوشش، صبر و ضبط، استقامت و جواب دہی کے احساس کے ساتھ خدمت، اگر آپ دوسرا طریقہ اختیار کریں گے تو اللہ غیب سے ایسے دروازے کھولے گا کہ آپ کو شہرت بھی ملے گی عزت بھی ملے گی اور آپ دونوں جہاں میں سرخرو ہوں گے۔
مولانا حافظ وصی اللہ زبیر صاحب مدظلہ کا خطاب ہوا، آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ صرف علم حاصل کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ اپنے علم اور اپنے عمل کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے آپ کو کسی اللہ والے کے حوالے کرنا بےحد ضروری ہے جب انسان کسی کی سرپرستی میں رہ کر علم کی اشاعت کرتا ہے اور علم کے موافق عمل کرتا ہے تو وہ عالم نافع ہوتا ہے ورنہ بسا اوقات کسی بزرگ کا سایہ اپنے سر پر نہ ہونے کی وجہ سے علم انسان کو گمراہی کی طرف بھی لے چلایا جاتا ہے۔
محترم عالی جناب حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب کا خطاب ہوا، آپ نے اپنے خطاب میں متعدد اہم امور کی جانب توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ فرمایا کہ صرف اردو زبان ہی کام کرنے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ اس ریاست میں کام کرنے کے لیے تیلگو اور دوسری زبانوں پر مہارت حاصل کرنا اور بالخصوص اپنی علاقائی زبان پر دسترس رکھنا بے حد ضروری ہے،
آپ نے اپنے بیان میں مزید فرمایا کہ علماء کی ایک ایسی کھیپ اور ٹیم تیار ہونی چاہیے جو باضابطہ سوشل میڈیا کے ذریعے سے اسلام کے خلاف کیے جانے والے اعتراضات اور پروپیگنڈوں کو سمجھیں اور اس کا علمی اور مسکت جواب دیں تاکہ اسلام کے خلاف جو زہر کھولا جا رہا ہے اس کا سد باب ہو۔
محدث نبیل حضرت مولانا عبداللہ معروفی صاحب دامت برکاتہم کا خطاب عالی ہوا، آپ نے اپنے خطاب میں بہت ہی اہم اور گراں قدر نصائح سے سامعین کو مستفید کیا، بالخصوص آپ کے خطاب کے کچھ اہم جھلکیاں یہ تھی؛
قران مجید کا خلاصہ :
1) اللہ کی عبادت،
2) رسول اللہ کی اطاعت
3) خلق خدا کی خدمت
اپنے عقیدے کا تحفظ
اپنے عمل کا تحفظ
ایک مثالی مسلمان اپنے گرد و پیش کے حالات کا جائزہ لے کر زندگی گزارتا ہے اور سارے ایمان والے ایک انسان کے اعضاء کی طرح ہیں اگر اس کے سر میں درد ہوتا ہے تو جسم کے سارے اعضاء اس کی تکلیف محسوس کرتے ہیں اسی طرح ایک عالم دین بھی ایسا ہونا چاہیے کہ معاشرے کی ہر خرابی کو اپنی ذاتی نقصان سمجھ کر اس کا حل تلاش کرے
ہماری یہ جماعت جمعیعت علماء ہند بلا تفریق مذہب و ملت ہر مصیبت زدہ کی خبرگیری کرتی ہے،
ہم نے یہ علم روزگار و معیشت کے لیے یا وجاہت کے لیے حاصل نہیں کیا بلکہ ہمارے علم حاصل کرنے کا مقصد دین اسلام کی حفاظت خلق خدا کی خدمت اور اپنے ایمان اور عمل کا تحفظ ہے۔
بالخصوص آج کے دور میں علمائے کرام کو اسلام پر ہونے والے اعتراضات انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سن کر سمجھ کر اس کا گہرائی سے مطالعہ کر کے دندان شکن جواب دینے اور جس ذریعے سے پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے اس کو ختم کرنے کے لیے وہی ذریعہ استعمال کرنا یہ بہترین طریقہ ہے۔
آج کتنے ایسے مفلوک الحال اور بے سر و سامان مسلمان ہیں جو تنگ حالی کی وجہ سے فتنوں کے آگے اپنے ایمان کا بھی سودا کر رہے ہیں ایسے علاقوں میں جا کر ان کے دین اور ان کے ایمان کی حفاظت کرنا یہ علماء کرام کا اہم ترین فریضہ ہے۔
اس کے بعد علماء کرام کی تہنیت کی گئی تقریبا 45 علمائے کرام کو مجلس فقہی کی جانب سے شائع ہونے والا فقہی مقالات کا مجموعہ اور ایک جوڑا کپڑا اور متعدد قیمتی تحائف پیش کیے گئے۔
حضرت مولانا عبید الرحمن اطہر صاحب ندوی قاسمی دامت برکاتہم العالی کی دعا کے ساتھ اجلاس کا اختتام ہوا۔
حضرت مولانا مفتی تجمل حسین صاحب حضرت مولانا مستقیم الدین صاحب اور محترم جناب حافظ وصی اللہ زبیر صاحب نے تمام شرکائے اجلاس کے لیے پرتکلف عشائیہ کا نظم عشائیہ کا نظم فرمایا۔
اس اجلاس میں جمعیت علماء گریٹر حیدراباد کے صدور معتمدین اور اراکین منتظمہ کے ساتھ شہر حیدرآباد کے متعدد اکابر علماء کرام نے شرکت فرمائی اور عوام و خواص کا ایک کثیر مجموعہ اس اجلاس سے مستفید ہوا۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment