بارہویں بورڈ نتائج۔۔۔ یک طرفہ تماشا - عمیر محمد خان ، کھام گاؤں۔
بارہویں بورڈ نتائج۔۔۔ یک طرفہ تماشا -
عمیر محمد خان ، کھام گاؤں۔
نیٹ کے امتحان سے قبل بارہویں جماعت کا رزلٹ کا اعلان کیا جانا طلباء و سرپرستوں کے لئے ایک تکلیف دہ امر بن گیا ۔ نیٹ کا امتحان طلباء کی تعلیمی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ یہ ان کی زندگی کا اہم امتحانی دور تھا جس سے ان کو گزرنا تھا۔ ابھی طلباء نیٹ کی پڑھائی میں مصروف ہی تھے اس وقت عین ایک دن قبل بورڈ کی جانب سے بارہویں رزلٹ کا اعلان کیا جانا طلبہ کے لیے مزید دشواری و خلجان کا سبب بن گیا۔ کئی طلبہ گروپ پرسنٹیج حاصل نہیں کر پائے۔ بارہویں کے رزلٹ نے انہیں پوری طرح ہلا کر رکھ دیا۔ وہ افسردگی اور ڈپریشن کا شکار ہو گئے۔ ذہنی تناؤ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے وہ نیٹ کا امتحان ہرگز عمدہ طریقے سے نہیں دے پائے ہونگے ۔ دوسری جانب جو طلبہ اچھے نمبرات سے کامیاب ہوئے وہ بھی خوشی کےجذبات سے مغلوب ہو گئے۔ جس کی وجہ سے ان کے نیٹ کا پرفارمینس یقیناً متاثر ہوا ہوگا۔ گویا عمدہ رزلٹ بھی ان کی تیاری میں مخل ہوا ۔خوشی اور غم دو ایسے مرحلے ہیں جس سے انسان کے جذبات متاثر ومجروح ہوتے ہیں۔ ظاہری طور سے عمدہ کارکردگی کرنے والے طلباء اور گروپ پرسنٹیج نہ حاصل کرنے والے طلبہ دونوں کے امتحانات اس وجہ سے ضرور متاثر ہوئے ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکام یا تو اس مرحلے سے واقف نہیں یا پھر جان بوجھ کر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ دو تین دن بعد اگر رزلٹ کا اعلان کیا جاتا تواس کے اچھے اثرات طلبہ کی تعلیمی زندگی پر پڑتے تھے۔ طلبہ اس وجہ سے نہ صرف ذہنی تناؤ کا شکار ہوئے بلکہ ان کی مستقبل کی کارکردگی پر بھی یہ انتہائی اثر انداز ہوا ۔نہ صرف طلبہ بلکہ والدین بھی ذہنی تناؤ میں مبتلا ہوئے۔ طلبہ کی اس تعلیمی زندگی کا عظیم نقصان کا تدارک اب ناممکن ہے۔ ۔ساتھ ہی اساتذہ ،سرپرست، معاشرے کے افراد، ماہرین تعلیم اور طلبہ و معاشرے کے خیر خواہ اس الل ٹپ عمل سے نہ صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے بلکہ تشویش و خلجان میں مبتلا ہوئے ہیں۔ یہ تمام اس اوٹ پٹانگ عمل کو طلباء کی زندگی سے کھلواڑ سے گردان رہے ہیں۔ طلبہ کی تعلیمی زندگی سے ایک قسم کا کھیل رچا گیا ہے جو ان کی مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس ضمن میں اساتذہ کی تنظیم ABUSS امراوتی ڈیویژن اور دیگر عہدیداروں نے بذریعہ میل حکام سے ایک دن قبل شکایت درج کی تھی اور رزلٹ کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایک مکتوب پونہ و امر اوتی بورڈ اور دیگر ذمہ داران کو بھیجا گیا تھا ۔مگر اس پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ۔
اگر معاشرہ اس عمل پر خاموشی اختیار کرتا ہے تو یہ نہ صرف سال رواں طلباء کی تعلیمی زندگی کو مشکل ترین بنائے گا بلکہ آنے والے طلبہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھرے گا ۔
معاشرے میں اس سے متعلق بڑے پیمانے پرغصے و ناگواری کا اظہار کیا جانا چاہیے تھا ۔ ایسے تمام عوامل پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے جس سے طلبہ کی تعلیمی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ اگر تشویش اور بے چینی کی فضا طلبہ میں پائی جاتی ہے تو یہ ان کی تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔منفی اثرات ان کے دماغ پر پڑتے ہیں۔ مطالعہ سے عدم دلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے۔تعلیمی ماحول سے تنفر بڑھتا ہے ۔ پھر شکایات کہ ہم تعلیم میدان میں پچھڑے ہوئے ہیں۔
ہم تمام اس امر کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور طلبہ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں کہ اس قسم کے عمل سے اجتناب کیا جائے اورآئندہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھا جائے جس سے ان کی تعلیمی زندگی متاثر ہوتی ہو۔
Comments
Post a Comment