افسانہ: دہلیز - ازقلم : راشیدہ یاسمین، سکلیشپور(ہاسن) کرناٹک۔
افسانہ: دہلیز
از: راشیدہ یاسمین،
سکلیشپور(ہاسن) کرناٹک۔
9035972491
سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا جیسے صحن میں دھوپ اتر آئی ہو۔
اس کی ہنسی میں گلاب کی نرم پنکھڑیوں جیسی لطافت تھی اور آنکھوں میں صبحِ نو کی پہلی کرن جیسی چمک۔
ماں اکثر اس کے ماتھے کو چوم کر کہتیں:
“میری بیٹی تو گھر کی روشنی ہے…”
اور واقعی، وہ ایک روشنی ہی تو تھی— معصوم، بےفکر، خوابوں کے نیلگوں آسمان میں اڑتی ہوئی ایک ننھی چڑیا۔
وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر بارش دیکھا کرتی، اور پھر خاموشی سے اپنی ہتھیلی پر گرتے قطروں کو محسوس کرتی۔ اسے لگتا تھا زندگی بھی بارش کی طرح شفاف ہوتی ہوگی— نرم، خوشبو سے بھری ہوئی، اور محبت کی مانند بےلوث۔
مگر وقت… وقت ہمیشہ خوابوں کی تعبیر نہیں ہوتا۔
وہی سارہ، جو کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی چوڑیوں کی جھنکار پر مسکرا دیتی تھی، آہستہ آہستہ ایک انجانی سنجیدگی میں ڈھلنے لگی۔
ایک شام، جب سورج دیواروں پر اداس سنہری لکیریں چھوڑ رہا تھا، اس نے دھیرے سے ماں سے پوچھا:
“امی… کیا ہر لڑکی کو ایک دن اپنا گھر چھوڑ دینا پڑتا ہے؟”
ماں چند لمحے خاموش رہیں۔ شاید ہر ماں کے پاس اس سوال کا جواب تو ہوتا ہے، مگر حوصلہ نہیں ہوتا۔
انہوں نے سارہ کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا:
“بیٹی… عورت کی زندگی ایک دہلیز سے دوسری دہلیز تک کا سفر ہے…”
یہ جملہ سادہ تھا، مگر اس کے اندر صدیوں کی تھکن سو رہی تھی۔
پھر ایک دن، گھر میں روشنیوں، دعاؤں، مہندی کی خوشبو اور رخصتی کے نم آنسوؤں کے درمیان سارہ دلہن بن گئی۔
اس کے ہاتھوں کی مہندی ابھی پوری طرح خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ زندگی نے اس کے مقدر پر نئے اصول لکھنے شروع کر دیے۔
رخصتی کے وقت باپ نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔
ان کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں، مگر لب مسکرا رہے تھے۔
“ہمیشہ خوش رہنا…”
یہ صرف دعا نہیں تھی، ایک باپ کا ٹوٹتا ہوا دل تھا جو لفظوں میں چھپ گیا تھا۔
سارہ نے دہلیز پار کی— اور یوں محسوس ہوا جیسے اس کے پیچھے اس کی ہنسی، اس کی بےفکری، اور اس کی پہچان بھی آہستہ آہستہ چھوٹتی جا رہی ہو۔
نیا گھر…
نئے چہرے…
نئے لہجے…
اور ہر لہجے میں ایک غیر محسوس فاصلہ۔
“سارہ، یہاں ایسے نہیں کرتے…”
ساس نے نرمی سے کہا، مگر اس نرمی میں روایت کی صدیوں پرانی سختی چھپی ہوئی تھی۔
“جی…”
سارہ نے دھیرے سے جواب دیا، اور اسی ایک لفظ کے ساتھ اس نے اپنی کئی خواہشوں کو خاموش کر دیا۔
وقت گزرتا رہا۔
وہ سیکھتی رہی کہ کون سا جملہ کب بولنا ہے، کس بات پر خاموش رہنا ہے، کس خواہش کو دل میں دفن کر دینا ہے۔
وہ اب مسکراتی بھی تھی تو احتیاط کے ساتھ۔
ہنستی بھی تھی تو آہستہ۔
جیسے خوشی بھی اب اجازت کی محتاج ہو گئی ہو۔
ایک رات، کمرے کی مدھم زرد روشنی میں اس نے اپنے شوہر سے پوچھا:
“میں سب ٹھیک کر رہی ہوں نا؟”
شوہر نے موبائل اسکرین سے نظریں اٹھائے بغیر کہا:
“ہاں… بس سب کے مطابق چلتی رہو۔”
یہ جملہ بظاہر معمولی تھا، مگر سارہ نے محسوس کیا جیسے کسی نے اس کے وجود پر خاموشی کی مہر لگا دی ہو۔
آہستہ آہستہ، وہ اپنے اندر سے کم ہونے لگی۔
اس نے اپنی پسندیدہ کتابیں بند کر دیں، اپنے خواب تہہ کرکے الماری کے کسی کونے میں رکھ دیے، یہاں تک کہ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر خود سے باتیں کرنا بھی چھوڑ دیا۔
سب کہتے:
“سارہ بہت سمجھدار ہو گئی ہے…”
مگر کسی نے یہ نہ دیکھا کہ اس سمجھداری کی قیمت اس کی ذات تھی۔
ایک رات، وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔
کمرے میں خاموشی تھی، اور خاموشی کے اندر ایک گہرا شور۔
اس نے خود کو غور سے دیکھا۔
چہرہ وہی تھا… آنکھیں بھی وہی…
مگر ان آنکھوں میں اب خواب نہیں تھے، صرف تھکن تھی۔
اس کے لب لرزے:
“کیا میں واقعی زندہ ہوں… یا صرف نبھا رہی ہوں؟”
آنسو اس کی پلکوں سے پھسل کر ہتھیلی پر گرے، اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی ذات بھی پانی کی طرح انگلیوں سے پھسلتی جا رہی ہو۔
اگلی صبح، وہ اسی دہلیز کے قریب کھڑی تھی جہاں سے اس نے نئی زندگی شروع کی تھی۔
مگر اب وہ پہلے والی سارہ نہیں تھی۔
اس کے اندر ایک ایسی خاموشی جنم لے چکی تھی جو چیخ سے زیادہ خوفناک ہوتی ہے۔
پھر وقت گزرتا گیا۔
وہ ایک اچھی بہو کہلائی، ایک ذمہ دار بیوی، ایک خاموش عورت۔
لوگ اس کی تعریف کرتے، مگر کوئی اس کے اندر کے ویران شہر کو نہ دیکھ سکا۔
آخرکار، ایک دن اس نے لڑنا چھوڑ دیا۔
بالکل ایسے جیسے خزاں میں درخت خاموشی سے اپنے آخری پتے گرا دیتا ہے۔
اب اس کی آنکھوں میں آنسو بھی نہیں آتے تھے، کیونکہ شاید دکھ بھی ایک حد کے بعد پتھر ہو جاتا ہے۔
مگر اس کی خاموشی، ایک سوال بن گئی—
کیا عورت کا مقدر صرف خود کو مٹا دینا ہے؟
نہیں۔
رشتے اگر محبت سے قائم ہوں تو انسان کو مکمل کرتے ہیں، ادھورا نہیں۔
عورت قربانی دے سکتی ہے، اپنی ذات نہیں۔
کیونکہ جب ایک عورت اپنی پہچان کھو دیتی ہے، تو صرف ایک فرد نہیں مرتا— ایک پوری دنیا خاموش ہو جاتی ہے۔
اور یہی ہر دہلیز کی سب سے بڑی سچائی ہے۔
Comments
Post a Comment