حضرت سیدنا ابراہیمؑ کی سیرت و قربانی امت مسلمہ کیلئے عظیم پیغام : مولانا افسر پاشاہ قادری۔
بیدر، 26 / مئی(نامہ نگار محمد عبدالصمد)کاروانِ ادب و مرکزی رحمتِ عالمؐ کمیٹی ضلع بیدر کے زیر اہتمام مسجد عثمانیہ بیدر میں ایک عظیم الشان جلسۂ عام بعنوان ”حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہؑ کا ایثار و قربانی سے امت مسلمہ کیلئے عظیم پیغام“ زیر صدارت جناب محمد حبیب الدین صدر مسجد کمیٹی و زیر نگرانی جناب محمد فراست علی ایڈوکیٹ منعقد ہوا۔
جلسہ کا آغاز حافظ محمد برہان الدین کی قرأتِ کلام پاک سے ہوا جبکہ محمد شفیع الدین اور محمد فتح پٹیل نے حمد، نعت اور منقبت پیش کی۔
مہمانِ مقرر مولانا سید شاہ افسر پاشاہ قادری الجیلانی ظہرآباد نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذی الحجہ کا مبارک مہینہ بڑی عظمت و فضیلت والا ہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہؑ کی پوری زندگی قربانی، ایثار اور اطاعتِ الٰہی سے عبارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو مختلف آزمائشوں میں ڈالا مگر آپ ہر امتحان میں کامیاب و سرخرو ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیمؑ نے اپنی زوجہ حضرت ہاجرہؓ اور معصوم فرزند حضرت اسماعیلؑ کو عرب کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا، جو آج پوری دنیا کیلئے مرکزِ عقیدت یعنی خانۂ کعبہ کی سرزمین بن چکی ہے۔
مولانا نے کہا کہ جب آپؑ نے بتوں کو توڑا تو باطل پرستوں نے آپؑ کو آگ میں ڈال دیا۔ حضرت ابراہیمؑ کئی دن تک آگ میں رہے مگر اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اے آگ! ابراہیمؑ پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا، چنانچہ آگ گلزار بن گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ برسوں بعد حضرت سیدنا ابراہیمؑ کی اپنے فرزند حضرت اسماعیلؑ سے میدانِ عرفات میں ملاقات ہوئی، جہاں باپ اور بیٹے نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے کامل اطاعت و فرمانبرداری کا عظیم نمونہ پیش کیا۔
مولانا سید افسر پاشاہ قادری نے کہا کہ حضرت ابراہیمؑ کو اللہ تعالیٰ نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔ تعمیر کے دوران آپؑ نے دعا کی کہ اے اللہ! اس شہر کو امن والا بنادے اور ایسی عظیم ہستی مبعوث فرما جو انسانیت کی ہدایت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور حضور اکرم ﷺ کو سراجِ منیر بناکر دنیا میں مبعوث فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، ایک قرآن مجید اور دوسرے میرے اہلِ بیت اطہار۔
انہوں نے کہا کہ کامل مومن وہی ہے جو اپنی جان، مال اور اولاد سے بڑھ کر حضور اکرم ﷺ سے محبت کرے۔ آج امتِ مسلمہ کو حضرت ابراہیمؑ کی سیرت سے صبر، قربانی، توکل اور اطاعتِ الٰہی کا سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا نے نوجوانوں کو نمازوں کی پابندی، والدین کی اطاعت اور دینِ اسلام پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تلقین کی۔
ابتدائی خطاب میں محمد فراست علی ایڈوکیٹ نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ مولانا مفتی سید سراج الدین نظامی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نماز اور قربانی کو اپنی رضا کیلئے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت آدمؑ سے حضرت عیسیٰؑ تک قربانی کا سلسلہ جاری رہا، البتہ طریقے مختلف تھے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کی سنت کو امتِ محمدیہ میں برقرار رکھا۔ انہوں نے امورِ حج کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی۔
مولانا مفتی محمد خواجہ معین الدین نظامی بخاری نے کہا کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی مسلمان سیرتِ ابراہیمؑ سننے کیلئے بے چین ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے حضرت ہاجرہؓ اور حضرت اسماعیلؑ کے عظیم صبر و قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کی رضا کیلئے ہر آزمائش کو قبول کیا۔
مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہؑ کا ذکر آیا ہے۔ آپؑ کی پوری زندگی آزمائشوں سے عبارت رہی مگر آپ ہر مرحلہ میں ثابت قدم رہے۔ اللہ کی رضا کیلئے مال و زر حتیٰ کہ اپنی اولاد تک قربان کرنے کیلئے تیار ہوگئے۔
جلسہ میں جناب محمد رفیع الدین نوری،حافظ نذیر احمد شرفی،حافظ محمدرفیق پٹیل نظامی ،محمد عبدالصمد صحافی اور محمد عطاء اللہ صدیقی بحیثیت مہمانِ خصوصی موجود تھے۔ اس موقع پر محمد اسماعیل قلعی گھر، جو کینسر کے عارضہ میں مبتلا ہیں، اور محمد ابراہیم پٹئے والے، جو علیل ہیں، کی مکمل صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔
محمد عبدالصمد منجووالا نے نظامت کے فرائض انجام دیئے جبکہ محمد غلام دستگیر نے اظہارِ تشکر کیا۔ سلام و دعا کے بعد رات دیر گئے جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
Comments
Post a Comment