انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کا سالانہ ترجمان "انجمن" — ایک ادبی جائزہ - مدیر اعلٰی: ڈاکٹر پیر زادہ فہیم الدین۔مدیر: ڈاکٹر انیس صدیقی۔مبصر: واجد اختر صدیقی، گلبرگہ کرناٹک۔


انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کا سالانہ ترجمان "انجمن" — ایک ادبی جائزہ - 
مدیر اعلٰی: ڈاکٹر پیر زادہ فہیم الدین۔
مدیر: ڈاکٹر انیس صدیقی۔
مبصر: واجد اختر صدیقی، گلبرگہ کرناٹک۔
(9739501549)

اردو کے سرکاری و غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیں اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں جو کچھ ممکن ہے، فروغِ اردو کے لیے کوشاں ہیں۔ ہندوستان میں اردو زبان و ادب کی بقا، ارتقاء اور فروغ کے لیے انجمن ترقی اردو ہند کا قیام نصف صدی سے پہلے عمل میں آیا۔ اس کی فعال شاخوں میں گلبرگہ کا بھی شمار ہوتا ہے، جو اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتبار سے ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ گزشتہ چھ دہوں سے فروغِ اردو زبان و ادب میں نہایت سرگرم اور پیش پیش رہی ہے۔ اکثر و بیشتر انجمن کے زیر اہتمام مشاعرے، سمینار، کانفرنس اور اساتذہ کے لیے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ کی علمی و تعلیمی ترقی کے لیے اسکولوں کے مابین مختلف سطحوں پر کئی علمی و ادبی مقابلہ جات کا انعقاد، اور ایس ایس ایل سی، پی یو سی، ڈگری و پی جی کے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے نقد انعامات و میڈلس کی تفویض جیسی سرگرمیاں بھی انجمن کے کارناموں میں شامل رہی ہیں۔ مختلف موضوعات پر کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی اسی کا ایک روشن پہلو ہے۔ علاوہ ازیں، سالانہ ترجمان "انجمن" کی اشاعت بھی عمل میں لائی جاتی رہی ہے۔ تاحال انجمن کے جملہ 14 ترجمان اشاعت پذیر ہو چکے ہیں، اور سن 2024ء میں شمارہ نمبر 14 منظر عام پر آیا۔
اس کے مدیر اعلٰی ڈاکٹر پیر زادہ فہیم الدین اور مدیر ڈاکٹر انیس صدیقی ہیں۔ "الف" کے عنوان سے ڈاکٹر انیس صدیقی نے لکھا ہے کہ:
"انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کی مجلس عاملہ کی میقات برائے اپریل 2021 تا اپریل 2024 کے دورانیے میں انجمن کے سالانہ ترجمان انجمن کے تین شمارے شائع ہونے چاہیے تھے، تاہم وجوہ چند در چند اس کی بہ پابندی اشاعت کی راہ میں قدغن نا گزیر ثابت ہوی۔"
مذکورہ بالا اقتباس کی روشنی میں اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ کتابوں یا ترجمان کی اشاعت کوئی آسان مرحلہ نہیں۔ ایسے ماحول میں اس ترجمان کے مدیر اور دیگر اربابِ مجاز یقیناً قابلِ ستائش ہیں کہ انہوں نے اس سلسلے کو منقطع ہونے نہیں دیا بلکہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اسے جاری رکھا۔
عام طور پر اس نوعیت کی مرتب کتابیں ادارے کی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کرنے، تصاویر شائع کرنے اور بجٹ کا تخمینہ دینے تک محدود ہوتی ہیں، لیکن "انجمن" کی انفرادی و خصوصی اہمیت اس وجہ سے دوچند ہو جاتی ہے کہ اسے محض ایک رسمی رپورٹ نہیں رہنے دیا گیا، بلکہ اسے ایک ادبی اور یادگار دستاویز بنانے کی شعوری کوشش کی گئی ہے۔ اس میں سلگتے ہوئے موضوعات پر مضامین، بہ اعتبارِ صنف گوشے، اور مرحوم قلمکاروں کی یادیں تازہ کرنے کے لیے ان پر مضامین شامل کیے گئے ہیں۔
زیرِ نظر شمارے میں دو اہم مضامین "ہند اسلامی تاریخ و تصوف کی علامت: گلبرگہ" (ڈاکٹر معین الدین عقیل)، اور "گلبرگہ میں اردو شاعری کا ارتقاء" (پروفیسر حبیب نثار) شامل اشاعت کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں مضامین اپنی نوعیت کے معیاری اور تحقیقی مضامین ہیں۔ فاضل مضمون نگاروں نے بڑی محنت اور ژرف نگاہی سے انہیں تحریر کیا ہے۔
ڈاکٹر معین الدین عقیل اپنے مضمون میں رقم طراز ہیں کہ:
"جنوبی ایشیا میں ہندوستان جو اب بھارت بھی ہے تاریخی اور تہذیبی لحاظ سے اور اگر ہندوتو کے حوالے سے دیکھا جائے تو قدیم ہندی تاریخ کے رشتے سے ہندومت اور اسی کی طرح قدیم مذاہب سے جڑا ہوا نظر آتا ہے جس میں چودھویں صدی عیسوی سے شروع ہونے والا وہ دور جب ہندوستان اور بالخصوص دہلی میں جسے بعد میں مسلم عہد سلاطین دہلی اور پھر مغلیہ دور میں ایک واضح سیاسی مرکزیت حاصل رہتی ہے"
اس طرح کے مدلل دلائل پیش کرتے ہوئے مضمون نگار نے گلبرگہ کو اسلامی تاریخ و تصوف کی ایک روشن علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔
"گلبرگہ میں اردو شاعری کا ارتقاء" کے مضمون میں پروفیسر حبیب نثار رقمطراز ہیں کہ:
"گلبرگہ کی سر زمین تاریخ،و تہزیب میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے کہ اسی سر زمین پر اردو کی اولین تخلیقات وجود میں آئیں۔ یہی وہ سر زمین ہے جہاں ہندوستان کی گنگا جمنی تہزیب کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں"
ڈاکٹر حبیب نثار کا یہ مضمون واقعی قابلِ قدر ہے کہ انہوں نے صدیوں پرانی گلبرگہ کی دبی ہوئی تاریخ کو ایک مختصر مگر جامع مضمون میں سمیٹنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
گوشہ رفتگاں کے تحت تین مضامین "خالد سعید: سادہ لوح پروفیسر" (ڈاکٹر حلیمہ فردوس)، "سعید عارف: شخص و عکس" (واجد اختر صدیقی)، "ساون چلا گیا" (فاروق نشتر) شامل اشاعت ہیں۔ ڈاکٹر حلیمہ فردوس نے خالد سعید کی شخصیت کے انفرادی پہلوؤں پر عمدہ مضمون تحریر کرتے ہوئے درد مندی سے لکھا ہے کہ:
"اردو کا یہ خاموش سپاہی زبان و ادب کی خدمت میں اس قدر جٹا رہا کہ اسے اپنے ذاتی نقصان کا احساس نہیں رہا۔"
سعید عارف کی شخصیت پر واجد اختر صدیقی یوں گویا ہوئے ہیں کہ:
"سعید عارف کی شخصیت انتہائی سادہ تھی منکسرالمزاجی ان کی ذات کا وصف خاص تھا۔"
منکسرالمزاجی—اس ایک لفظ میں گویا پوری شخصیت کا نچوڑ سمو دیا گیا ہے۔ محمد فاروق نشتر نے ڈاکٹر خلیل مجاہد پر لکھتے ہوئے انہیں ایک انسان دوست شخصیت قرار دیا ہے۔
اس شمارے کا ایک نہایت اہم اور فکر انگیز حصہ "گوشہ افسانچہ" ہے، جس میں ڈاکٹر غضنفر اقبال نے "فن افسانچہ: خط و خال ہزار عکس " کے عنوان سے مشاہیر ادب کے افسانچوں کے حوالے سے ان کے تاثرات کو یکجا کیا ہے۔ اس سے قبل وہ لکھتے ہیں کہ:
"افسانچہ گویا روداد جہاں ہے۔ بھاگم بھاگ اور بے انتہا مصروف ترین زندگی میں کم سے کم لفظوں میں افسانچہ عہد موجود کی کہانی سناتا ہے"
اور
"اختصار پسندی میں بہترین کہانیاں جنم لے سکتی ہیں۔"
ان دو جملوں میں افسانچہ کے فن کی تین بنیادی جہات کی طرف نہایت بلیغ انداز میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ افسانچہ دنیا کی روداد ہے، دوم یہ کہ مصروف ترین زندگی میں کم الفاظ میں حالاتِ حاضرہ کی ترجمانی کرتا ہے، اور سوم یہ کہ اختصار میں بھی بہترین کہانیاں تخلیق ہو سکتی ہیں۔
یہاں ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا آج کا افسانچہ واقعی ان تقاضوں کا متحمل ہے کہ اس میں پلاٹ، کہانی، بیانیہ اور مکالمے کا پورا اہتمام ہو؟ بہرحال، یہ ایک 
طویل اور سنجیدہ بحث کا موضوع ہے۔
فن افسانچہ کی حمایت میں جملہ 50 مشاہیر ادب کے مختصر تاثرات کو یکجا کیا گیا ہے، اور پھر گلبرگہ سے متعلق جملہ 27 افسانچہ نگاروں کے تقریباً 50 افسانچے اس گوشے میں شامل کیے گئے ہیں۔
شمارے کے آغاز میں "بسم اللہ" کے عنوان سے حامد اکمل کی حمد شامل ہے، جس میں انہوں نے خالقِ اکبر کی توصیف بیان کرتے ہوئے اپنے وجود پر اظہارِ تشکر پیش کیا ہے، جبکہ اسعد علی انصاری کی نعت شریف کو بھی شاملِ اشاعت کیا گیا ہے، جو روحانیت کی ایک خوشگوار فضا قائم کرتی ہے۔
آخر میں انجمن کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ اور ادبی سرگرمیوں کی تصویری جھلکیاں بھی پیش کی گئی ہیں، جو اس کی عملی سرگرمیوں کا آئینہ دار ہیں۔
بہر کیف، انجمن کا یہ شمارہ محض اعداد و شمار کی کتاب نہیں بلکہ ایک ہمہ رنگ ادبی دستاویز ہے، جسے متنوع، دلکش اور یادگار بنانے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔ اس میں ڈاکٹر انیس صدیقی کی مدیرانہ صلاحیتیں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر دکھائی دیتی ہیں، اور یہی وصف اسے عام ترجمانوں سے ممتاز بناتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔