بہت دیر کر دی ۔تحریر : عارف احمد تماپوری، (صدر مدرس اور کراٹا کے ضلعی صدر یاد گیر)
بہت دیر کر دی ۔
تحریر : عارف احمد تماپوری، (صدر مدرس اور کراٹا کے ضلعی صدر یاد گیر)
آج کے پر آشوب دور میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے بہ نسبت لڑکوں کے افسوس کہ والدین اپنی بیٹی کی خوبصورتی اور خاندانی فخر میں مدہوش ہیں لڑکی بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ _ والدین تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی کیسی مناسب و شریف و با اخلاق لڑکے سے اپنی بیٹی کا رشتہ طۓ کرنے تیار ہی نہیں ہوتے اسی طرح غیر محسوس طریقہ سے عمر ڈھلتی رہتی ہے
شیرین تبسم بھی والدین کی لاڈلی اور تعلیم یافتہ لڑکی تھی والدین کو ایک لڑکے کی تلاش تھی تا کہ شادی کے بعد اپنی بیٹی کی زندگی ایک مثالی زندگی بن جاےء جہاں لڑکی موجود ہو وہاں رشتے آہی جاتے ہیں شیرین تبسم کو بھی پیام آہی گیا لڑکے کی والدہ اور بہنوں نے دیکھا اور کہا ہاں انکو لڑکی پسند ہے بس آپ کے جواب کا انتظار ہے شیرین تبسم کے والدین کا سینہ فخر سے اونچا ہوگیاتھا خاندان کے افراد سے مشورہ کیا گیا معزز حضرات کی فخر یہ گفتگو سے محسوس ہو رہا تھا کہ آپسی گفتگو و مشورے کے بعد یہ طے ہوا کہ سب کو لڑکا پسند ہے مگر گھر کے جو بڑے افراد ہوتے ہیں دادا جان حضرات کا مشورہ بھی ضروری تھا جو کہ کم سم بیھٹے ہوئے تھے دادا جان خاندان کے با وقار شخسیت تھے نمازوں کے پابند حج کی سعادت بھی حاصل کر چکے تھے دادا حضرت نے اپنی رائے یہ دی کہ یوں تو لڑکا بہت اچھا ہے مگر لڑکے کے والدین بہت غریب ہیں معیار اونچا نہیں ہے یہ رشتہ ہمارے خاندان کے خلاف ہے رشتہ منسوخ کردے تو بہتر ہے
دادا جان کے مشورے کو انکار کرنے کی کیسی میں ہمت نہ تھی دادا ماضی میں خود غریب تھے بھول گئے تھے بعض انسان دولت مند بننے کے بعد اپنی حشیت بھول جاتا ہے دادا جان کے حکم پر یہ رشتہ منسوخ ہوگیا چند دن یوں ہی گزرتے رہے انتظار کی گھڑیاں گنتی رہے شیرین تبسم کو اپنے وارثوں پر پورا بھروسہ تھا یہی خیال تھا کہ والدین اس کا ہاتھ مناسب اور اچھے لڑکے سے رشتہ طۓ کریں گے ۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگیا صحت مند تعلیم یافتہ یونیورسٹی کی اعلیٰ ڈگری سے سرفراز موٹر نشین اور با وقار با اخلاق لڑکے کا رشتہ آ ہی گیا لڑکے کے والدین اور دیگر خواتین نے شیرین تبسم کو دیکھنے کے بعد اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا شیرین تبسم بھی پسند کرنے کے قابل تھی اس لڑکی والوں کی اجازت کی ضرورت تھی اپس میں مشورہ ہوا سب کا ایک ہی مشورہ تھا کہ اس رشتہ کو قبول کر لیا جائے مگر شیرین تبسم کی والدہ نے کہا میں آپ سب کی رائے سے متفق ہوں مگر لڑکے کا رنگ سانولا ہے شادی کے بعد ہمارے رشتے داروں نے کہیں ہنسی مذاق نہ بن جائے یہی خوف دل میں گھر کر رکھا تھا پھر بھی آپ لوگوں کی مرضی آخر والدہ بھی تو اپنی بیٹی شیرین تبسم پر حق رکھتی ہیں نا یہ رشتہ بھی ٹھکرا دیا گیا الغرض لوگوں کے رشتے آتے رہے کبھی نانا نانی کے اعتراض کبھی بھاںیٔیوں کی نکتہ چینی اور کبھی والد صاحب کی تکرار سے رشتوں کو انکار کرتے کرتے رہے صبح کا طلوع ہونے والا سورج سام کو غروب ہو ہی جاتا ہے یہی حال شیرین تبسم کا تھا شیرین تبسم کی عمر ڈھلتی رہی موم کی طرح پیکھلتی رہی اگر زبان سے کچھ کہتی بی لگام اور بد تمیز کے خطاب سے نوازا جاتا بس گزرتے رہے اور شیرین تبسم کی عمر ڈھلتی رہی والدہ کی نظر اپنی بیٹی کے بالوں پر پڑی ماں کا دل دھک دھک کرنے لگا شیرین تبسم کے بالوں میں سفیدی نظر آرہی تھی دل پر ایک چوٹ لگی خاندانی فخر کی دیواریں ڈھلتی نظر آرہی تھی تب خاندان کے معزز افراد نے ہنگامی میٹنگ بلائی اور کہا کہ ہم رشتے ٹھکرا کر بہت سنگین غلطی کی ہے آخیر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب جو بھی رشتہ آۓ گا ہم انکار نہیں کریں گے چاہے لڑکے والوں کی حشیت کیسی بھی ھو خدا خدا کر کے ہزاروں دعاؤں کے بعد ایک رشتہِ آہی گیا مگر آسمان سے گرے کھجور میں اٹکا معاملہ تھا لڑکے کے والدین چہرہ شناس زمانۂ شناس تھے شیرین تبسم کو غور سے دیکھا شیرین تبسم کو دیکھنے کے بعد ماتھے پر شکن آییںء مگر شیرین تبسم کی والدہ دیکھ نہ سکیں لڑکے کے والدین جانے لگے شیرین تبسم کے معزز خاندان کے افراد نے مہمانوں سے پوچھا کیا آپ کو لڑکی پسند ہے لڑکے کے والدہ نے برجستہ جواب دیا "ہم لڑکی دیکھنے آۓ تھے عورت نہیں شیرین تبسم کی والدہ نے سیسکی بھری آواز میں کہا ہم نے بہت دیر کر دی خاندانی غرور خاک میں مل گیا کیونکہ اب شیرین تبسم اب ایک چلتی پھرتی لاش تھی
Comments
Post a Comment