انصاف کا گلا گھونٹتی اقتدار اور انتظامیہ کی ملی بھگت - ازقلم : وسیم رضا خان۔
انصاف کا گلا گھونٹتی اقتدار اور انتظامیہ کی ملی بھگت
ازقلم : وسیم رضا خان۔
ناسک کی پُرسکون فضا کے پیچھے اقتدار، جرم اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا جو خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے، وہ اب سڑکوں پر بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ شہر میں حالیہ دنوں پیش آنے والے دو بڑے معاملات — اشوک خرات معاملہ اور ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS) تبدیلیٔ مذہب تنازع — انتظامیہ کی کارکردگی اور سیاسی نیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
ناسک آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں خاکی اور کھادی کے گٹھ جوڑ نے انصاف کے بنیادی اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ایک طرف کلپنا خرات کا پراسرار طور پر لاپتہ ہونا ہے، اور دوسری طرف تبدیلیٔ مذہب کی ایک ایسی کہانی، جو مبینہ طور پر ایک بڑے جرم سے توجہ ہٹانے کے لیے لکھی گئی معلوم ہوتی ہے۔
اشوک کھرات پر الزامات کی بوچھار ہوئی، پولیس کارروائی کا شور مچا، لیکن اس پوری کہانی کا سب سے افسوسناک پہلو ان کی اہلیہ کلپنا خرات کا لاپتہ ہونا ہے۔ کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود پولیس کے ہاتھ خالی ہیں۔ کیا ناسک پولیس اتنی نااہل ہے کہ ایک خاتون کا سراغ نہیں لگا پا رہی؟ یا پھر کلپنا خرات کا غائب رہنا ہی کچھ بااثر لیڈروں کے مفاد میں ہے؟
سیاسی حلقوں میں یہ چرچا عام ہے کہ کلپنا کھرات کے پاس ناسک کے بعض طاقتور رہنماؤں کے سیاہ کارناموں کی فائل موجود ہے۔ اگر وہ منظرِ عام پر آتی ہیں تو کئی سفید پوش چہرے بے نقاب ہو سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ انہیں تلاش کرنے میں وہ سنجیدگی نہیں دکھا رہی جو مخصوص ایجنڈے والے معاملات میں دکھائی جاتی ہے۔
جیسے ہی کھرات معاملے میں مقامی لیڈروں کی ساکھ داؤ پر لگی، اچانک TCS تبدیلیٔ مذہب کا معاملہ سرخیوں میں آ گیا۔ الزامات لگ رہے ہیں کہ مقامی حکمراں رہنماؤں نے اس پوری کہانی کا خاکہ پہلے ہی تیار کر رکھا تھا۔ کھرات کی بیوی کلپنا آج تک نہیں مل سکی، لیکن مبینہ طور پر مفرور ملزمہ ندا خان کو پولیس نے بڑی تیزی سے ڈھونڈ نکالا۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ پولیس کی ترجیح انصاف نہیں بلکہ ایک مخصوص و منظم پلان کو عملی جامہ پہنانا ہے.
یہ بھی الزام ہے کہ ایک خاص مذہب کے نوجوانوں کو پھنسانے اور شہر کے فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنے کے لیے اس کیس کو ہوا دی گئی، تاکہ کھرات معاملے کی آنچ سے حکمراں لیڈروں کو بچایا جا سکے۔
اس پورے معاملے میں سب سے تشویشناک بات انتظامیہ اور میڈیا کے ایک طبقے اور عدلیہ کی خاموشی ہے۔ جب پولیس کسی مخصوص نظریے کے آلے کے طور پر کام کرنے لگے، تو عام آدمی انصاف کی امید کس سے کرے؟ پولیس کی نظر صرف وہیں جاتی ہے جہاں فرقہ وارانہ زاویہ فِٹ بیٹھتا ہو، جبکہ ذاتی زندگی اور تحفظ سے جڑے معاملات — جیسے کلپنا کھرات کیس سرد خانے میں ڈال دیے جاتے ہیں۔
میڈیا نے کھرات کی لاپتہ بیوی کے مسئلے کو حاشیے پر دھکیل دیا اور تبدیلیٔ مذہب کی کہانیوں کو پرائم ٹائم میں جگہ دی۔ یہ عوام کی توجہ بھٹکانے کی ایک منظم سازش محسوس ہوتی ہے۔
ناسک کا شہری آج سوال پوچھ رہا ہے — کلپنا کھرات کہاں ہیں؟ کیا پولیس انہیں ڈھونڈنا ہی نہیں چاہتی؟ کیا ایک مخصوص برادری کو قربانی کا بکرا بنانا اتنا آسان ہے کہ اصل مجرموں کی فائلیں دبا دی جائیں؟
اگر انتظامیہ اور پولیس اپنی ساکھ بچانا چاہتے ہیں تو انہیں اسکرپٹڈ کہانیوں سے باہر نکل کر کلپنا خرات کی تلاش کرنی ہوگی۔ انصاف تبھی ہوگا جب قانون کی آنکھیں مذہب یا سیاست نہیں بلکہ سچ دیکھ کر کھلیں گی۔
ناسک پولیس نے ایک نعرہ دیا تھا:
“ناسک ضلع قانون کا قلعہ ہے”
لیکن آج ناسک میں انصاف صرف ایک لفظ بن کر رہ گیا ہے، جس کی چابی اقتدار کے ایوانوں میں قید ہو چکی ہے۔
Comments
Post a Comment