ماہرالقادری۔ جن کی یادسے دل مہک اٹھتاہے - محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔


ماہرالقادری۔ جن کی یادسے دل مہک اٹھتاہے  -  
محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔ 

 اسلامی شعراء میں جو چند نام سامنے آتے ہیں جیسے نعیمؔ صدیقی، حفیظؔ میرٹھی،عزیز ؔبگھروی، حفیظ تائب ؔ، کلیم احمد عاجزؔ وغیرہ ان میں ایک نام ماہرؔالقادری کا بھی آتاہے۔ ان کی 48ویں برسی کے موقع پر انہیں یاد کرتے ہوئے درج ذیل سطور لکھی جارہی ہیں تاکہ اسلام کے ماننے والے شعراء کو نئی نسل یاد رکھے۔ ”صوفی نامہ“ نے ماہرؔالقادری کا یوں تعارف اپنے ہاں لکھ رکھاہے ”ماہر القادری 30 /جولائی 1907ء کو کیسر کلاں ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام منظور حسین تھا۔ انہوں نے عملی زندگی کا آغاز حیدر آباد دکن سے کیا پھر بجنور چلے گئے جہاں رسالہ مدینہ بجنور اور رسالہ غنچہ کے مدیر رہے۔ زندگی کا بڑا حصہ حیدرآباد دکن، دہلی، بمبئی میں گزرا اور پھر مستقل قیام کراچی میں رہا، چند ماہ ملتان میں بھی گزارے، سیرو سیاحت سے بھی دلچسپی تھی، 1928ء میں ریاست حیدرآباد کے مختلف محکموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ 1943ء میں حیدرآباد سے بمبئی منتقل ہو گئے، وہاں فلمی دنیا میں کچھ عرصہ گزارا۔ کئی فلموں کے گیت لکھے جو بڑے مقبول ہوئے۔ اپنے فلمی تعلق پر وہ کبھی نازاں نہ رہے، اس پر ان کا تبصرہ ان کے ہی الفاظ میں سنئے۔''چند دن فلمی دنیا سے بھی تعلق رہا، فلمی دنیا میں میرے لیے شہرت اور جلب منفعت کے بعض زرّیں مواقع حاصل تھے مگر اللہ کا بڑا فضل ہوا کہ میں اس دلدل سے بہت جلد نکل آیا۔ اس چند روزہ فلمی تعلق پر آج تک متاسّف ہوں ''قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی اور علمی جریدے فاران کا اجرا کیا جو ان کی وفات کے کچھ عرصہ بعد تک جاری رہا۔ رسالہ فاران نے ماہر القادری کو ایک نئی بلندی دی۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ماہر القادری نے رسالہ فاران کو علمی و ادبی حلقوں میں ایک ممتاز شناخت دلائی۔ ماہر القادری 12/ مئی 1978ء کو جدہ کے ایک مشاعرہ کے دوران انتقال کر گئے اور شہر مکہ میں جنت المعلیٰ کے قبرستان میں آسودہ ء خاک ہوئے“
 ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، صدر شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی لاہورماہرؔالقادری کے بارے میں لکھتے ہیں ””ماہرؔ القادری ایک خوش فکر اور خوش گو شاعر تھے۔ جس وقت اقبال کی شہرت نصف النہار پر تھی اور جوش، حفیظ و اختر کے نغمے فضا میں بلند ہو رہے تھے، ان دنوں ماہر نے بھی آہستہ آہستہ خوش ذوق قارئین کو متاثر کرنا شروع کیا، ان کے ہاں اختر کی رومانیت، جوش کی انقلابیت، حفیظ کی نغمگی اور اقبال کی مقصدیت کی جھلکیاں موجود تھیں۔ ملک بھر کے ادبی رسائل میں ان کا کلام شائع ہو کر داد حاصل کرتا رہا۔ اور ان کی نعت۔ ع۔ سلام اس پر کہ جس نے بیکسوں کی دستگیری کی، اتنی مقبول ہوئی کہ بہت کم نعتیں مقبولیت کے اس درجے پر پہنچ سکیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے اپنی شاعری کو تحریکِ اسلامی کے مقاصد سے ہم آہنگ کر دیا اور وفات تک اسی اندازِ سخن پر مستحکم رہے۔ ان کی شاعری اول تا آخر مہارتِ زبان اور فنی محاسن کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے“
 سید مقدس علی، نائب صدر ادارہ ء تعمیر ِ ادب، کراچی نے لکھاہے کہ ”ماہر القادری ایک شخصیت ہی کا نہیں، ادب، عقیدہ اور تہذیب کا بھی ایک معتبر نام ہے۔ اردو زبان اور اس کے شعری ادب کی تاریخ جب بھی لکھی گئی وہ ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوگی۔ ماہر نے دل کی گہرائیوں تک اتر جانے والے فکر انگیز شعر ہی نہیں کہے، ادبی انحطاط و اضمحلال کے اس عہد میں شعر سازی اور شعر کاری کے فن کو بھی از سرِ نو زندگی بخشی۔ ادب اور عقیدہ کے خوبصورت امتزاج اور لغت و لسان اور لفظ و بیان پر گہری نظر اور کڑی گرفت کے ساتھ مولانا ماہر القادری نے ایک اچھے انسان کی ساری شرائط بھی پوری کیں۔ زندگی سے ادب کا گہرا تعلق ہے مگر اس تعلق کو مثبت بنانے کے لئے زندگی اور ادب دونوں کا حقیقی شعور ناگزیر ہے۔ ماہر صاحب کی 71 سالہ زندگی کے شب و روز گواہ ہیں کہ ان میں زندگی اور ادب دونوں کو برتنے کا وہ شعور اور انہیں انگیز کرنے کا وہ ادراک موجود تھا جسے انسانیت کا حسن قرار دیا گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فکر و نظر کی پاکیزگی نے انہیں حیاتِ بے ثبات کے کسی موڑ پر بھی راہ سے بے راہ نہیں ہونے دیا۔ وہ عین جوانی کی عمر میں حیدرآباد دکن پہنچے اور وہاں 15 سال رہے۔ اس مدت میں مہاراجہ سر کشن پرشاد اور پرنس معظم جاہ کے دربار ملے، فانی اور ان جیسے کئی دوسرے شاعروں کی رفاقت حاصل ہوئی، متعدد ''یار'' اور ''نواز'' جگہوں کا ساتھ رہا وہ سب ماہر کی صلاحیتوں کے معترف اور قدر داں تھے۔ انہیں ایک مخصوص ماحول ملا جس سے متاثر ہوئے بغیر رہنا ممکن نہ تھا۔ بہت سی خوبیوں کے ساتھ ملوکیت کی برائیاں بھی موجود تھیں ان لہروں اور موجوں میں خود کو گم کر دینا بہت آسان تھا مگر ماہر القادری نے اپنا دامن سمیٹے رکھا(بحوالہ ”کلیات ِ ماہر۔ صفحہ 27) 
 آگے لکھتے ہیں۔”1973ء میں ''ادارہء تعمیرِ ادب'' کی تشکیل عمل میں آئی جس کے بانی صدر ماہر صاحب قرار پائے اور آخر تک اس کی رہنمائی کرتے رہے۔ ''فاران'' اور ''ادارہء تعمیرِ ادب'' ماہر القادری صاحب کی شناخت ہیں۔ فاران نے ماہر صاحب کا ہی ادبی مقام متعین نہیں کیا بڑے بڑوں کو آئینہ دکھایا اور ان کی قدر و قیمت متعین کی۔ ایک جانب اگر لغات، فرہنگِ الفاظ و معانی اور لہجہ و بیان کے عقدے حل کئے گئے تو دوسری جانب عقیدہ و اقدار کی بھی آبیاری کی گئی۔ کراچی جیسے شہرِ نمدار میں ترقی پسند ادب اور اتحادِ پسند ادیب کی بنیادیں خاصی مضبوط تھیں۔ اخبارات سے جرائد تک اور تنقیدی نشستوں سے عالمی مشاعروں تک ایک مخصوص سانچے اور ڈھانچے کے دانشور مسلط تھے، مگر ماہر صاحب نے اپنی انجمن الگ ہی سجائی۔ فاران اور ادارہء تعمیرِ ادب کے ذریعے ادب اور دین کی گرانقدر خدمات انجام دیں اور ان اقدار اور اصولوں سے ایک لمحے کے لئے بھی سمجھوتہ نہیں کیا جو پاکستان، اسلام اور انسانیت سے متصادم تھیں۔(ایضاً۔ صفحہ 28)
ماہر القادری کے چند اشعارملاحظہ فرمائیں ؎
فکر ودانش کی ہے معراج خدا کااقرار
یہی وجدان کی آواز ہے، فطرت کی پکار 
ہر طرف اس کے ہی جلوؤں کی ہے رونق ماہر ؔ
دل کی دھڑکن سے بھی تائید ِ نظر ہوتی ہے 
مبارک غم گسارِ بیکساں تشریف لے آئے 
مبارک ہو شفیع ِ عاصیاں تشریف لے آئے 
مبارک ہو نبی ؐ ء آخر ی تشریف لے آئے 
مبارک ہو جہاں کی روشنی تشریف لے آئے 
سلام اس پر جس نے بیکسوں کی دست گیری کی 
سلام اس پر جس نے بادشاہی میں فقیری کی 
سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سوناتھا
سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کابچھونا تھا 
مرے غم پر زمانہ کی ہزاروں عشرتیں قرباں 
تصور میں نبی ؐ کی آنکھ پرنم ہوتی جاتی ہے 
یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں 
غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں 
کبھی گلہ تری بیگانگی سے تھا مجھ کو
جواب ہوئی ہے توجہ تو اک قیامت ہے 
آنکھ میں آنسو لب پہ خموشی
دل کی بات اب راز کہاں ہے
سرو و صنوبر سب کو دیکھا  
ان کا سا اندا ز کہاں ہے
ابتدا وہ تھی کہ جینے کے لئے مرتے تھے 
انتہای ہے کہ مرنے کی بھی حسرت نہ رہی 
چشمِ نم پر مسکرا کر چل دیئے  
آگ پانی میں لگا کر چل دیئے
گلستاں میں آپ آئے بھی تو کیا 
چند کلیوں کو ہنسا کر چل دیئے
اقرار کر دیا کبھی انکار کر گئے  
بے خود بنا دیا کبھی ہشیار کر گئے
وعدہ کا ان کے ذکر ہی ماہرفضول ہے 
تم کیا کرو گے وہ اگر انکار کر گئے
پردہ بھی جلوہ بن جاتا ہے  
آنکھ تجلی ساز کہاں ہے
خیال وفکر کی شیشہ گری میں کچھ بھی نہیں یقیں نہ ہوتو فقط آگہی میں کچھ بھی نہیں 
اتنی شمعوں کی ضرورت کیاہے 
کیا ابھی اور اندھیر اہوگا
ان غم زدوں کی بیکسی ء غم نہ پوچھئے 
جوانتظار ہی میں رہے غم گسار کے 
وہ تبسم وہ ادائیں وہ نگاہ  
سب کو دیوانہ بنا کر چل دیئے
ماہر القادری کافارسی کلام بھی دستیاب ہے۔ کاش کہ وہ دکنی میں بھی شاعری کرتے لیکن چوں کہ ان کاتعلق بلند شہر سے تھااور وہ روزگار کے لئے حیدرآباد دکن پہنچے تھے اس لئے بھی دکنی شاعری کی طرف انھوں نے توجہ نہیں فرمائی۔ موجودہ دکن میں پید اہوئے اسلامی شعراء آیا دکنی شاعری کی طرف توجہ دیں گے؟۔ ماہر القادری جماعت اسلامی کو پسندکرتے تھے۔ اور موقع بہ موقع انھوں نے جماعت اسلامی اور مولانا سید ابوالااعلیٰ مودی ؒ کی پاکستان میں ایسے ہی تائید کی جیسے ہندوستان میں عامرعثمانیؒ کیاکرتے تھے۔ دونوں کاانتقال مشاعرہ پڑھتے ہوئے ہوا۔ اول الذکر مکہ کے جنت المعلیٰ میں دفن ہیں جب کہ ثانی الذکر کو ہندوستان کی سرزمین ملی۔ماہرالقادری کی خوبی یہ رہی کہ انھوں نے فلمی دنیا میں زندگی گزاری وہاں انھوں نے فلموں کے لئے گیت لکھے، لیکن اس دنیا سے خود کو آلودہ نہیں کیا۔ ایک موقع پر انھوں نے یہاں تک لکھاہے کہ ان کی شادی اس وقت کی مشہورفلمی اداکارہ سے ہونے والی تھی لیکن انھوں نے اس فلمی اداکارہ کی والدہ سے انکار کردیا۔ بعدازاں فلمی دنیا سے ہی توبہ کرلی اور ادب کی خدمت کے لئے ”فاران“ نکالا اور پوری طرح خود کو ادب کی خدمت کے لئے وقف کردیا۔ چوں کہ مزاج شروع ہی سے اسلام اور اسلامی تعلیمات کی طرف تھااس لئے جماعت اسلامی اور دیگراسلامی جماعتوں کے کام کو سراہنے لگے۔ 
 ماہرالقادری سے تعارف رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر لکھے ناول ”درّ یتیم“ سے ہوا۔ بعدازاں ”یادِ رفتگاں“ پڑھی تو پھر ماہرالقادری کے دیوانے ہوگئے۔ انھوں نے جوش ؔملیح آبادی کی سوانح حیات ”یادوں کی برأت“پر جو تبصرہ کیاہے وہ جوش ؔ کی پول کھولنے کے لئے کافی ہے۔ ماہرؔالقادری نے یادوں کی برأت کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا۔ اورجوش کی بڑی بڑی باتوں کونکارا۔بلکہ ان کے تخلیقی ادب کے حوالے سے لکھاکہ ”جوش ؔصاحب کی صوتیات جدت اور مترادفات کی بھرمار نے بچاری انشاپردازی کا حلیہ بگاڑ دیا“جگر ؔمرادآبادی کے بارے میں لکھاکہ وہ سیدھے سادے اور معصوم شاعر تھے۔ انھیں دنیا سے زیادہ لینا دینانہیں تھا۔ ماہرؔالقادری نے نخشب جارچوی جیسے شعرا ء کی تعریف کی تھی اور ایک شعر بھی پیش کیاتھاکہ انھوں نے مطلع لکھاپھر اس پر غزل کہہ نہیں سکے۔ اب مجھے یاد نہیں وہ کون سا شعر تھا۔ تاہم یادر فتگاں میں وہ شعر مل سکتاہے۔ جماعت اسلامی ہند ہر سال شب وروز ڈائری“ شائع کرتی ہے۔اس میں ماہر القادری کے اشعار مل جاتے ہیں۔ درج ذیل اشعار شب وروز ڈائری سے لیاگیاہے ؎
تیرامسلک حق پرستی، تیری فطرت حق شناس
یعنی ہرباطل سے ٹکرانے کی ہمت تجھ میں تھی 
 ماہرالقادری صرف شاعر نہیں تھے وہ ایک اچھے نقاد بھی تھے۔ زبان کی صفائی کو اس درجہ اہمیت دیتے تھے کہ انھوں نے اس معاملے میں فیض ؔ کو بھی نہیں بخشابلکہ اپنے آپ کو بھی۔ ”کلیات ِ ماہر ؔ“ کے مرتب جناب عبدالغنی فاروق، ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج آف سائنس، لاہورنے ماہرؔالقادری کے تنقیدی مزاج کو اس طرح بیان کیاہے۔ ”موصوف انتخاب اور تنقید کا ایک خاص معیار رکھتے تھے اور اس ضمن میں اپنے آپ کو بھی معاف نہیں کرتے تھے چنانچہ یہ دلچسپ امر ہے کہ ایک زمانے میں کراچی سے ''گردوپیش'' نام کا ایک ماہنامہ شائع ہوتا تھا۔ اس کے ایک خاص نمبر میں ماہر القادری کی نظم بھی شائع ہوئی۔ رسالہ تبصرے کے لئے ماہر کے پاس بھیجا گیا اور انہوں نے ''فاران'' میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ''ماہر القادری کی نظم میں نگاہ کو ''چشم'' کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے جو قابلِ غور ہے۔ (فاران اکتوبر 1965ء)اسی طرح ماہر صاحب اپنے سارے کلام کا ایک نظرثانی شدہ ایڈیشن مرتب کرنا چاہتے تھے۔ اس امر کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا:''میں اپنے تمام شائع شدہ کلام کا انتخاب کر رہا ہوں تاکہ جو بھرتی کی غزلیں اور نظمیں ہیں ان کو نکال دیا جائے — میں اس پر خود مقدمہ لکھوں گا جس میں اپنے کلام کی کمزوریوں کی خود نشاندہی کروں گا کہ جن اشعار کو خارج کیا گیا ہے ان میں فن و زبان اور اظہار و بیان کے کیا اسقام ہیں۔ (فاران فروری 65ء)(ایضاً۔ صفحہ 37)لیکن مقسوم میں ہمارے نہیں تھاکہ ان کاانتخاب پڑھ سکیں۔ موت نے مہلت نہیں دی۔ واقعی آج جب کبھی ماہر القادری کی نعت کا یا غزل کا کوئی شعریاغزل پڑھنے میں آتی ہے تو ان کی یادسے دل مہک اٹھتاہے۔ 
 یہاں ایک بات کی طرف توجہ دلانامقصود ہے کہ ماہرالقادری رسالہ مدینہ بجنور اور رسالہ غنچہ کے مدیر رہے۔ ریختہ ایک معروف ویب سائٹ ہے جو ساری دنیا کے اردو شعراء کو اپنے ہاں پلیٹ فارم مہیاکرتی ہے۔ جیسے ہی ہم ماہرالقادری کے نام سے گوگل پر سرچ کرتے ہیں سب سے پہلے ریختہ اپناچہرا دکھائے بغیر نہیں رہتی اور بتاتی ہے کہ ماہرالقادری کی ای کتابیں ہمارے یہاں دستیاب ہیں۔ جن کتابوں کاتعارف ریختہ کرواتی ہے ان میں طلسم حیات۔ فردوس، محسوسات ِ ماہر، ذکر ِ جمیل، کانجی ہاؤس، روزنامچے، یادرفتگاں اول۔ دوم، نغمات ِ ماہر، دریتیم، بدعت کیا ہے کے علاوہ ماہنامہ ”فاران“ کے مکمل شمارے شامل ہیں۔ مدینہ بجنور اور غنچہ کے شمارے نظر نہیں آتے۔ لہٰذا ہندوستان کے متعلقہ احباب کو چاہیے کہ وہ مدینہ بجنور اور غنچہ کے شمارے ریختہ کو فراہم کریں۔ ماہر القادری کی برسی پر یہی ایک کام مناسب رہے گا۔ اس کے علاوہ بھی بہت ساراادبی کام ماہرالقادری نے کیاہے، اس کو بھی ریختہ جیسی ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔تاکہ ہم اپنے اسلاف کے کام کو یادر کھیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس سے آگے کاکام انجام دیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا ماہرؔالقادری کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات کو بلندکرے۔ آمین۔مولانا ماہر القادری نے لکھاتھا”اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے کہ وہیں سدا رہنا ہے۔ بدبخت اور احمق ہے وہ جس نے اس دنیا کے لیے اپنی آخرت برباد کردی“
(بحوالہ یادِ رفتگاں جلد اول۔ مرتبہ طالب ہاشمی۔ صفحہ 28)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔