ماں کی ادھوری خواہش، بیت اللہ کے سائے میں ایک بیٹے کے آنسو - تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی، (اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد)
ماں کی ادھوری خواہش، بیت اللہ کے سائے میں ایک بیٹے کے آنسو
تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی،
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد)
حال مقیم ہوٹل اسفار الحجاز مکہ معظمہ بلڈنگ نمبر 1303 روم نمبر 207
موبائل: 9325217306
انسان کی زندگی میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب دل ماضی کے دریچوں میں اتر جاتا ہے، یادیں آنکھوں سے آنسو بن کر بہنے لگتی ہیں، اور انسان ہجوم میں بھی خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ خصوصاً حرمین شریفین کی مقدس فضائیں تو ویسے بھی دل کے بند دروازے کھول دیتی ہیں۔ وہاں انسان اپنے رب کے زیادہ قریب ہوتا ہے، اور شاید اسی قربِ الٰہی کی برکت سے اپنے اُن عزیز رشتوں کو بھی شدت سے محسوس کرتا ہے جو دنیا سے رخصت ہوچکے ہوتے ہیں۔
آج کل میں حج بیت اللہ کی مبارک سعادت کے لیے حجاز مقدس میں حاضر ہوں۔ 16 مئی 2026 کو الحمدللہ عمرہ ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، جبکہ حج کی عظیم عبادت ابھی باقی ہے۔ اسی دوران اچانک مجھے اپنی والدہ ماجدہ کی یاد شدت کے ساتھ آئی۔ دل بے اختیار بھر آیا، آنکھیں نم ہوگئیں، اور ماضی کی کئی یادیں ذہن میں تازہ ہوگئیں۔
17 مئی کا دن میری زندگی میں ایک ایسا دن ہے جسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ 17 مئی 2013 کو میری والدہ ماجدہ اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ اگرچہ انہوں نے سن 2006 میں میرے والد محترم عبد العزیز صاحب اور میرے بڑے بھائی عبد الصمد صاحب اور چھوٹی ہمشیرہ اسماء سلطانہ کے ساتھ حج بیت اللہ ادا کیا تھا، لیکن ان کی ایک دلی خواہش یہ بھی تھی کہ وہ میرے ساتھ بھی حج کی سعادت حاصل کریں۔ زندگی نے مہلت نہ دی، وقت گزر گیا، اور وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئیں۔واضح ھو 2006 عیسوی میں جوحج ھواوہ8, جنوری تا13جنوری 1426ھ میں واقع ھوا۔اس وقت 9جنوری کو یوم عرفہ اور 10جنوری کو عید الاضحی تھی
انسان جب ماں کو کھودیتا ہے تو حقیقت میں وہ صرف ایک شخصیت سے محروم نہیں ہوتا بلکہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی دعا، سب سے مخلص محبت، اور سب سے بے لوث سایہ کھودیتا ہے۔ ماں کی محبت ایک ایسی دولت ہے جس کی قدر اکثر اُس وقت محسوس ہوتی ہے جب انسان اُس نعمت سے محروم ہوچکا ہوتا ہے۔
بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر مجھے یہ احساس شدت سے ہورہا تھا کہ آج اگر میری والدہ زندہ ہوتیں تو شاید میری خوشیوں میں سب سے زیادہ خوش وہی ہوتیں۔ میرا احرام دیکھ کر اُن کی آنکھیں نم ہوتیں، میری لبیک سن کر اُن کا دل خوشی سے بھر جاتا، اور شاید وہ بار بار یہی دعا کرتیں کہ اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کا حج قبول فرمائے۔
اسی احساس نے میرے دل میں یہ جذبہ پیدا کیا کہ میں اپنی والدہ مرحومہ کی طرف سے عمرہ ادا کروں، تاکہ اُن کی وہ خواہش کسی نہ کسی انداز میں پوری ہوسکے۔ پھر دل میں یہ خیال بھی آیا کہ والد محترم کو بھی اپنی دعاؤں اور ایصالِ ثواب میں شامل رکھوں، کیونکہ والدین کی محبت اور قربانیاں انسان کی پوری زندگی پر محیط ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایک مستقل عمرہ ایک ہی شخصیت کی طرف سے نیت کیا جاتا ہے، لیکن اُس کی برکتیں، دعائیں اور ثواب دوسرے مرحومین تک بھی پہنچائے جاسکتے ہیں۔
غور کیا جائے تو اسلام کی یہی خوبصورتی ہے کہ وہ موت کے بعد بھی رشتوں کو ختم نہیں ہونے دیتا۔ دعا، ایصالِ ثواب، صدقۂ جاریہ، حج اور عمرہ جیسے اعمال کے ذریعے اولاد اپنے مرحوم والدین کے ساتھ محبت و وفاداری کا تعلق باقی رکھ سکتی ہے۔
جب ایک بیٹا اپنی مرحوم ماں کی طرف سے احرام باندھتا ہے، طواف کرتا ہے، سعی کرتا ہے، زمزم پیتا ہے اور بیت اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھاکر اُس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے تو حقیقت میں یہ صرف ایک عبادت نہیں ہوتی بلکہ محبت، وفاداری اور روحانی تعلق کا ایک عظیم اظہار ہوتا ہے۔
حرمین شریفین میں آکر انسان کو زندگی کی حقیقت بھی بہت قریب سے محسوس ہوتی ہے۔ دنیا کی مصروفیات، عہدے، شہرت، مال و دولت سب کچھ وقتی نظر آنے لگتا ہے، جبکہ والدین کی دعائیں، اُن کی محبتیں اور اُن کی یادیں انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ حرم میں پہنچ کر اپنے مرحوم والدین کو شدت سے یاد کرتے ہیں۔
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے اس سال مجھے یہ سعادت اسی لیے عطا فرمائی کہ میں اپنی والدہ مرحومہ کو زیادہ شدت سے یاد کروں، اُن کے لیے دعا کروں، اور اُن کی ادھوری خواہش کو اپنی عبادت کے ذریعے ایک روحانی تکمیل عطا کرسکوں۔ بعض خواہشیں ظاہری طور پر پوری نہیں ہوتیں، لیکن اللہ تعالیٰ اُن کے لیے ایسے راستے پیدا فرمادیتا ہے جو انسان کے گمان سے بھی زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں۔
آج جب میں بیت اللہ کے سائے میں اپنے والدین کے لیے دعا کرتا ہوں تو دل سے یہی آواز نکلتی ہے کہ:
“اے اللہ! میرے والدین پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرما، اُن کی قبروں کو نور سے بھر دے، اُن کے درجات بلند فرما، اور مجھے اُن کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ بنادے۔”
حقیقت یہ ہے کہ والدین دنیا سے چلے جائیں تو اُن کی محبت ختم نہیں ہوتی، بلکہ دعا کے رشتے میں بدل جاتی ہے۔ اور شاید یہی وہ رشتہ ہے جو انسان کو زمین سے آسمان تک جوڑے رکھتا ہے۔
Comments
Post a Comment