غزل۔ -ازقلم : اقبال آصف، بیجاپور ( کرناٹکا )
غزل۔ -
ازقلم : اقبال آصف، بیجاپور ( کرناٹکا )
غم نہیں جس میں ، شاعری ہی نہیں
اب کسی آنکھ میں نمی ہی نہیں
چس کے سینے میں روشنی ہی نہیں
زندگی اس کی زندگی ہی نہیں
مجھ کو نشہ مری انا کا ہے
میں نے اب تک شراب پی ہی نہیں
میں جسے ڈھونڈتا ہوں مدت سے
وہ خوشی آج تک ملی ہی نہیں
ہر نفس گھُٹ کے جینے مرنے کی
یہ کہانی تو بس مِری ہی نہیں
کیا سناوں تجھے کہ میں نے کبھی
ایسی ویسی غزل کہی ہی نہیں
تیری باتوں میں تیرگی ہے بہت
تیرے لہجے میں روشنی ہی نہیں
دل ہے زندہ تو کیا ہوا آصف
جبکہ اس دل میں بے کلی ہی نہیں
اقبال آصف ۔ ۔ ۔
بیجاپور ( کرناٹکا )
Comments
Post a Comment