آئیڈیا کے زیرِ اہتمام دو روزہ ادبی و رُومانی ڈراما فیسٹیولعید کی خوشیوں میں ادب کا چراغ روشن کرنے والی ایک دل آویز تقریب۔


آئیڈیا کے زیرِ اہتمام دو روزہ ادبی و رُومانی ڈراما فیسٹیول
عید کی خوشیوں میں ادب کا چراغ روشن کرنے والی ایک دل آویز تقریب۔

ادب کے قدرشناسوں اور فنونِ لطیفہ کے عشّاق کے لیے نہایت مسرّت کی خبر ہے کہ آئیڈیا کی جانب سے عید کے پرمسرت موقع پر ممبئی میں دو روزہ ادبی و رُومانی ڈراما فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اس فیسٹیول میں ہندوستانی ادب کے درخشندہ سرمائے، خصوصاً اردو و ہندی کے کلاسیکی اور تہذیبی رنگ کو اسٹیج پر اس نزاکت اور محویت کے ساتھ پیش کیا جائے گا جو دلوں کی تہوں تک اثر چھوڑ جائے۔
یہ تہذیبی و ثقافتی جشن 30 اور 31 مئی کو منعقد ہوگا، اور مجموعی طور پر پانچ ڈرامے پیش کیے جائیں گے۔ ان تمام ڈراموں کی بنیاد ہمارے ادبی ورثے کی معتبر روایتوں، لازوال کرداروں اور اُن فن کاروں پر ہے جنہوں نے برصغیر کی فکری دنیا میں اپنے نقش گہرے کیے ہیں۔

30 مئی — "آداب میں پریم چند ہوں" سیریز کے تین شاہکار ڈرامے
پہلے روز منشی پریم چند کے جاوداں افسانوں پر مبنی تین ڈرامے پیش کیے جائیں گے:
"بڑے گھر کی بیٹی", "شانتی" اور "بڑے بھائی صاحب"۔
منشی پریم چند کا شمار اُن فن کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہندوستانی سماج کے دکھوں، محرومیوں، اخلاقی کشمکش اور انسانی رشتوں کی لطافت کو اپنے قلم میں ایسی سچّائی کے ساتھ سمیٹا کہ اُن کی ہر تحریر آج بھی تازگی اور زندگی سے بھرپور محسوس ہوتی ہے۔ اُن کے افسانے صرف کہانیاں نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی دھڑکن اور ضمیر کی آواز ہیں۔
یہ ڈرامے شکنتلم اسٹوڈیو، اوشیوارہ میں اسٹیج کیے جائیں گے۔

31 مئی — دو رُومانوی و سوانحی ڈراموں کی شام
1. "آوارہ پھروں" — شام 5 بجے
اردو شاعری کے رومانی آسمان پر درخشاں ستارے مجاز لکھنوی کی زندگی پر مبنی یہ ڈراما اُن کے فن، ان کی حساسیت اور ان کے المیے کا ایسا جیتا جاگتا مرقع ہے جو دل کو چھو لینے کی قدرت رکھتا ہے۔
اسے قاضی مشتاق احمد نے تحریر کیا ہے، جبکہ تیجس پاریکھ اسٹیج پر مجاز کی داخلی دنیا کو نہایت لطافت کے ساتھ مجسّم کریں گے۔
مجاز جس کی شاعری نے عشق کو نئے استعارے دیے، لکھنؤ کی فصیلوں میں نئی ہوا پیدا کی، اور رومان کو ایک نئی تہذیبی معنویت عطا کی، اس ڈرامے میں اپنی پوری روح کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

1. "عشق جلے تو جلے ایسا" — رات 7:30 بجے
صادق انصاری کا تحریر کردہ یہ ڈراما برصغیر کی ادبی تاریخ کے دو بے مثال کرداروں “امرتا پریتم اور امروز” کی لازوال رفاقت، باہمی جذبات اور تخلیقی وابستگی کو اس فن کارانہ نزاکت سے پیش کرتا ہے کہ تماشائی دیر تک اس کے سحر میں مبتلا رہتا ہے۔
اس میں یوکتارتھ شریواستو امروز کا کردار اور گیت دیشمکھ امرتا پریتم کا کردار ادا کریں گی۔
یہ واحد اسٹیج ڈراما ہے جو امرتا اور امروز کے گہرے روحانی و جذباتی تعلق، اُن کی شاعرانہ ہم سفری اور تخلیقی ہم نوائی کو مرکزِ نگاہ بناتا ہے۔

تمام ڈراموں کے ہدایت کار — مجیب خان
اس فیسٹیول کی تمام پیشکشیں ہندوستانی تھیٹر کی معیاری روایت کے نمایاں نام، اردو و ہندی اسٹیج کے ممتاز ہدایت کار مجیب خان کی تخلیقی نگرانی میں تیار کی گئی ہیں۔
مجیب خان کا اسلوب نفسِ کردار کی درست آواز پکڑنے، مکالمے کو زندگی دینے اور اسٹیج کو فن کے آداب کے ساتھ برتنے کا نام ہے۔ ان کی ہدایات ہمیشہ فنِ اسٹیج کے وقار اور جمالیات کو نئی بلندی عطا کرتی ہیں۔

رابطہ برائے مزید معلومات
دل چسپی رکھنے والے افراد اس نمبر پر رابطہ کریں:
9821044429

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔