قربانی — رسم سے آگے، بندگی تک— انا سےآگے، وفا تکاز : جمیل احمد ملنسار۔


قربانی — رسم سے آگے، بندگی تک
— انا سےآگے، وفا تک
از : جمیل احمد ملنسار۔ 
Mob: 98454 98354

قربانی صرف ایک مذہبی رسم نہیں، بلکہ انسان کے دل کے اندر اُترنے والی ایک ایسی کیفیت ہے جو ہر سال ہمیں اپنے آپ سے ایک اہم سوال پوچھنے پر مجبور کرتی ہے: آخر ہم اللہ کے لیے کیا چھوڑنے کو تیار ہیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام صرف عبادات اور ظاہری رسومات تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسان کے باطن کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ قربانی دراصل صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی خواہشات، اپنی انا، اپنی خود غرضی اور اپنے نفس کو اللہ کے حکم کے آگے جھکا دینے کا نام ہے۔ جانور تو ایک علامت ہے، اصل قربانی اُس “میں” کی ہے جو ہر وقت اپنی مرضی کو سب سے اوپر رکھنا چاہتی ہے۔

حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ اگر صرف ایک تاریخی قصہ سمجھ لیا جائے تو ہم قربانی کی روح کو کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ ایک باپ اپنے بڑھاپے کے اکلوتے بیٹے کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، اور بیٹا بھی سر جھکا دیتا ہے۔ یہ صرف جذباتی منظر نہیں تھا، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام تھا کہ اللہ سے سچا تعلق اُس وقت بنتا ہے جب انسان اپنی سب سے محبوب چیز بھی اُس کی رضا پر قربان کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے۔

آج مسئلہ یہ ہے کہ قربانی ہمارے گھروں تک تو پہنچ گئی، مگر ہمارے کرداروں تک نہیں پہنچ سکی۔ ہم نے جانور خریدنے کو ہی عبادت سمجھ لیا، لیکن اپنے اندر کے تکبر، جھوٹ، حسد، دھوکے اور بے حسی کو ویسے ہی زندہ رکھا۔ عید کے دنوں میں مہنگے جانوروں کی نمائش ہوتی ہے، تصویریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہیں، مگر وہی محلے کا سفید پوش انسان آج بھی خاموشی سے اپنی ضرورتیں چھپائے بیٹھا ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ جانور کتنا بڑا تھا، بلکہ یہ ہے کہ ہماری قربانی سے کتنے چہروں پر خوشی آئی؟

اسلام کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ عبادت کو انسانیت سے الگ نہیں کرتا۔ قربانی کا گوشت تقسیم کرنا صرف ایک روایت نہیں، بلکہ معاشرے میں محبت، احساس اور برابری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسلمان صرف اپنی ذات کے لیے نہیں جیتا۔ اُس کی خوشی تب مکمل ہوتی ہے جب اُس کے آس پاس کے لوگ بھی سکون اور خوشی محسوس کریں۔

اگر آج ایک مسلمان واقعی قربانی کی روح کو زندہ کرنا چاہتا ہے تو اُسے صرف عید کے تین دنوں تک محدود نہیں رہنا ہوگا۔
وہ اپنے کاروبار میں ناجائز منافع چھوڑ دے، یہی قربانی ہے۔
وہ اپنی زبان کو جھوٹ، غیبت اور نفرت سے بچائے، یہی قربانی ہے۔
وہ اپنی دولت میں غریب کا حق پہچانے، یہی قربانی ہے۔
وہ اپنی انا چھوڑ کر ٹوٹے ہوئے رشتے جوڑ دے، یہی قربانی ہے۔
وہ کسی یتیم کی مدد کرے، کسی مجبور کے گھر راشن پہنچائے، کسی طالب علم کی فیس ادا کرے، کسی بیمار کے علاج میں ہاتھ بٹائے — یہی وہ قربانی ہے جو اللہ کو پسند آتی ہے۔

آج دنیا مادّہ پرستی کے ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر چیز کو صرف فائدے اور نقصان کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں قربانی ہمیں ایثار، ہمدردی اور دوسروں کے لیے جینے کا سبق دیتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی صرف حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ کچھ دینے کا حوصلہ بھی مانگتی ہے۔ اگر معاشرے کے صاحبِ حیثیت لوگ اپنے آرام کا کچھ حصہ دوسروں کے لیے قربان کر دیں، اگر نوجوان اپنی صلاحیتیں قوم کی بھلائی کے لیے وقف کر دیں، تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

قربانی دراصل مسلمان کی سالانہ تربیت ہے۔ یہ اُسے سکھاتی ہے کہ ایمان صرف زبان سے کہنے کا نام نہیں، بلکہ عمل سے ثابت کرنے کا بھی نام ہے۔ کبھی انسان کو اپنا مال قربان کرنا پڑتا ہے، کبھی وقت، کبھی آرام، اور کبھی اپنی ضد۔

آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ اللہ کو نہ گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون۔ اُس تک صرف دل کی کیفیت پہنچتی ہے۔ اگر قربانی کے بعد بھی انسان کے اندر رحم، عاجزی، اخلاص اور انسانیت کا جذبہ پیدا نہ ہو، تو پھر یہ صرف ایک رسم بن کر رہ جاتی ہے۔ لیکن اگر یہ عبادت انسان کے دل کو بدل دے، اُس کے رویّے میں نرمی اور دوسروں کے لیے درد پیدا کر دے، تو یہی قربانی ایک بہتر معاشرہ بنانے کی طاقت رکھتی ہے۔

قربانی کی اصل روح یہ ہے کہ عید گزر جانے کے بعد بھی انسان کے اندر ایک بہتر انسان باقی رہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔