اللہ کے زکر سے انسان کی روح صحت مند اور طاقتور ہوتی ہے، شا ہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمدادریس احمد قادری”صاحب“ بگدلی کا خطا ب۔
بیدر۔30 /اپریل (نامہ نگار)۔اللہ کے زکر سے انسان کی روح صحت مند اور طاقتور ہوتی ہے اور اس میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔جو بند ہ ہمیشہ اللہ کا ذکر کرتاہے اس بندہ کادل زندہ ہے اور جو بندہ اللہ کاذکر نہیں کرتا گویا اُس کا دل مردہ ہے ہمیشہ اللہ کا ذکر کرتے رہو کیونکہ اللہ کا ذکرکرنے سے ایمان پختہ ہوتاہے۔حضور ﷺ فرماتے ہیں میں اللہ کے ونور سے ہوں اور میرے نور سے تمام کائنات ہے۔ اللہ اور رسول اللہ کی تعلیمات پر دل و جان سے عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی اطاعت و فرماں برداری،صوفیا اکرام،علمائے دین، اور اپنے پیر و مرشد، اپنے بزرگوں کا ادب کرنا ہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔سردار اولیاء حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ حسنی وحسینی ہیں۔پیران پیر کی ذات اقدس کواللہ نے ولادت کا درجہ عطاکیا ہے۔ اور تمام سلسلوں کے سردارحضرت عبدالقادر جیلانی ؒہیں۔ ان خیالات کا اظہارپیرطریقت شا ہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمدادریس احمد قادری”صاحب“ بگدلی سجادہ نشین درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف نے درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف میں منعقدہ ماہانہ حلقہ درس تصوف کے بعد جلسہ عظمت اولیاء کومخاطب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے غوث الاعظم دستگیر ؒ کی کرامت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ حضرت شیخ عبداللہ جمالی فرماتے ہیں کے حضرت سید نا غوث پاک ؒ ہمیشہ بھوکوں کو کھانا کھلاتے اور صبح سے شام تک ضرورت مندوں میں اشرفیاں تقسیم فرماتے۔ حضرت معروف ابو مظفر ؒ فرماتے ہیں کے حضرت پیران پیر ایک ایک محفل میں چار چار سوں لوگوں کو ولایت کے مقام پر پہچا تے تھے۔آپؒ کے در کے فقیروں کو آپؒ بغیر سوال کئے عطاء فرماتے تھے۔حضرت قادر ولیؒ ملک خراساں کے سفر میں تھے آپؒ کے ساتھ چار سو چواں لیس فقراء تھے آپؒ نے فقراء سے کہا کہ درخت کے پتوں کو لاؤ پتے جیسے ہی لائے گئے کشتیاں بن گئے سب اپنی اپنی کشتی میں سوار ہو گئے۔حضرت شاہ سید عبدالقادر ولی گنج سوائی گنج بخش بادشاہ ناگوری باکرامت ولی کامل ہیں۔شاہ سید قادر ولی ؒ کی والدہ فرماتی ہیں میرا قادر کونین کا قطب ہوگا۔ حضرت قادری ولی نے اپنے ساتھی فقراء کے ساتھ سمند رکے کنارے سے اس پہاڑ کی طرف روانہ ہوئے جو جبل نور کے نام سے مشہور ہے۔اور جہاں آدم علیہ السلام اترے تھے پہاڑ کی اونچائی تین ہزار فٹ ہے جب پہاڑ پر پہونچے تو خدا کا شکر ادا کیا اور پھر وضو کرکے ۲ رکعت نماز پڑھی پھر چوٹی پر پہو نچ کر حضرت آدم کے پاؤں کا نشان دیکھا جو ابتک باقی ہے اس کی لمبائی 3/4ہاتھ اور چوڑائی ایک بڑے چار ہاتھ تھی۔حضرت قادری ولی کے بیشمار کرامات جیسے ناریل کے سر پر دو سنگھ لانا اور بند ناریل کے اندر مچھلی کی پشت پر یا قادر لکھا ہونا، ہرن سے محبت، جنت کے تین پتے،بت پرستوں کا اسلام قبول کرنا، پہاڑ پر ۲ بزرگوں سے ملاقات،حضرت قادری ولی کے دربار میں ایک رانی کاآنا، کرامات پر سیر حاصل روشنی ڈالتے ہوئے مریدین و معتقدین کو تلقین کی کہ پانچوں وقتوں کی نمازوں کی پابندی اور ہر لمحہ ذکر و اذکار میں گذاریں۔انہو ں نے حضرت سیدنا عبدالقاد ر شاہ ولی گنج سوائی گنج بخش بادشاہ ناگوری ؒ کے سالانہ سہ روزہ عرس شریف کامرکزی جلسہ ئ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف میں،18،17،16،مئی کو منایا جائیگا۔جلسہ کی ابتدائی تیاریاں تیزی کے سا تھ جاری ہیں۔درس تصوف دینے کے بعد دعائے سلامتی فرمائی۔ مولانامحمد ندیم قادری استاد دارالعلوم قادریہ، نے کہا کہ حضرت سیدنا غوث الاعظم حضرت سید نا عبد القادر جیلانی حسنی حسینی سید ہیں اور آپ کا شجرہ نسب چند واسطوں کے بعد حضرت علی المرتضی سے جاملتا ہے۔ آپ امام الاولیاء ہیں اور تصوف کے سب سے بڑے سلسلے '' قادریہ کے بانی ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو بہت کمال اور بزرگی عطا فرمائی ہے۔ آپ جامع العلوم تھے آپ کے چہرہ مبارک پر رعب و جلال اور بزرگی اس قدر نمایاں تھی کہ ظالم اور جابر لوگ بھی آپ کے چہرے کو دیکھتے تو ان پر خشوع و خضوع طاری ہو جاتا۔ آپ کے والد ابو صالح سید موسیٰ جنگی دوست بھی اولیاء اللہ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ ام الخیر امتہ الجبار بڑی نیک خاتون تھیں۔ آپ کا پورا خاندان ہی ولایت کے مرتبے پر فائز ہے۔ آپ کے نانا، دادا، والد، والدہ، پھوپو اور آپ کے صاحبزادگان سب اولیاء اللہ ہوئے اور یہ پورا خاندان کشف و کرامات کا حامل ہے۔مولانا محمدشاہدرضاء استاد دارالعلوم قادریہ بگدل نے کہاکہ اللہ کے ولیوں کو کوئی غم ہوتا ہے نہ خوف آمن ہی آمن رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیر کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دارالعلوم قادریہ بگدل میں400سو سے زائد طلبا ء حضرت شاہ خلیفہ ڈاکٹر محمد ادریس احمد قادری صاحب کی نگرانی میں زیر تعلیم ہیں۔انشاء اللہ سالانہ جلسہ میں شاندار تعلیمی
مظاہرہ کیا جائیگا۔شہ نشین پر جناب محمد لئیق احمد قادری بگدلی اوردیگرمعززین موجود تھے۔ طالب علم دارالعلوم قادریہ بگدل کی قرأ ت کلام پاک سے جلسہ کی کاروائی کاآغاز ہوا۔ حافظ شاہنواز نلدرگ،امام مسجد مدینہ،۔محمدسلیم قادری ظہراباد،محمد یاسر عرفات علی طالب علم دارالعلوم قادریہ بگدل ،وطلباء نے حمد، نعت، منقبت کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔حسب روایت لنگر خانہ قادریہ میں لنگر طعام کا پر تکلف کا اہتمام کیا گیا تھا۔سلام فاتحہ تقسیم تبرکات کے بعدیہ روحانی تقریب تکمیل پذیر ہوئی۔
Comments
Post a Comment