جی ایم مومن ومن کالج اور ڈگری ڈسٹریبیوشن پروگرام ۔


بھیونڈی: بروز پیر بتاریخ اپریل 27 , 2026: مذکوره کالج میں ڈگری ڈسٹریبیوشن کا پروگرام منعقد ہوا، بچیوں کے لئے سفید ڈریس اس پر لال ڈوپٹہ ڈریس کوڈ رکھا گیا۔ چیف گیسٹ کی حیثیت سے جناب ڈاکٹر کرن کمار بونڈار جو حکومت مہاراشٹر میں ریجنل جوائنٹ ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کوکن ریجن، پنویل میں اس عہدے پر فائز ہیں ۔ 
پروگرام کا آغاز حسب معمول قرآن کی تلاوت سے ہوا ۔ کالج کی ایک بچی نے بڑے خوش الحان آواز میں تلاوت کی ۔بعد ازاں قومی ترانہ پڑھا گیا ۔ اور پھر مہاراشٹر کا قومی گیت گایا گیا۔ 
ڈاکٹر علامہ اقبال نے قومی گیت لکھا جس میں پورے ہندوستان کو ایک وطن کہا گیا ہے ۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ۔ اسکو حب الوطنی کی صحیح مثال بہترین الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔
ہندوستان کے بظاہر دشمنانے وطن نے الفاظ سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ یہ اس زبان میں ہے جس کو سمجھنا عام ہندوستانی کے بس میں نہیں ہے ۔ یہ سنسکرت جو بنگالی کے ملعمے میں لپٹی ہوئی ہے ۔ ہم وطنوں کے دلوں میں پاکستان بننے کا گھاو ایسا پیوست ہے کہ جو کبھی نہیں بھرے گا ۔ دوسرے اس کو اسطرح پیش کرنا جس سے نفرتیں بڑھتی رہے گی ۔ شاید میں جذبات کی رو میں بہتے ہوئے موضوع سے دور نکل گیا ہوں۔ سارے جہاں کا درد ہمارے شکم میں ہے ۔ 
یہ بنگالی زدہ سنسکرت کے الفاظ ضرور ہندوستان کے سارے صوبوں کے نام شامل کیے ہوئے ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس ابھی بھی ہمارا دل بھرا نہیں۔ ہم مراٹھی ہیں۔ ہمیں آپنے مراٹھی ہونے پر ناز ہے ۔ ہم سے یہ بات برداشت نہیں ہوتی کہ کوئی اور زبان کے الفاظ ہماری سمع خراشی کرے۔ اس لیے ایک اورگیت مراٹھی میں گایا گیا۔ 
کالج کا ہال گرمی کی شدت سے تپ رہا تھا ۔ اسٹیج پرفوکس کی روشنی گرمی میں مزید گرمی پیدا کررہے تھے ۔ اوپر سے ہمارے گاؤن اور سرپر پگڑی نما ٹوپی جوہرطرح سے سونے پر سہاگا ثابت ہو رہے تھے ۔
گرمی کے مارے سردرد سے پھٹا جارہا تھا ۔ دل چاہتا تھا کہ اسٹیج چھوڑ معذرت چاہتے ہوئے نکل جاؤں ، مگر ہمت نہیں ہوئی ۔ میں سوچ رہا تھا کہ حاضرین کو اس وارننگ سے مطلع کروں جس پر اگر سنجیدگی سے غور کریں تو شاید سسکیوں سے ہال میں آوازیں نا صحیح مگر سکوت ضرور طاری ہوتا۔ مگر یہ ہونہ سکا، وجہ شدید ترین سر درد تھا ۔
سورۃ جو پڑھی گئی تھی وہ تھی۔  سورۃ الماعون ۔ سورۃ نمبر 107. 
یوں تو ساری آیات قابل غور ہیں مگر آیت نمبر 4 فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ‎﴿٤﴾
ایک دھماکہ خیز پیغام ہے ۔ اللہ کی لعنت ہے ان نمازیوں پر۔ یہ بڑی بات ہے۔ اللہ نماز پڑھنے والوں سے سخت ناراضگی کا اظہار کر رہا ہے ۔ آخر کیوں ؟ اسلئے نہیں کہ وہ نماز پڑھتے ہیں بالکہ اس لیے کہ ‏ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ‎﴿٥﴾ جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں (یعنی انہیں محض حقوق اﷲ یاد ہیں حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں)،۔ 
نماز پڑھتے ہیں مگر صرف دکھاوے کی خاطر بغیر دھیان دئے ہوئے ۔ الفاظ کے معنی بغیر جانے بغیر سمجھے اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمارا فرض اداء ہو رہا ہے ۔ جو پیغام خداوندی ہے وہ اداء نہیں ہو رہا ہے۔ 
قرآن کا اصل پیغام ہے بھائی چارگی، انسانیت ، غریبوں ، یتیموں ، لاچار ، معزور انسانوں سے حسن سلوک ، یہ سب چھوڑ کر سجدوں پر سجدے کررہے ہیں ۔ 
الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ‎﴿٦﴾‏ وہ لوگ (عبادت میں) دکھلاوا کرتے ہیں (کیونکہ وہ خالق کی رسمی بندگی بجا لاتے ہیں اور پسی ہوئی مخلوق سے بے پرواہی برت رہے ہیں)،
 وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ‎﴿٧﴾‏ اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں۔ 
ان آیات کی روح جاننے کے بعد انسان حقیقی مطلب اور مقصد نظر انداز کر دے تو اسے انسانوں کے زمرے شامل کرنا بے عقلی ہے۔ 

پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔