کڈپہ میں مذہبی شدت پسند افراد کی اشتعال انگیز کارروائیاں - پرامن احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر پولیس کی مبینہ زیادتی قابل مذمت۔
کڈپہ میں مذہبی شدت پسند افراد کی اشتعال انگیز کارروائیاں -
پرامن احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر پولیس کی مبینہ زیادتی قابل مذمت۔
کڈپہ (انور ہادی جنیدی) کڈپہ شہر تاریخی طور پر مذہبی ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کا مرکز رہا ہے. نوابوں کے دور حکومت میں یہ شہر نیک نام آباد کے نام سے معروف تھا،جسے نیک نام خان نے بسایا تھا بعد ازاں اسے کڈپہ کہا جانے لگا. تاریخی شواہد کے مطابق نوابوں نے اپنے دور میں متعدد مندروں کو بھی اراضی عطیہ کی تھی. ہندو مسلم اتحاد اور بھائی چارے کی علامت سمجھے جانے والے اس شہر میں حالیہ دنوں بعض شرپسند اور مذہبی شدت پسند احباب کی جانب سے دانستہ طور پر کشیدگی پیدا کرنے اور سیاسی و ذاتی مفادات کے لیے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں انتہائی تشویشناک ہیں۔
حال ہی میں کڈپہ کے الماس پیٹ سرکل کو ٹیپو سلطان سرکل کا نام دینے سے متعلق کارپوریشن اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ تاہم اس جمہوری فیصلے کے خلاف کچھ شدت پسند عناصر نے احتجاجی ریلیاں نکالتے ہوئے مجاہد آزادی، عظیم سپہ سالار اور تاریخی شخصیت حضرت ٹیپو سلطان کے خلاف نہایت توہین آمیز اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی، جس سے مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی۔
مسلم برادری نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر 10 مئی 2026 کو ہنومان جینتی کے موقع پر نکالی جانے والی بائیک ریلی کو بنیاد بنا کر مزید اشتعال انگیزی کی گئی. سوشل میڈیا، آٹو اعلانات اور شہر بھر میں لگائے گئے بینروں کے ذریعے ٹیپو سلطان سرکل کو ہنومان سرکل میں تبدیل کرنے کے اعلانات کیے گئے، جس سے فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش صاف ظاہر ہوتی ہے. یہ اقدامات براہ راست امن و امان کو متاثر کرنے والے تھے.
اس صورتحال کے خلاف مسلم نوجوانوں اور عوام نے ٹیپو سلطان سرکل پر پرامن احتجاج درج کروایا، لیکن دوسری جانب بعض افراد پتھر، لاٹھیاں، اسٹیل راڈس اور دیگر ہتھیار نما اشیاء کے ساتھ وہاں پہنچ کر اشتعال انگیز نعرے بازی اور گالم گلوچ کرتے رہے. حیرت انگیز طور پر پولیس یہ تمام صورتحال دیکھتی رہی مگر بروقت کارروائی نہیں کی گئی، جس سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں.
قابل افسوس امر یہ ہے کہ ہتھیاروں کے ساتھ آنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے، خالی ہاتھ پرامن احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر ہی بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی. دو ڈرون، بھاری بیریکیڈنگ اور وجرا نامی ربر بلٹ گاڑی تک صرف مسلم احتجاجیوں کی سمت لگائی گئی، جسے عوام امتیازی رویہ قرار دے رہی ہے.اطلاعات کے مطابق اس تشدد میں مقامی کڈپہ کے ہندو بھائیوں کی تعداد نہایت کم تھی، جبکہ بدویل، چننور اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے شرپسند افراد زیادہ سرگرم دکھائی دیے.
پتھراؤ اور حملوں میں ملوث افراد کو قابو میں لینے کے بجائے پولیس کی جانب سے مسلمانوں پر لاٹھی چارج کرنا نہایت افسوسناک عمل قرار دیا جا رہا ہے. پرامن احتجاجیوں پر دو مرتبہ لاٹھی چارج اور ربڑ بلیٹس کا استعمال سخت قابل مذمت ہے. عینی شاہدین کے مطابق شرپسندوں کے پتھراؤ سے کم، جبکہ پولیس کارروائی سے زیادہ مسلمان زخمی ہوئے. مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ اس دوران کمسن بچوں تک کو نہیں بخشا گیا اور مذہبی رہنماؤں، بزرگوں اور نوجوانوں پر بھی بے رحمانہ تشدد کیا گیا. اطلاعات کے مطابق احتجاجی مقام چھوڑ کر جانے والوں کو بھی پولیس نے تقریبا دو کلومیٹر تک بائیکس پر تعاقب کرتے ہوئے مارا پیٹا، جس سے عوام میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی. قانون کے محافظوں کا اس طرح انتقامی انداز اختیار کرنا اور پر امن احتجاج کرنے والوں کو ڈھوند ڈھونڈ کر انہیں حراست میں لیا جانا ہے یہ خوف حراس کی فضاء کو سازگار بنانا انتہائی قابل تشویش اور قابل مذمت ہے.
صبح 10 بجے سے کشیدہ صورتحال برقرار رہنے کے باوجود ضلع ایس پی کا شام تک موقع پر نہ پہنچنا، بعد ازاں لاٹھی چارج کی اجازت دینا، اور اشتعال انگیز غیر قانونی بینروں کو فوری نہ ہٹانا پولیس کے کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے. عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو صورتحال قابو میں رہ سکتی تھی. اسی طرح ضلع مجسٹریٹ کا رات دیر گئے آکر بیان دینا اور مقامی ایم ایل اے کی عدم موجودگی بھی کئی شبہات کو جنم دے رہی ہے.
لہٰذا حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس پورے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، پولیس کی مبینہ یکطرفہ کارروائی کا جائزہ لیا جائے، اور پولیس تشدد سے زخمی ہونے والے بے قصور افراد کو فوری مالی امداد فراہم کرتے ہوئے انصاف کیا جائے.
Comments
Post a Comment