وارثانِ حرف و قلم: شہرِ اورنگ آباد کی ایک درخشاں ادبی و ثقافتی تحریک - تحریر: ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد)


وارثانِ حرف و قلم: شہرِ اورنگ آباد کی ایک درخشاں ادبی و ثقافتی تحریک  -  
 تحریر: ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد)
موبائل: 9325217306  

تہذیبیں صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور پررونق بازاروں سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ قوموں کی اصل شناخت ان کے علم، ادب، فکر، تہذیب اور شعور سے قائم ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں قلم زندہ ہو وہاں فکر زندہ رہتی ہے، اور جہاں فکر باقی ہو وہاں قومیں کبھی مردہ نہیں ہوتیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اہلِ علم اور اہلِ قلم کی قدر کی، وہی دنیا میں عزت، وقار اور سربلندی کے ساتھ زندہ رہیں۔  

شہرِ اورنگ آباد اپنی تاریخی عظمت، تہذیبی وراثت اور علمی روایت کے اعتبار سے ہمیشہ ایک ممتاز مقام رکھتا آیا ہے۔ یہ شہر صرف آثارِ قدیمہ اور تاریخی عمارتوں کی وجہ سے مشہور نہیں بلکہ یہاں کی ادبی فضا، علمی سرگرمیاں اور زبان و ادب سے وابستہ شخصیات بھی اس کی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ اسی ادبی روایت کے تسلسل میں ایک ایسی مؤثر، فعال اور مخلص تنظیم منظرِ عام پر آئی جس نے مختصر مدت میں اہلِ علم و ادب کے درمیان غیر معمولی مقبولیت حاصل کرلی، اور وہ تنظیم ہے: “وارثانِ حرف و قلم”۔

یہ محض ایک ادبی انجمن نہیں بلکہ اردو زبان، مشرقی تہذیب، علمی شعور اور فکری بیداری کی ایک خوبصورت تحریک ہے۔ اس تنظیم کے پسِ پشت وہ درد مند دل ہیں جو اردو زبان کو صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب، شناخت اور فکری وراثت سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے پروگرام محض رسمی اجتماعات نہیں ہوتے بلکہ ان میں ایک مقصد، ایک پیغام اور ایک تہذیبی احساس پوشیدہ ہوتا ہے۔

مشہور قول ہے:  

“قومیں تلوار سے کم اور قلم سے زیادہ فتح کی جاتی ہیں۔”

آج “وارثانِ حرف و قلم” اسی قلم کی حرمت اور اسی فکر کی روشنی کو زندہ رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔  

اس تنظیم کے روحِ رواں محترم خالد سیف الدین صاحب، محمد وصیل صاحب اور معروف صحافی ابوبکر رہبر صاحب ہیں، جنہوں نے اپنی محنت، اخلاص، تنظیمی صلاحیت اور ادب دوستی کے ذریعہ اس ادارے کو ایک باوقار شناخت عطا کی ہے۔ ان حضرات کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ شہرت سے زیادہ خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ خاموشی، سنجیدگی اور سلیقہ مندی کے ساتھ ایسے پروگرام منعقد کرتے ہیں جو نہ صرف علمی معیار رکھتے ہیں بلکہ حاضرین کے دلوں پر بھی گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔

علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:  

“نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے  
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی”

یہ شعر آج “وارثانِ حرف و قلم” کی سرگرمیوں پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ کیونکہ جب مخلص لوگ میدان میں آتے ہیں تو معاشرے کی سوئی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہوجاتی ہیں اور نئی نسل کے دلوں میں علم و ادب کی شمع روشن ہونے لگتی ہے۔

تنظیم کے زیرِ اہتمام مختلف علمی، ادبی اور تہذیبی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ کبھی شعری نشست، کبھی فکری مذاکرہ، کبھی تعزیتی اجتماع، کبھی تہنیتی تقریب، کبھی ادبی مجلس اور کبھی اصلاحی گفتگو۔ ہر پروگرام اپنے حسنِ انتظام، علمی وقار، سنجیدہ ماحول اور شائستہ انداز کے باعث ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر عرصے میں اس تنظیم نے عوام و خواص دونوں کے درمیان اعتماد اور احترام حاصل کرلیا ہے۔

اس ادبی تحریک کی سب سے اہم اور قابلِ تحسین خصوصیت یہ ہے کہ اس نے نئی نسل کو اظہار کا موقع فراہم کیا ہے۔ آج کے نوجوان کو اگر صحیح رہنمائی نہ ملے تو اس کی صلاحیتیں ضائع ہوجاتی ہیں، مگر “وارثانِ حرف و قلم” نوجوان قلمکاروں، ابھرتے ہوئے شعراء، طلبہ اور ادب سے شغف رکھنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کرکے ان کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پلیٹ فارم سے وابستہ کئی نوجوان آج ادبی حلقوں میں اپنی پہچان قائم کررہے ہیں۔

حضرت علیؓ کا قول ہے:  

“اولاد کو اپنے زمانے کے مطابق تربیت دو، کیونکہ وہ تمہارے زمانے کے لیے پیدا نہیں کی گئی۔”

اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تنظیم نئی نسل کو عصری تقاضوں کے ساتھ ادب، تہذیب اور اخلاقی اقدار سے جوڑنے کی کامیاب کوشش کررہی ہے۔  

آج اردو زبان مختلف چیلنجز کا سامنا کررہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں اردو کی کم ہوتی ہوئی حیثیت، نئی نسل کی مادری زبان سے دوری، مطالعہ کے ذوق میں کمی، اور برقی ذرائع کے منفی اثرات اردو کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتے جارہے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر کوئی تنظیم خاموشی کے ساتھ زبان و ادب کی خدمت کررہی ہو تو یقیناً وہ لائقِ تحسین ہے۔

“وارثانِ حرف و قلم” کے پروگرام مختلف اہم مقامات پر منعقد ہوتے ہیں جن میں مولانا آزاد ریسرچ سنٹر، بیت الیتیم شاہی مسجد کا ملک عنبر ہال، مولانا آزاد کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس کا وسیع سیمینار ہال، ڈاکٹر رفیق زکریا کالج فار ویمن نوکھنڈہ کے علاوہ کاشانہ خالدی سے ملحق وسیع وعریض ہال اور دیگر علمی و ادبی مراکز شامل ہیں۔ ان مقامات پر منعقد ہونے والی نشستیں اہلِ ذوق کے لیے علمی غذا، فکری روشنی اور ادبی تسکین کا سامان فراہم کرتی ہیں۔

اردو ادب کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زبانیں صرف نصاب سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ زندہ دل لوگوں کی محبت، محنت اور قربانیوں سے باقی رہتی ہیں۔ سر سید، شبلی، حالی، اکبر، اقبال اور مولانا آزاد جیسے عظیم مفکرین نے اردو کو صرف زبان نہیں سمجھا بلکہ قوم کی تہذیب، فکر اور روح قرار دیا۔ آج “وارثانِ حرف و قلم” انہی روشن روایات کی ایک خوبصورت جھلک محسوس ہوتی ہے۔

ایک دانشور نے کہا تھا:  

“جب معاشرے سے کتاب ختم ہوجاتی ہے تو سوچنے کی صلاحیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔”

یہ تنظیم دراصل اسی سوچ، شعور اور فکری بیداری کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔  

اس تحریک کی ایک اور اہم خوبی اس کا اخلاص اور بے لوث مزاج ہے۔ آج کے دور میں اکثر ادارے شہرت، مفاد اور گروہ بندی کا شکار ہوجاتے ہیں، مگر “وارثانِ حرف و قلم” نے اپنے مزاج میں شائستگی، سنجیدگی، اخلاص اور اتحاد کو برقرار رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف طبقاتِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس کے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں اور اسے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج کے اہلِ ثروت، تعلیمی ادارے، اردو سے محبت کرنے والے افراد اور ملی تنظیمیں ایسی ادبی تحریکوں کی سرپرستی کریں۔ کیونکہ ادب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ قوموں کے اخلاق، تہذیب، فکر اور شعور کی تعمیر کا سب سے مؤثر وسیلہ ہے۔ اگر ادبی محفلیں ختم ہوجائیں تو معاشرے سے برداشت، گفتگو کا حسن، اخلاقی وقار اور فکری سنجیدگی بھی ختم ہوجاتی ہے۔

مولانا ابوالکلام آزادؒ نے فرمایا تھا:  

“زبان کسی قوم کی صرف بولی نہیں ہوتی بلکہ اس کی تاریخ، تہذیب اور روح کی آئینہ دار ہوتی ہے۔”

آج “وارثانِ حرف و قلم” اسی روح کی حفاظت اور اسی تہذیبی چراغ کو روشن رکھنے کا عظیم فریضہ انجام دے رہا ہے۔  

یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ اگر ہندوستان کے ہر شہر میں اس طرز کی مخلص ادبی تنظیمیں قائم ہوجائیں تو اردو زبان و ادب کا مستقبل مزید روشن ہوسکتا ہے۔ کیونکہ زبانیں سرکاری اعلانات سے کم اور مخلص لوگوں کی جدوجہد سے زیادہ زندہ رہتی ہیں۔

آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ “وارثانِ حرف و قلم” واقعی اپنے نام کی سچی تعبیر ہے۔ یہ لوگ حرف کی حرمت، قلم کی عظمت اور ادب کی روشنی کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا عظیم فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ایسے لوگ اور ایسی تنظیمیں حقیقت میں قوموں کا سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کے مشن کو مضبوط بنانا اور ان کے ساتھ تعاون کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اللہ تعالیٰ اس ادبی تحریک کو مزید استحکام، وسعت اور قبولیت عطا فرمائے اور اس سے وابستہ تمام افراد کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔