کیا کوکروج جنتا پارٹی (سی۔جے۔پی) واقعی ایک انقلاب ہے یا صرف سوشل میڈیا کا ابال؟۔ تحریر : تحسینہ ماوینکٹی۔
کیا کوکروج جنتا پارٹی (سی۔جے۔پی) واقعی ایک انقلاب ہے یا صرف سوشل میڈیا کا ابال؟
تحریر: تحسینہ ماوینکٹی۔
بھارت میں سوشل میڈیا کی دنیا ہر روز کسی نہ کسی نئے ٹرینڈ، تحریک یا نعرے کو جنم دیتی ہے۔ کبھی کوئی ہیش ٹیگ عوامی جذبات کی ترجمانی بن جاتا ہے، تو کبھی کوئی مزاحیہ جملہ سیاسی احتجاج کی علامت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں “سی۔جے۔پی” یعنی " کوکروج جنتا پارٹی" بھی اسی نوعیت کی ایک غیر معمولی مگر دلچسپ تحریک کے طور پر سامنے آئی ہے، جس نے خاص طور پر نوجوان نسل، یعنی زین زیڈ کے درمیان غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ بظاہر یہ ایک طنزیہ اور مزاحیہ ٹرینڈ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں موجود غصہ، بے چینی، احساسِ محرومی اور سیاسی و سماجی نظام سے مایوسی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ سارا معاملہ اُس وقت شروع ہوا جب جسٹس سریہ کانت کی جانب سے زین زیڈ نوجوانوں کے متعلق ایک متنازع تبصرہ سامنے آیا۔ ان کے بیان کو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے توہین آمیز اور تحقیر پر مبنی سمجھا۔ اگرچہ بعد میں وضاحت دی گئی کہ ان کی مراد فرضی علم رکھنے والے افراد تھے، لیکن تب تک سوشل میڈیا اپنا فیصلہ سنا چکا تھا۔ “میں بھی کاکروچ ہوں” جیسے جملے دیکھتے ہی دیکھتے احتجاجی نعرے میں بدل گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں "کوکروج جانتا پارٹی" نامی ایک علامتی تحریک نے جنم لیا۔
اس تحریک کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی سیاسی جماعتوں کی طرح کسی دفتر، جھنڈے یا زمینی تنظیم سے نہیں جڑی ہوئی۔ اس کی بنیاد مکمل طور پر ڈیجیٹل دنیا پر قائم ہے۔ انسٹاگرام، ایکس (ٹیوٹر) اور دیگر پلیٹ فارمز پر نوجوانوں نے میمز، ویڈیوز، طنزیہ پوسٹس اور جذباتی تقاریر کے ذریعے اس کو پھیلایا۔ چند ہی دنوں میں اس کے فالوورز کی تعداد حیران کن حد تک بڑھ گئی۔ بہت سے نوجوانوں کو لگا کہ شاید یہی وہ پلیٹ فارم ہے جہاں وہ اپنے غصے، بے روزگاری، پیپر لیک، تعلیمی بدعنوانی اور مستقبل کے خوف کو آواز دے سکتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف سوشل میڈیا پر مقبول ہو جانا کسی تحریک کی کامیابی کی ضمانت ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محض جذباتی نعروں سے انقلاب نہیں آتے۔ انقلاب کے لیے نظریہ، تنظیم، قربانی، مستقل مزاجی اور زمینی جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ ہندوستان جیسے وسیع اور پیچیدہ ملک میں، جہاں سیاسی نظام انتہائی منظم اور طاقتور ہے، وہاں صرف ورچوئل احتجاج کے ذریعے بڑی تبدیلی لانا آسان نہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سی۔جے۔پی۔ کے ساتھ جڑنے والے نوجوانوں کی اکثریت مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس پس منظر سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ نوجوان جو آج تعلیمی بدعنوانی اور سسٹم کے ظلم پر آواز بلند کر رہے ہیں، ان میں سے بہت سوں کی خاموشی اُس وقت نمایاں تھی جب دلتوں پر ظلم ہو رہا تھا، آدی واسیوں کے گاؤں جلائے جا رہے تھے، کسان سڑکوں پر مارے جا رہے تھے، یا مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چل رہے تھے۔ اس لیے کچھ ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ تحریک واقعی سب کے انصاف کی بات کرتی ہے یا صرف اُس وقت جاگی جب نظام کی سختی خود ان کے دروازے تک پہنچی؟
سی۔جے۔پی۔ کے حامی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر تحریک کسی نہ کسی مرحلے پر شروع ہوتی ہے، اور اگر آج نوجوان اپنے حق کے لیے بیدار ہو رہے ہیں تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک “میم پارٹی” نہیں بلکہ نوجوان نسل کے اجتماعی غصے اور مایوسی کا اظہار ہے۔ وہ تعلیمی نظام میں شفافیت، امتحانی بدعنوانی کے خاتمے، میرٹ کی بحالی اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے مطالبات پیش کر رہے ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس تحریک کو وہ میڈیا بھی کوریج دے رہا ہے جو ماضی میں کئی عوامی تحریکوں کو نظر انداز کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اس کے پیچھے پوشیدہ سیاسی مفادات یا طاقتور حلقوں کی دلچسپی کا شبہ ظاہر کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعی ایک عوامی بغاوت ہے تو اسے اس قدر نرم انداز میں کیوں دکھایا جا رہا ہے؟ جبکہ دوسری عوامی تحریکوں کو اکثر “اینٹی نیشنل” یا “خطرناک” قرار دے دیا جاتا ہے۔
سی۔جے۔پی۔ کے بانیوں کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ عملی سیاست میں قدم نہیں رکھیں گے، اس تحریک کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اگر سیاست میں آنا مقصد نہیں، تو پھر منشور، تنظیم، اور عوامی مہمات کا مطلب کیا رہ جاتا ہے؟ کیا یہ سب صرف وقتی غصے کا اظہار ہے؟ یا پھر نوجوان نسل روایتی سیاست سے اتنی بدظن ہو چکی ہے کہ وہ صرف علامتی مزاحمت کو ہی کافی سمجھنے لگی ہے؟
حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ یہ ممکن ہے کہ سی۔جے۔پی۔ چند ہفتوں بعد ایک بھولا بسرا ٹرینڈ بن جائے، جیسا کہ سوشل میڈیا کی بیشتر تحریکوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہی چھوٹی چنگاری نوجوانوں کے اندر سیاسی شعور، سوال اٹھانے کی جرات اور اجتماعی آواز پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے۔
آج کا نوجوان صرف نوکری نہیں مانگ رہا، وہ عزت، شفافیت اور مستقبل کی ضمانت بھی مانگ رہا ہے۔ اگر ریاست، سیاست اور ادارے اس بے چینی کو سمجھنے میں ناکام رہے، تو کل یہی طنزیہ “کاکروچ” کسی بڑے سماجی طوفان کی علامت بھی بن سکتے ہیں۔
فی الحال سی۔جے۔پی۔ ایک سوال ہے، جواب نہیں۔ ایک شور ہے، مکمل نظریہ نہیں۔ ایک احتجاج ہے، منظم انقلاب نہیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ اس نے نوجوان نسل کے اندر موجود اضطراب، غصے اور بے اعتمادی کو پوری شدت کے ساتھ دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
شاید یہی شعر اس پورے منظرنامے کی سب سے بہتر ترجمانی کرتا ہے۔
Comments
Post a Comment