ٔنشہ شراب میں ہوتاتوناچتی بوتل۔۔ ازقلم : مسرورتمنا۔
ٔنشہ شراب میں ہوتاتوناچتی بوتل۔
ازقلم : مسرورتمنا۔
کملا نے پوچھا لگاتے ہوے کہا
میڈم آج بھی آپ کے کمرے سے
سگریٹ کے بےشمار ٹکڑے شراب کی خالی بوتل تندوری چکن کے
ٹکڑے ملے ہیں
آشا نے اسکی طرف دیکھا
اس میں میں کیا کرسکتی ہوں کملا میری نائیٹ ڈیوٹی ہے
نوین گھر پر ہوتے ہیں بلاتے ہونگے یار دوستوں کو
مگر میڈم آج تو مجھے دو ہی گلاس ملے ہیں اور یہ لپ اسٹک
جو کملا نے چھپا لیا تھا دکھاتے ہوے بولی ایک پینڈین بھی ملا
دکھاو کملا کہیں میرا ہی ہوا تو
لو.میڈم دیکھو آپکا بلکل بھی نہیں دس سال سے آپکے گھر میں کام کرتی ہوں جب تو میری شادی بھی نہیں ہوی تھی
اسکی مسکراھٹ بڑی گہری تھی
آشا نے ان چیزوں کو ٹیبل پر رکھدیا وہ گہری سوچ میں ڈوب گئ بچوں کا مستقبل بنانے کے لیے تو وہ جاب کر رہی تھی
ہاسٹل اور پڑھای کے علاوہ انکے اور بھی خرچے ھوتے ہیں
جو وہ خوشی سے کررہی تھی
نوین بھی دل کھول کر خرچ کرتا اسے بچوں کی بلکل پرواہ نہ تھی بس آشا کو اےٹیایم مشین سمجھتا
مگر اب دھیرے دھیرے کملا کے کہنے پر وہ غور کررہی تھی
اسی طرح چلتا رہا تو وہ اپنے بچوں کا شاندار مستقبل برباد کر دے گی نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا
آج وہ جلدی جلدی میں اپنا فون بھول آی تھی اسلیے وہ آدھے راستے گھر لوٹ ای نوین ابھی نہیں آیا تھا
اسے واپس جانے کا دل نہیں تھا
اسلیے وہ اپنے لیے چایے بنا کر
لے آی اسے پیتے ہی دماغ جیسے شانت ہوگیا
وہ مسکرای ابھی وہ کھل کر خوش بھی نہیں ہو پای تھی کے نوین لاک کھول کر کسی کے ساتھ اندر آگیا
دیبا میں نے کہا تھا نا وہ افس گی ہے تم تو خواہ مخواہ ڈر رہی ہو ارے بھئ وہ ہمارا کیا کر لے گی کھلم کھلا پیار کرینگے ہم دونوں اس دنیا
سے نہیں ڈرینگے ہم دونوں
دیبا کھل کھلا کر بیڈ روم میں
آی آشا اپنے بستر پر آرام کر رہی تھی نوین بوکھلایا
آشا تم جاب پر نہیں گئ
میں نے جاب چھوڑدی اس نے دیبا کو گھورا تھا اور
پرسکون لہجے میں بولی
مگر خرچ وہ بوکھلایا
کیوں یہ جو کٹ پتلی ہے یہ تمہارا خرچ نہیں اٹھاے گی
آشا وہ کچھ اور بھی کہتا
دیبا باہر جانے لگی
نوین اب ھم نہیں مل سکتے تم
میرا انتظار مت کرنا
نوین کا سارا نشہ اتر گیا
بیوی کی کمائ پر عیش کرنے کا نشہ اس نے سامنے رکھی شراپ کی بوتل کی طرف دیکھا
اور سوچ میں پڑگیا
نشہ شراب میں ہوتا تو
ناچتی بوتل
Comments
Post a Comment