دادیال، نانیال اور بچوں کی نفسیات : ایک سماجی و نفسیاتی مطالعہ۔ ۔از قلم: محمود علی، لیکچرر۔
دادیال، نانیال اور بچوں کی نفسیات : ایک سماجی و نفسیاتی مطالعہ۔
از قلم: محمود علی، لیکچرر۔
ہمارا مشرقی معاشرہ رشتوں، روایتوں اور خاندانی نظام پر قائم ہے۔ یہاں خاندان صرف خون کا تعلق نہیں بلکہ جذبات، ذمہ داریوں، قربانیوں اور تہذیبی اقدار کا ایک مسلسل سفر ہے۔ بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو صرف ماں باپ ہی نہیں بلکہ پورا خاندان اس کی تربیت اور شخصیت سازی میں شریک ہوجاتا ہے۔ دادا دادی، نانا نانی، چچا، خالہ اور دیگر رشتہ دار سب مل کر ایک ایسا جذباتی حصار بناتے ہیں جس میں بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہی مشترکہ خاندانی نظام برصغیر کی اصل خوبصورتی سمجھا جاتا ہے۔
مگر جدید دور میں خاندان کے اندر بعض ایسے خاموش رویّے جنم لے رہے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے اثرات نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ انہی میں ایک حساس مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض گھروں میں دادا دادی اپنی بیٹیوں کے بچوں کو زیادہ اہمیت اور محبت دیتے ہیں جبکہ بیٹوں کے بچوں کے ساتھ وہی اپنائیت نظر نہیں آتی۔ یہ فرق اکثر شعوری کم اور لاشعوری زیادہ ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔
اسی پس منظر میں بعض بہوؤں کے دل سے یہ جملہ نکلتا ہے:
اگر بیٹیوں کے بچے آپ کے ہیں، تو بیٹوں کے بچے کس کے ہیں؟”
یہ سوال صرف ایک عورت کا شکوہ نہیں بلکہ ہمارے بدلتے ہوئے خاندانی نظام کا آئینہ ہے۔
رشتوں کی نفسیات اور معاشرتی حقیقت
ہمارے معاشرے میں بیٹی کو ہمیشہ “اپنا خون” سمجھا جاتا ہے۔ شادی کے بعد بھی ماں باپ کی جذباتی وابستگی بیٹی کے ساتھ بہت مضبوط رہتی ہے۔ بیٹی اپنی ماں سے دل کی باتیں کرتی ہے، دکھ سکھ بانٹتی ہے، بار بار میکے آتی ہے، اس لیے اس کے بچے بھی نانا نانی یا دادا دادی کے قریب رہتے ہیں۔ دوسری طرف بہو چونکہ دوسرے گھر سے آتی ہے، اس لیے بعض گھروں میں اسے مکمل قبولیت نہیں ملتی۔ یہی فاصلہ آہستہ آہستہ اس کی اولاد تک بھی منتقل ہوجاتا ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پوتا پوتی بھی اسی خاندان کی نسل، خون اور نام کا تسلسل ہوتے ہیں، مگر بعض اوقات رویّوں میں یہ فرق دکھائی دیتا ہے:
نواسوں کے لیے تحفے، نرمی اور خصوصی توجہ
جبکہ پوتوں کے لیے سختی، تنقید یا بے توجہی
یہ فرق بچوں کے معصوم ذہنوں میں خاموش سوال پیدا کرتا ہے
کیا ہم واقعی اس گھر کے اپنے نہیں؟”
بہو “غیر” اور اس کی اولاد؟
ہمارے سماج میں ایک پرانا تصور یہ بھی موجود ہے کہ “بہو غیر ہوتی ہے”۔ یہ جملہ بظاہر ایک روایت لگتا ہے مگر اس کے اثرات بہت خطرناک ہیں۔ جب ایک عورت کو برسوں بعد بھی “اپنا” نہ سمجھا جائے تو اس کے بچے بھی لاشعوری طور پر فاصلے محسوس کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ وہی بہو خاندان کی نسل کو آگے بڑھا رہی ہوتی ہے، اسی گھر کی خدمت کرتی ہے اور اسی خاندان کے بچوں کی پرورش کرتی ہے۔
اگر بہو کو دل سے قبول نہ کیا جائے تو گھر میں ایک غیر مرئی تقسیم پیدا ہوجاتی ہے
ایک طرف “اپنے”
دوسری طرف “صرف بہو کے بچے”
یہ تقسیم لفظوں سے زیادہ رویّوں میں نظر آتی ہے، اور یہی رویّے گھروں میں خاموش طوفان پیدا کرتے ہیں۔
بچوں کی نفسیات پر اثرات
بچے بہت حساس ہوتے ہیں۔ وہ لفظوں سے زیادہ انداز، ترجیحات اور لہجوں کو محسوس کرتے ہیں۔ اگر ایک ہی گھر میں نواسوں اور پوتوں کے ساتھ مختلف سلوک ہو تو بچوں کے اندر احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ وہ یا تو خاموش اور اندر سے ٹوٹے ہوئے ہوجاتے ہیں یا ضدی، چڑچڑے اور باغی مزاج اختیار کرلیتے ہیں۔
ایسے ماحول میں
بہو دل سے دور ہوجاتی ہے
بیٹا ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے
بچوں میں خاندان سے جذباتی وابستگی کم ہوجاتی ہے
گھر ایک چھت تو رہتا ہے مگر خاندان نہیں رہتا
یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے مشترکہ خاندان اندر سے ٹوٹ رہے ہیں، حالانکہ دیواریں اب بھی ایک ہی ہیں۔
محرومی اور خود انحصاری
زندگی کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ بعض بچوں کو نہ دادیال کی قربت نصیب ہوتی ہے اور نہ نانیال کی توجہ۔ ایسے بچے شروع ہی سے زندگی کو اپنے بل بوتے پر جینا سیکھ لیتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں خود انحصاری، سخت مزاجی اور ایک “ڈیشنگ” انداز پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ دوسروں پر کم بھروسہ کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ عملی زندگی میں زیادہ مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔ گویا محرومی کبھی کبھی انسان کے اندر ایک الگ قوت پیدا کردیتی ہے۔
تاہم ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار بھی ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ حد سے زیادہ توجہ اور غیر متوازن محبت بچوں کو جذباتی طور پر کمزور بنادیتی ہے۔ وہ معمولی ناکامی یا تنقید برداشت نہیں کرپاتے۔ اس کے برعکس جن بچوں نے کچھ محرومیاں دیکھی ہوں، وہ زندگی کے اتار چڑھاؤ کو زیادہ حوصلے سے برداشت کرتے ہیں۔ اسی لیے تربیت میں محبت کے ساتھ اعتدال بھی ضروری ہے۔
حسن و صورت کی بنیاد پر امتیاز
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض خاندانوں میں بچوں کے ساتھ حسن و صورت کی بنیاد پر رویہ بدلا جاتا ہے۔ جو بچے زیادہ خوبصورت، ذہین یا شوخ ہوتے ہیں، وہ سب کی توجہ اور محبت حاصل کرلیتے ہیں جبکہ عام شکل و صورت یا خاموش طبیعت والے بچے نظرانداز ہوجاتے ہیں۔ اس امتیازی رویّے سے بچوں کے دل میں احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے۔ وہ خاموشی سے خود کو دوسروں سے کم سمجھنے لگتے ہیں۔
مگر فطرت کا عجیب اصول یہ ہے کہ یہی بچے آگے چل کر زیادہ محنتی، سنجیدہ اور کامیاب ثابت ہوتے ہیں کیونکہ محرومی انہیں اندر سے مضبوط بنادیتی ہے۔
بزرگوں کی محبت میں توازن کیوں ضروری ہے؟
اسلام اور مشرقی اقدار دونوں انصاف، رحم اور صلہ رحمی کی تعلیم دیتے ہیں۔ بزرگ اگر اپنی محبت میں توازن رکھیں تو گھر جنت بن سکتا ہے۔ دادا دادی صرف ایک فرد نہیں بلکہ خاندان کی اخلاقی بنیاد ہوتے ہیں۔ ان کے ایک جملے سے دل جڑ بھی سکتے ہیں اور ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔
اگر وہ:
بہو کو بیٹی جیسا احترام دیں
پوتوں کو اپنی نسل سمجھیں
نواسوں اور پوتوں میں فرق نہ کریں
تو گھر محبت کا مرکز بن جاتا ہے۔
جدید دور اور خاندانی فاصلے
آج کے دور میں پہلے ہی نسلوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ موبائل فون، مصروفیات، الگ رہائش، معاشی دباؤ اور خود غرض طرزِ زندگی نے رشتوں کی گرمی کم کردی ہے۔ ایسے وقت میں اگر خاندان کے اندر بھی ترجیحات کی دیوار کھڑی ہوجائے تو تعلقات مزید کمزور ہوجاتے ہیں۔
بعض بزرگ انجانے میں صرف بیٹی کے بچوں کے گرد اپنی محبت کا دائرہ بنا لیتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ قریب رہتے ہیں یا بیٹی زیادہ اظہار کرتی ہے۔ مگر انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خاموش رہنے والے پوتے پوتیاں بھی محبت کے اتنے ہی حق دار ہیں۔
اصل مسئلہ محبت نہیں، احساسِ تفریق ہے
یہ ضروری نہیں کہ دادا دادی واقعی کم محبت کرتے ہوں، لیکن اگر ان کے رویّوں سے فرق محسوس ہو تو یہی احساس گھر کے ماحول کو خراب کردیتا ہے۔ مسئلہ محبت کی مقدار نہیں بلکہ انصاف کے احساس کا ہے۔
ایک بچے کو شاید مہنگا تحفہ یاد نہ رہے، مگر یہ ضرور یاد رہتا ہے کہ
دادا نے مجھے گلے لگایا یا نہیں”
“دادی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا یا نہیں”
“میرے اور دوسرے بچوں میں فرق کیا گیا یا نہیں”
حل کیا ہے؟
اس مسئلے کا حل الزام نہیں بلکہ شعور ہے۔
بزرگوں کے لیے
بہو کو صرف “بیٹے کی بیوی” نہیں بلکہ خاندان کا حصہ سمجھیں۔
پوتوں اور نواسوں میں ظاہری فرق نہ آنے دیں۔
محبت کے اظہار میں توازن رکھیں۔
بہوؤں کے لیے
ہر رویّے کو دشمنی نہ سمجھیں۔
بزرگوں کے مزاج اور نسل کے فرق کو بھی سمجھیں۔
بیٹوں کے لیے
ماں باپ اور بیوی کے درمیان انصاف اور حکمت سے تعلق قائم رکھیں۔
اپنے بچوں کے جذبات کو نظرانداز نہ کریں۔
دادی دادا کے لیے بیٹوں کے بچے غیر نہیں ہوتے۔ وہی ان کے نام، نسل اور خاندان کا تسلسل ہوتے ہیں۔ اگر کہیں فاصلے پیدا ہورہے ہیں تو اس کی وجہ خون کا رشتہ نہیں بلکہ معاشرتی رویّے، نفسیاتی دوریاں اور غیر متوازن محبت ہے۔
گھر صرف اینٹوں سے نہیں بنتا، انصاف، اپنائیت اور برابر کے احساس سے بنتا ہے۔ اگر ایک پوتا یہ محسوس کرنے لگے کہ وہ اپنے ہی دادا دادی کے گھر میں “کم اپنا” ہے، تو یہ صرف ایک بچے کا دکھ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی خاموش شکست ہے۔
صداقت ہے اگر شامل تو اک قطرہ ہے اک دریا
بناوٹ کے سمندر میں تو بس پانی ہی پانی ہے
جہاں سچ بولنے والے ہوں بستے امن سے
وہاں نفرت کا ہر اک نقش مٹ جانی ہے۔
Comments
Post a Comment