امن، انصاف اور مذہبی احترام — وقت کی سب سے بڑی ضرورت۔ - سید فاروق احمد قادری۔
امن، انصاف اور مذہبی احترام — وقت کی سب سے بڑی ضرورت۔ - سید فاروق احمد قادری۔
بھوپال سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں جو واقعات سامنے آ رہے ہیں، وہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ملک کے آئین، بھائی چارے اور مذہبی احترام پر حملہ ہیں۔ اگر کسی بے قصور نوجوان کو مارتے ہوئے یہ کہا جائے کہ
“اب دیکھتے ہیں تمہارا اللہ تمہیں کیسے بچاتا ہے”
تو یہ صرف تشدد نہیں بلکہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی انتہائی خطرناک ذہنیت ہے۔
اللہ ہو یا بھگوان — دونوں نام اسی ایک ربِ کائنات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس نے پوری دنیا بنائی۔ مذاہب انسانیت، محبت اور امن کا درس دیتے ہیں، نہ کہ نفرت، گالی اور کمزوروں پر حملہ کرنے کا۔ کسی کے عقیدے کا مذاق اڑانا، مذہب کے خلاف زبان استعمال کرنا یا خوف پیدا کرنا نہ انسانیت ہے اور نہ ہی ہندوستانی تہذیب۔
افسوس اس بات کا ہے کہ کچھ شدت پسند عناصر مذہب کے نام پر غنڈہ گردی کر کے سماج کو بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی اکیلے نوجوان کو گھیر لینا، کبھی ہوٹلوں میں جا کر دبدبہ دکھانا، کبھی بازاروں میں مارپیٹ کرنا — یہ کون سا دیش بھکتی کا راستہ ہے؟ ہندوستان کی طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، محبت اور اتحاد میں ہے، نہ کہ نفرت کے نعروں میں۔
مسلمان ہمیشہ امن چاہتا ہے۔ وہ فساد نہیں، انصاف مانگتا ہے۔ اسی لیے آج ضرورت جذباتی ردعمل کی نہیں بلکہ مضبوط جمہوری جدوجہد کی ہے۔ ہر ضلع، ہر تعلقہ اور ہر شہر میں نوجوان، علماء اور سماجی کارکنان مل کر پرامن طریقے سے انتظامیہ کو میمورنڈم پیش کریں، امن کمیٹیاں قائم کریں اور واضح پیغام دیں کہ:
“ہم آئین پر یقین رکھتے ہیں، مگر ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے۔”
جمعہ کے اجتماعات میں بھی عوام کو اتحاد، صبر اور قانونی راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی جائے۔ کیونکہ اگر آج مذہب کے نام پر نفرت پھیلائی گئی اور خاموشی اختیار کی گئی، تو کل اس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا۔
یہ ملک سب کا ہے۔ یہاں اللہ کہنے والے بھی رہیں گے، بھگوان کہنے والے بھی رہیں گے — اور سب کو عزت کے ساتھ رہنے کا حق ہے۔ یہی ہندوستان کی اصل روح ہے۔
نعرے:
“نفرت نہیں، محبت چاہیے”
“مذہب کا احترام — ملک کا احترام”
“آئین بچاؤ، بھائی چارہ بڑھاؤ”
Comments
Post a Comment