موبائل کا استعمال — جدید دور کی ضرورت یا خاموش تباہی؟ تحریر: محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر، لاتور
موبائل کا استعمال — جدید دور کی ضرورت یا خاموش تباہی؟
تحریر: محمد مسلم بن محمد ایوب کبیر، لاتور
موجودہ دور کو اگر “موبائل اور انٹرنیٹ کا دور” کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آج موبائل فون انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ تعلیم، تجارت، معلومات، رابطہ اور تفریح — ہر شعبۂ زندگی میں موبائل نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔ چند لمحوں میں دنیا بھر کی خبریں، معلومات اور رابطے انسان کی مٹھی میں آچکے ہیں۔ بلاشبہ موبائل ایک عظیم سہولت ہے، لیکن جب اس کا استعمال حد سے بڑھ جائے تو یہی سہولت ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے۔
آج سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر نوجوان نسل کی سوچ، عادات اور طرزِ زندگی کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز نے انسان کو ایک ایسی مجازی دنیا میں مصروف کر دیا ہے جہاں وقت، شعور اور احساس آہستہ آہستہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ نوجوان گھنٹوں موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، مگر انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ان کی زندگی کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے وقتی شہرت، نمائش اور غیر ضروری مقابلہ بازی کو فروغ دیا ہے، جس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور احساسِ کمتری بڑھ رہی ہے۔
موبائل کے حد سے زیادہ استعمال کا ایک بڑا نقصان مطالعہ کی کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ پہلے لوگ کتابوں، اخبارات اور علمی مجالس سے وابستہ تھے، مگر آج مطالعہ کی جگہ مختصر ویڈیوز اور سطحی معلومات نے لے لی ہے۔ نوجوان نسل گہرے مطالعہ اور تحقیق سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ کتابیں جو انسان کی فکر، علم اور شخصیت کو سنوارتی ہیں، اب الماریوں میں بند ہو کر رہ گئی ہیں۔ نتیجتاً علمی معیار کمزور ہوتا جا رہا ہے اور توجہ و یادداشت میں بھی کمی پیدا ہو رہی ہے۔
اسی طرح موبائل نے راست اور حقیقی رابطوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ پہلے خاندان کے افراد ایک ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرتے، خوشیاں اور غم بانٹتے تھے، مگر آج ہر شخص اپنے موبائل میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ گھروں میں خاموشی بڑھتی جا رہی ہے اور رشتوں میں احساس، محبت اور قربت کم ہوتی جا رہی ہے۔ انسان آن لائن سینکڑوں لوگوں سے جڑا ہوا ہے، لیکن حقیقی زندگی میں تنہائی کا شکار ہے۔ دوستیاں اور تعلقات بھی اب جذبات کے بجائے اسٹیٹس اور لائکس تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
موبائل کے مضر اثرات صرف ذہنی اور سماجی زندگی تک محدود نہیں بلکہ صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مسلسل موبائل استعمال کرنے سے آنکھوں کی کمزوری، سر درد، نیند کی خرابی، گردن اور کمر کا درد عام ہوتا جا رہا ہے۔ رات دیر تک موبائل استعمال کرنے سے دماغی سکون متاثر ہوتا ہے اور انسان ذہنی تھکن کا شکار رہتا ہے۔ بچوں میں جسمانی سرگرمیاں کم ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے موٹاپا، سستی اور مختلف بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسلام ہمیں اعتدال، وقت کی قدر اور مفید زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کے وقت، صحت، علم اور تعلقات کو نقصان پہنچائے، اس سے بچنا ضروری ہے۔ موبائل بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں، بلکہ اس کا غلط اور غیر ضروری استعمال نقصان دہ ہے۔ اگر موبائل کو تعلیم، دین، معلومات اور مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر یہی آلہ انسان کو عبادت، مطالعہ، خاندان اور حقیقی زندگی سے دور کر دے تو پھر یہ تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موبائل کے استعمال میں توازن پیدا کریں۔ سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کے بجائے مطالعہ، عبادت، ورزش، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے اور حقیقی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت پر توجہ دیں اور موبائل کے استعمال کے اوقات متعین کریں۔ نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت کاموں میں استعمال کریں تاکہ ان کا مستقبل روشن اور کامیاب ہو سکے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ موبائل ایک نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ اس کا صحیح استعمال انسان کو ترقی دے سکتا ہے، جبکہ غلط استعمال علم، صحت، وقت اور رشتوں کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ موبائل کو اپنا غلام بنائیں، خود اس کے غلام نہ بنیں۔
Comments
Post a Comment