آللہ بہت سخت الفاظ میں نمازیوں سے مخاطب ہے ۔۔ ازقلم : پروفیسر مختار فرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔


آللہ بہت سخت الفاظ میں نمازیوں سے مخاطب ہے ۔
ازقلم : پروفیسر مختار فرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔

سورۃ الماعون سبھی حضرات جنہوں قرآن پڑھا ہوگا انھوں نے یقیناً پڑھی ہوگی۔ یہ سات آیات پر مشتمل ہے ، ایسی سورۃ ہے ، جو انسانوں کو ایک عجیب انداز میں مخاطب کرتی ہے ، جو قرآن کے عام انداز سے بلکل الگ ہے۔۔
مگر افسوس صد افسوس کہ بہت ہی کم لوگوں نے اس کے معنی پر غور کیا ہوگا ۔ اگر غور کیا ہوگا تو یقیناً آنکھوں میں سے آنسوں نکل جائیں ۔ 
الله نے اکثر آیات میں نمازیوں کے لئے خوشخبری دی ہے مگر یہاں معاملہ دوسرا ہے یہاں، اللہ نے لفظ استعمال کیا فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ نمازیوں پر لعنت ہے ۔ ویل عربی زبان کا نہایت سخت آور دردناک لفظ ہے۔ اس کے معنی صرف"افسوس" یا " خرابی" نہیں بلکہ ، ہلاکت ، تباہی ، سخت عذاب، بربادی، دردناک انجام کے ہوتے ہیں ۔عربی زبان کی وسعت کا اندازہ لگانے کے لئے اس سمندر میں غوطہ لگانے کی ضرورت ہے ۔ ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہوتے ہیں ۔ اقصا طور پر معتبر انداز سے بیس کے قریب، معنی ہوتے ہیں ۔ 
یہ آیت سننے اور اس کے معنی جاننے کے بعد ہم کو خوف زدہ ہونا چاہئے کہ اللہ نمازِ پڑھنے والوں کے لئے آخر اتنے سخت الفاظ میں کیوں سرزنش کررہا ہے ۔ 
آخر نماز پڑھنے والوں سے کیا غلطی ہورہی ہے۔
 
پہلی آیت کہتی ہے۔ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہےدین کے بنیادی معنی ہیں، اطاعت ، فرمانبرداری ، قانون اور نظام زندگی ، حساب و جزا ، بندگی اور مکمل سپردگی ۔۔
لفظ دین عربی زبان کا بہت جامع لفظ ہے، اور قرآن میں مختلف مقامات پر مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے بنیادی معنی صرف “مذہب” نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی، اطاعت، حساب، قانون اور جزا و سزا تک پھیلے ہوئے ہیں۔

اطاعت اور فرمابرداری ، حاکم کے احکامات پورے طور بجا لانا ۔

یعنی کسی اعلیٰ ہستی کے حکم کوپورے طور پر ماننا “اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰهِ الۡاِسۡلَامُ یہاں دین کا مطلب اللہ کے سامنے مکمل اطاعت ہے۔”
مذہب یا نظامِ زندگی۔ایسا طریقہ الحیات جس پر انسان چلتاہے 
مثال:
یعنی تمہارے لیے تمہارا طریقہ، میرے لیے میرا طریقہ۔“لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ”
اس طرح قرآن میں “دین” کا مفہوم صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ:

عقیدہ اخلاق ، قانون ، معاشرت حکومت جواب دہی۔ 

سب کو شامل کرتا ہے۔
پہلی ناراضگی کہ وجہ الله واضح طور پر یہ کہ رہا ہے دیکھو اس شخص کو دیکھو جس نے، قانون خداوندی کو جھٹلایا، نظام قدرت کو رد کر دیا ۔
جو ھدایت جو تعلیمات ہمیں ملیں ان سب سے نظر چرالی ، آدم علیہ السلام کو جب جنت سے پھینک دیا گیا تھا اسی وقت یہ کہا گیا تھا ۔
قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ‎﴿٣٨﴾‏ سورۃ البقرۃ 
ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ، پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو بھی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، نہ ان پر کوئی خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ 
 ہم تو جس دن پیدا ہوئے اس دن ہمارے کان میں اذان دی گئی تھی ، یہ بات اور ہے کہ اس اذان کی نماز نہیں ہوئی ، جب اس آذان کے جواب میں نماز ہوگی تب ہم اس نماز میں شامل نہیں ہوگے۔ مگر جب تک ہم کو نماز کی دعوت دی گئی ، کبھی ہم ہوسکتاہے اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے نماز میں شامل ہوئے ۔
سر اسطرح زمیں پر پٹک کر سجدے کئے جاتے ہیں جیسے قرض ادا کر رہے ہیں ۔
ہم زندگی کو ایسے گزارے چلے گئے 
جیسے کہ کوئی قرض اتارے چلے گئے 
کوئی اس بات پر اعتراض کرے اور کہے کہ اللہ کا کرم و نوازش ہے۔ ہم نے نا دین کو جھٹلا یا نا ہم نے نماز چھوڑی ، نا بابا نا یہ تنبیہ نمازیوں کے لئے ہے۔ یہ لعنت نمازیوں پر ہے، نماز پڑھنے والوں پر لعنت۔ 
آگے بڑھتے ہیں ۔ 
فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ۔ تو یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ یتیم بے سہارا لوگوں کو دھکے دیتا ہے۔ یہ جرم ناقابلِ معافی کے۔ یہ جملہ صرف اسلئے کہا گیا کہ جرم کی سنگینی کو سمجھ لیں ، گر الله نے آپ کو دنیا کی نعمتوں سے نوازا ہے جس پر الله نے واضح طور سے کہا ہے کہ تمہاری دولت تمہاری نہیں ہے بلکہ اس دولت پر تم کو نگراں، خلیفہ بنایا گیا ہے۔ کسٹوڈینٹ بنایا گیا ہے ۔ انسان اصل مالک نہیں ہے بلکہ الله کے دئے ہوئے مال کا نگراں ہے۔ 

 آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ 
ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اُن چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ ایسی کئی مثالیں قرآن میں بار بار دی گئی ہیں ۔
آگے بڑھتے ہیں ۔ فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ۔ نمازیوں پر الله کا غضب ہو۔ الذین ھم عن صلاتھم ساھون۔
وہ نمازی جو نماز میں غفلت برتتے ہیں، یعنی نماز اسطرح پڑھتے ہیں جیسے قرض اداء کررہے ہوں ۔ جو نماز کی روح سے ناواقف ہیں ، وہ نہیں جانتے کہ وہ الله کے روبرو کھڑے ہو کر کوئی وعدہ وعید کر رہے ہیں ۔ ایاک نعبدو ، و ایاک نستعین، ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور صرف تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں۔مگر سلام پھیرتے ہی یا غوث مدد کانعرہ لگاتے ہیں ۔ اللہ بھی آپنی مخلوق کے بارے میں سوچتا ہوگا کہ ابھی تویہ کہہ رہا تھا ، میں تو صرف تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں 
‏ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ﴿٦﴾‏۔ وہ صرف دیکھاوا کرتے ہیں ۔ یہ سخت الفاظ میرے آپنے نہیں ہیں ، میں نے صرف لفظی ترجمہ کیا ہے ۔ اگر یہی الفاظ میں کسی نمازی سے کہوں تو بدمزگی پیدا ہو جائے گی ۔ بمبئی کی زبان میں میرے الفاظ پر کہا جائے گا ، بہت زیادہ شانہ نا بن۔ آدمی نماز پڑھتا ہے اس پربھی طنز کستے ہو لفظوں پر غور کریں اور سوچیں کہ آخر کیا بات ہے کہ نمازیوں پر اللہ کا غصہ کیوں ۔  
اچھے کاموں کا دیکھاوا بھی منع ہے ، ایک کلو راشن غریب کو دیتے ہوئے اس کے تصویر لے کر اس کے غربت کا مذاق اڑاتے ہیں اور اخبارات میں شائع کرکے اپنا اہمیت عوام کے سامنے بڑھاتے ہیں اپنے گروپ میں یہ تصاویر یہ پروپنگنڈہ کیا اسلام کے تعلیمات کے موقف ہے؟ ۔ 
رسول اللہ ﷺ نے ریاکاری کے بارے میں فرمایا:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الأَصْغَرُ»
صحابہؓ نے پوچھا: یا رسول اللہ! شرکِ اصغر کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
«الرِّيَاءُ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فِي الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً»
“مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خوف شرکِ اصغر کا ہے۔” پوچھا گیا: شرکِ اصغر کیا ہے؟ فرمایا: “ریاکاری۔ اللہ قیامت کے دن فرمائے گا: جاؤ ان لوگوں کے پاس جنہیں دکھانے کے لیے تم عمل کرتے تھے، دیکھو کیا ان کے پاس تمہارے لیے کوئی اجر ہے؟”
حوالہ: مسند احمد، حدیث نمبر 230630۔ 
اور آگے بڑھتے ہیں ۔ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ 
غضب کو ان نمازیوں پر جومحتاج نادار ضرورت مند ، لوگوں کو معمولی ضروریات کی چیزوں کو بھی مانگنے پر غصہ اور غضب ناک ہوتے ہیں دھتکارتے ہیں ، اور انہیں بھگا دیتے ہیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔